| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’حجاب‘ پر طالبات سکول سے خارج
فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے مضافات میں قائم ایک اسکول سے دو نوعمر طالبات کو اسلامی حجاب (سکارف) پہننے کی پاداش میں اسکول سے نکال دیا گیا ہے۔ دونوں طالبات سولہ سالہ الما لیوی اور ان کی اٹھارہ سالہ بہن لیلیٰ کے خلاف یہ کارروائی جمعے کو رات گئے پیرس کے شمالی قصبے آبرویلیئرز میں واقع ایک ثانوی مدرسے کی مجلس نظم و ضبط (ڈسپلنری بورڈ) کے ایک اجلاس میں ہونے والی رائے شماری کے بعد کی گئی۔ فرانسیسی ٹیلی ویژن کے مطابق دونوں طالبات جو حجاب پہنے تھیں وہ خود نمائی کے لئے پہنا گیا ایک نمائشی حجاب اور محض دکھاوا تھا۔ قومی قواعد و ضوابط کے مطابق تعلیمی اداروں میں مذہبی رسوم و رواج کی پانبدی نہیں کی جانی چاہیئے۔ تاہم مجلس نظم و ضبط (ڈسپلنری بورڈ) کا فیصلہ سنے کے بعد الما لیوی نے کہا ’یہ سب کچھ بہت زیادہ مایوس کن ہے۔ میرا خیال ہے کہ سکول کے حکام نے فیصلہ بہت پہلے ہی کرلیا تھا۔ وہ محض ہمیں ایک مثال بنادینا چاہتے تھے۔‘ گزشتہ ستمبر میں اسکول سے معطل ہونے کے بعد دونوں بہنیں اب گھر پر ہی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ دونوں بہنوں کے وکیل ژیغاغ چولکیاں کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں کو سکول سے نکالے جانے کا فیصلہ ناانصافی پر مبنی ہے اور وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے۔ نسل پرستی کے خلاف جاری فرانسیسی تحریک کے سربراہ مولود عونی کا کہنا ہے یہ فیصلہ ’لادینیت، ذہانت اور مذاکرے کی ایک بدترین شکست ہے۔‘ تاہم سکول کے ایک استاد لوریز کاستیلانی نے فرانسیسی ٹیلی ویژن سے کہا کہ سکول کسی دباؤ کو قبول کرے گا نہ کسی دباؤ کا شکار ہوگا۔ ان کا کہنا ہے ’ہم نے مغربی اور اسلامی پس منظر رکھنے والے کئی طالبات سے بات چیت کی ہے اور ان کا ہم سے یہی کہنا ہے کہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ وہ سکول میں حجاب نہیں چاہتیں۔ یہ طالبات اس سلسلے میں سکول پر مکمل طور پر انحصار کرسکتی ہیں کہ وہ اس سماجی دباؤ کے مزاحمت کرے گا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||