BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 September, 2003, 14:24 GMT 19:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محبت کی منزل دبئی

شائستہ عالمانی
’ہمیں قتل کر کے کسی گمنام جگہ پر دفنا دیا جائےگا‘

موت اور سرداروں کے غضب کے ڈر سے لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں ایک ماہ تک چھپتے چھپتے بالآخر پنوں عاقل کا جوڑا اب اپنی زندگی بچانے کے لئے دبئی روانہ ہوگیا ہے۔ شائستہ عالمانی اور بلخ شیر مہر نے کراچی کے جوڈیشل میجسٹریٹ رحمت اللہ موریو کی عدالت میں پیش ہو کر یہ موقف اختیار کیا کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گذارنا چاہتے ہیں اور ان کی زندگی خطرے میں ہے لہٰذا انہیں عدالتی تحویل سے رہا کیا جائے۔

قومی شاہراہ پر واقع سکھر ضلع کے شہر پنوں عاقل کے رہائشی شائستہ اور بلخ شیر کی شادی کو عالمانی اور مہر قبائل کے لوگوں نےماننےسے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد قتل کئے جانے کے ڈر سے یہ جوڑا زندگی کی تلاش میں نکل پڑا ہے۔

پنوں عاقل کے ایک اسکول میں پڑھانے والی شائستہ عالمانی نے مقامی زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمن بلخ مہر کو پسند کیا۔ شائستہ بتاتی ہیں کہ بلخ شیر کے والدین باقاعدہ میرے والدین سے رشتہ مانگنے آئے تھے۔ پہلے مرحلے میں میرے والدین نے رشتہ دینے سے انکار کردیا لیکن میرے اصرار پر وہ مان گئے اور یوں والدین کی رضامندی سے نکاح ہوا۔

شائستہ کے مطابق ان کے والدین کو خوف سا بیٹھا ہوا تھا کہ قبیلے والے اس شادی کو قبول نہیں کریں گےکیونکہ ’ہمارے عالمانی قبیلے کی کسی لڑکی نے کسی اور قبیلے میں شادی نہیں کی ہے اس لئے اس شادی کو راز میں رکھا جائے‘۔

’جون کی چھبیس تاریخ کو ہم نے پنوں عاقل چھوڑا اور بذریعہ ٹرین لاہور چلے گئے۔ کچھ دن وہاں رہنے کے بعد اسلام آباد چلے گئے اور اخبار میں نکاح کرنے کا اشتہار شائع کروایا۔‘

جب سرداروں کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے شائستہ کو کاری قرار دیا۔ کیونکہ اس نے غیر قبیلے میں اور بھاگ کر شادی کی ہے۔ عالمانی قبیلے کے بلوچ اور مہر قبیلے کے سماٹ ہونے کی وجہ سے دونوں قبائل کے لئے وقار کا مسئلہ بن گیا۔

بلخ شیر مہر
کوئی مہر نہیں

کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلی سندھ کے بھائی سردار علی گوھر نے، جو کہ گھوٹکی کے ضلع ناظم بھی ہیں، اپنی مہر برادری کے معززین کا اجلاس طلب کیا اور ان کو ہدایت کی کہ وہ عالمانی قبیلے کو راضی کریں کہ وہ کوئی انتہائی قدم نہ اٹھائیں لڑکی ان کو واپس کردی جائے گی۔

اس اجلاس کے دوسرے دن ہی سرداروں کے لوگوں نے شائستہ اور بلخ کو کراچی میں ڈھونڈ لیا اور ایک گھر میں گھس کر شائستہ کو کمرے میں بند کردیا۔ بلخ شیر کو باہر نکال دیا گیا۔ اس دوران اس نے پولیس کو فون کیا اور گھر کے باہر لوگوں کو مدد کے لئے پکارتا رہا۔ شائستہ کے مطابق پولیس نے پہنچ کر دونوں کو بچالیا ورنہ وہ انہیں پنوں عاقل لے جاتے۔

اگلے روز شائستہ اور بلخ شیر کو جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مرضی سے شادی کی ہے- انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ واپس والدین کے پاس نہیں جانا چاہتے کیونکہ سردار یا والدین انہیں قتل کردیں گے۔ عدالت نے انہیں پولیس کی حفاظت میں ایدھی ہوم بھیجنے کی ہدایت کی۔

عدالت میں شائستہ کے اس بیان کو بھی سرداروں نے قبائلی رسم و رواج کے خلاف قرار دیا۔ شر قبیلے کے سردار احمد یار شر کا کہنا تھا کہ مہروں نے لڑکی عالمانی قبیلے کے حوالے کرنے کے بجائے عدالت میں پیش کر کے قبائلی رسم و رواج کو توڑا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر اعلی کے بھائی سردار علی گوہر مہر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ لڑکی عالمانی قبیلے کے حوالے کردی جائےگی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

سردار کا فیصلہ

 اسے قتل نہیں کیا جائےگا بلکہ کسی سردار کے پاس امانت کے طور پر رکھا جائے گا اور بعد میں اپنے ہی قبیلے کے کسی شخص سے شادی کردی جائے گی

سردار احمد علی شر

عالمانی قبیلے کے سردار اجمل عالمانی کا کہنا تھا کہ مہروں نے حکومت کے زور پر ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردار علی گوہر لڑکی واپس لوٹانے کے وعدے سے مکر گئے ہیں۔

قبائلی حوالے سے صورتحال تب سنگین ہوگئی جب اکیس ستمبر کو گھوٹکی اور سکھر کے بلوچ قبائل کی میٹنگ ہوئی جس میں مہر سردار کو دو دن کے اندر لڑکی واپس کرنے کا الٹی میٹم دیا گیا۔ سردار احمد علی شر نےسردار علی گوہر مہر کو اس الٹی میٹم سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بلوچ اور سماٹ برادری میں جھگڑا ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی خونریزی کے ذمہ دار مہر ہونگے-

شر سردار نے شائستہ کی قسمت کےفیصلہ کا بھی اعلان کیا کہ اسے قتل نہیں کیا جائےگا بلکہ کسی سردار کے پاس امانت کے طور پر رکھا جائے گا اور بعد میں اپنے ہی قبیلے کے کسی شخص سے شادی کردی جائے گی۔

نوبت یہاں تک پہنچی کہ وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر کو بھی یہ کہنا پڑا کہ نئے جوڑے نے پسند کی شادی کرکے نادانی کی ہے اور اس کی سزا معززین کو مل رہی ہے۔

قبائلی اثر والے علاقوں میں سردار سفید و سیاہ کے مالک ہیں - سیاسی اور معاشی معاملات کے علاوہ لوگوں کی نجی زندگی بھی سرداروں کے رحم و کرم پر ہے۔ اس پورے قصے میں شائستہ کے والدین بالکل ایک طرف رہے اور سارا معاملہ سردار طے کرتے رہے تھے کیونکہ انہوں نے ہی اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہوا تھا۔

جب سارے عزیز رشتہ دار اور حکومت شائستہ اور بلخ شیر کا ساتھ چھوڑ گئے تو عبدالستار ایدھی، نامور کالمسٹ ارد شیر کاؤسجی، انسانی حقوق کے وکیل ضیا اعوان اور عورت فاؤنڈیشن نے ان کا ساتھ دیا اور معاملے کو ملکی سطح پر اجاگر کیا۔ بعد میں ستار ایدھی نے ان کے دبئی جانے کا بندوبست کیا۔

شائستہ کا کہنا تھا اگر ہم واپس اپنے علاقے میں گئے تو ہمیں قتل کردیا جائےگا یہاں تک کہ پاکستان میں بھی کسی جگہ ہمیں تحفظ نہیں مل سکتا۔ ’ہمیں قتل کر کے کسی گمنام جگہ پر دفنا دیا جائےگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم مارے بھی جائیں تو گمنام نہ ہوں ہماری کہانی لوگوں کو یاد رہے-

پچیس ستمبر کو دونوں محبت کرنے والے محبت کی سزا بھگتنے کے لئے جلاوطن ہو گئے ان کی پہلی منزل دبئی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد