| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حجاب پر پابندی کی حمایت
فرانس کے صدر ژاک شیراک نے اس تجویز کی حمایت کردی ہے کہ فرانس کے تعلیمی اداروں میں مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر قانونی پابندی عائد ہونی چاہیے۔ حکومت کی طرف سے قائم کردہ ایک کمیشن کی اس تجویز پر کہ تعلیمی اداروں میں واضح مذہبی پہچان اور علامتوں پر پابندی ہونی چاہیے صدر ژاک شیراک نے کہا کہ وہ کمیشن کی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس تجویز کے تحت یہودیوں کی مخصوص ٹوپی پہنے اور عیسائیوں کے سلیب پہنے پر بھی پابندی عائد ہو گی۔ فرانس کے مذہبی حلقوں نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے تاہم اکثریت نے اس کے حق میں رائے دی ہے۔ ژاک شیراک نے کہا کہ سیکولرازم فرانس میں سب سے کامیاب تصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرازم سماجی امن اور قوم اتحاد کا ایک اہم عنصر ہے جسے ہم کمزور نہیں ہو نے دیں گے۔ فرانس کے صدر نے اس متنازعہ تجویز کو مسترد کر دیا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کو ان کے مذہبی تہواروں پر چھٹیاں دی جانی چاہیں۔ کمیشن نے تجویز دی تھی کہ مسلمانوں کو عید پر اور یہودیوں کو یومِ کپور پر چھٹیاں دی جانی چاہیئں۔ اس کمیشن نے یہ تجویز مرتب کرنے سے پہلے معاشرے کے ہر طبقے اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں اساتذہ ، مذہبی رہنما، سماجی کارکن اور سیاست دان شامل ہیں اس سلسلے میں بات چیت کی۔ یورپ کے تمام ملکوں میں فرانس ایسا ملک ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد تقریباً پچاس لاکھ کے قریب ہے اور ہزاروں طالبات حجاب پہن کر سکول اور کالج جاتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||