| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سر ڈھانپنے کی قانونی اجازت
جرمنی کی اعلی ترین عدالت نے ایک مسلمان خاتون ٹیچر (استانی) کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ پڑھاتے ہوئے اپنی جماعت میں سر ڈھانپ ہیں۔ جرمنی میں مقیم افغانستان سے تعلق رکھنے والی اکتیس سالہ فرشتہ لودن کو جرمنی کےصوبے باڈن وڈن برگ میں اس بنیاد پر نوکری دینے سے انکار کر دیا گیا تھا کہ انہوں نے پڑھاتے ہوئے سر ڈھانپے پر اصرار کیا تھا۔ باڈن وڈن برگ کی صوبائی حکومت نے فرشتہ لودن کو نوکری دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ سر ڈھانپنا جرمنی میں آئین کے تحت دی گئی مذہبی غیر جانبداری سے متصادم ہے۔
جرمنی کی اعلی ترین عدالت نے اب تین کے مقابلے میں پانچ ججوں کی اکثریت سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جرمنی میں مروجہ قوانین کے تحت فرشتہ لودن اپنی کلاس میں پڑھاتے وقت سر ڈھانپ کے رکھ سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے اس اکثریتی فیصلے میں یہ بھی کہا کہ جرمنی کی صوبائی حکومتوں کو آئین کے تحت تعلیمی اداروں کو حاصل مذہبی آزادی اور غیر جانبداری میں توازن برقرار رکھنے کے لیے قانون سازی کرنی پڑے گی۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ صوبائی اسمبلیوں کو قانونی جواز مل جائے گا جو انہیں ابھی تک حاصل نہیں تھا۔ بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق فرشتہ لودن وہ واحد خاتون نہیں جن کو سر ڈھانپنے کو وجہ بنا کر تعلیمی اداروں میں نوکری نہ دی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلہ کا اثر بہت سی خواتین پر پڑے گا۔
فرشتہ لودن کو تعلیم کے شعبے میں انیس سو اٹھانونے میں نوکوی دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ جرمنی میں تعلیم کی وزیر نے کہا کہ سر ڈھانپنے کا مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے اور یہ عورتوں کو معاشرے میں الگ رکھنے کا طریقہ ہے۔ اس سال اگست میں ایک عدالت نے ایک بڑے اسٹور کو ایک عورت کو سر ڈھانپنے کی بنیاد پر نوکری سے نکالنے سے روک دیا تھا۔ اسٹور کے مالکان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک ملازم کا سرڈھانپنا ان کے گاہکوں کو ناگوار گذر سکتا ہے اور ان کے بزنس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |