BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 December, 2003, 09:33 GMT 14:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیار کیا کوئی چوری نہیں کی

ولی کے بغیر شادی کرنے پر پولیس حد کے تحت مقدمہ درج کر لیتی
ولی کے بغیر شادی کرنے پر پولیس حد کے تحت مقدمہ درج کر لیتی ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایک بینچ نےسوموار کو ہے کہا کہ عورت اگر ملک کی وزیراعظم بن سکتی ہے ، میجر جنرل کے عہدے پر فا‏ئز ھو سکتی ہے اور ہوائی جہاز چلا سکتی ہے تو پھر اپنی مرضی سے شادی کیوں نہیں کر سکتی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ‏آج ایک ایسے فیصلے کی سماعت مکمل کی جو کافی عرصے سے زیرِ التوا تھا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر احتجاج کر رہی تھیں۔

سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے دو متضاد فیصلوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو وہ کچھ عرصے بعد سنائے گی۔

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے دو متضاد فیصلوں میں سے ایک میں یہ قرار دیا تھا کہ کوئی مسلمان عورت اپنے ’ولی‘ کی رضامندی کے بغیر شادی نہیں کر سکتی جب کے اسی عدالت میں اپنے دوسرے فیصلے میں کہا کہ مسلمان بالغ عورت شادی تو کر سکتی ہے لیکن اس کو معاشرتی روایات کا خیال کرتے ہوئے شادی اپنے ولی کی مرضی سے کرنی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے ان فیصلوں کے خلاف اپیلوں کو 1997 سے التو میں رکھا ہوا ہے-

ان میں ایک اپیل صائمہ وحید کے والد حافظ عبدالوحید روپڑی اور دوسری فیصل آباد کے ظفر اقبال نے دائر کر رکھی ہے ۔

عبدل وحید روپڑی کے وکیل ریاض الحسن گیلانی نے عدالت میں دلیل دی کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمان جوڑے کی شادی دو شخص کا ملاپ نہیں ہے بلکہ دو خاندانوں کا ملاپ ہے لہذا اس کے لیے ضروری ہے کہ شادی خاندان کے سربراہ کی مرضی سے ہونی چاہیے۔

اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے اس موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شادی صرف دو اشخاص کے درمیان ایک معاہدے کا نام ہے اور اس میں ولی کی رضامندی کا شامل ہونا ضروری نہیں ہے۔

معروف وکیل اور انسانی حقوق کی علم بردار عاصمہ جہانگیر جو اس مقدمے میں ایک فریق بھی ہیں، کے وکیل سید اقبال حیدر نے کہا ہے اگر یہ دلیل مان لی گی کہ کوئی بالغ عورت اپنی مرضی سے اس لیے شادی نہیں کر سکتی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہ روایات نہیں تو پھر ایک دن کوئی عدالت غیرت کے نام پر قتل ، اور قرآن سے جوان عورتوں کی شادی کو بھی جائز قرار دےدے گی کہ چونکہ یہ ہمارے معاشرے میں ایسا ہو رہا ہے اس لیے جائز ہے۔

عاصمہ جہانگیر کے مطابق پاکستان میں ڈھائی سو ایسے جوڑے ھیں جو اپنی مرضی کی شادی کرنے کی پاداش میں جیلوں میں پڑے ہوئے ھیں اگر ان میں سے کچھ باہر آ بھی چکے ہیں تو وہ اکھٹے نہیں رہ سکتے کیونکہ عدالت نے اس مقدمے کو سرد خانے میں ڈال رکھا تھا۔

ولی میں والد ، بھائي ،چچا ، ماموں شامل ھیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس عدالتی فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ یہ عورتوں کے حقوق کے منافی ھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس ملک میں لوگ عورتوں کو جائیداد کے حق سے محروم کرنے کے لیے شادیاں نہیں کرتے وہاں اس کا بھی فائدہ اٹھائیں گے۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پولیس اپنی مرضی سے شادی کرنے والوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے اور لڑکی کے خاندان کے ناراض لوگوں سے مل کر ان کے خلاف " حد " کے تحت مقدمے درج کرتی ہے۔

صائمہ وحید کے باپ نے عاصمہ جہانگیر پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اس کی بیٹی کو اغوا کیا تھا۔

صائمہ وحید نےجو اپنے خاوند کے ساتھ ناروے میں مقیم ہے ، ایک بیان حلفی سپریم کورٹ میں دائر کیا ہے جس میں اس نے عدالت کو بتایا کہ اس کا باپ اس کی شادی ایک عربی شیخ سے کر نا چاھتا تھا۔ جب اس نے انکار کیا اور اپنی مرضی سے ارشد سے شادی کی تو اس کے والد نے ہائي کورٹ کے جج دوستوں کی مدد سے یہ کاروائی کرائی، اور اس کے شوھر کو چھ مہینے تک جیل میں رکھا اور جب وہ وہاں سے باہر نکلا تو اس کو چوری کے مقدمہ میں ملوث کر دیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد