| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عدالت میں حجاب نہیں
فرانس کے وزیر انصاف نے ایک مقامی جیوری کی مسلمان خاتون رکن کو سکارف یعنی حجاب پہن کر عدالت میں آنے سے منع کر دیا ہے۔ وزیر انصاف ڈامِنیک پربن نے کہا کہ سکارف پہننا غیر جانب داری کے اصول کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فرانسیسی عدالتوں میں مذہبی عقائد کا کھلے عام مظاہرہ نہیں چاہتے۔ جیوری کی رکن نے سکارف پیرس کے شمال مشرق میں واقع بوبیگنئی میں ایکے مقدمے کے دوران پہنا تھا۔ سیکولرِزم کی پالیسی پر عمل کرنے والی فرانسیسی حکومت میں اس معاملے میں تضادات کی شکار ہے کہ آیا عوامی اداروں میں سکارف پہننے پر پابندی ہو یا نہیں۔ اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا مسلم خواتین کا سکارف پہننا سکولوں، عدالتوں اور حکومتی محکموں میں قابل قبول ہیں کہ نہیں۔ حالیہ مہینوں میں سکول کی کئی طلباء کو سکارف پہننے کی بنا پر سکول سے معطل کر دیا گیا ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً پچاس لاکھ ہے۔ یورپی یونین کے کسی اور ملک میں مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی نہیں ہے۔ وزیر انصاف نے مسلمان خاتون کو عدالت سے خارج کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’انصاف کے نظام میں غیر جانبداری ضروری ہے اور اسی لئے اس طرح کا مظاہرہ قابل قبول نہیں۔‘ اس خاتون نے بوبیگنئی میں جوری کے انتخاب کے روز تو سکارف نہیں پہنا تھا تاہم مقدمے کے پہلے دن عدالت سکارف پہن کر آئی تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||