| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حجاب:علامت یا ضرورت
جرمنی کی ایک ریاست نے مسلمان خواتین کے سر ڈھکنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کو صرف عدالتی فیصلے کا انتظار ہے جس کے بعد اس کا راستہ صاف ہو جائے گا۔ جرمنی کی دیگر ریاستیں بھی اسی طرز پر سوچ رہی ہیں۔ اس سے قبل ستمبر میں جرمنی کے سپریم کورٹ نے ایک مسلمان خاتون استانی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے انہیں سر پر سکارف لینے کی اجازت دی تھی۔ توقع ہے کہ اب یہ نیا قانون اگلے سال کے آغاز پر منظور ہوجائے گا۔ یہ قانون مذہبی تعلیم کی کلاسوں کے دوران لاگو نہیں ہوگا تاہم اس کے علاوہ ریاست کے ہر ادارے میں مسلمان خواتین کو اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے سکارف پہننا ترک کرنا ہوگا۔ جبکہ یہودی یا عیسائی علامات پر کوئی پابنددی نہیں لگائی جائے گی۔ تاہم یہ مسئلہ صرف جرمنی تک محدود نہیں ہے بلکہ کئی یورپی ممالک بشمول فرانس، روس، ترکی وغیرہ بھی اس معاملے پر تنازعات کھڑے کر رہے ہیں۔ فرانس حکومت، سکولوں میں مسلمان طالبات کے سر ڈھکنے سے ناخوش تھی۔ اور اسی ناخوشی کا اظہار پیرس میں ایک سکول سے دو مسلمان طالبات کو معطل کرکے کیا گیا۔ سنگاپور میں ایک سکول کی چار مسلمان طالبات کو اس لئے معطل کردیا گیا تھا کہ وہ سکارف پہنتی تھیں۔ یہاں نہ صرف مسلمان طالبات کے سکارف پہننے پر پابندی عائد کی گئی بلکہ وہ خاتون وکیل جو اس مقدمہ میں طالبات کا دفاع کررہی تھیں، ان پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ روس میں خواتین پر زور دیا گیا تھا کہ وہ پاسپورٹ کی تصاویر کے لئے اپنے سکارف اتار دیں۔ ترکی کا قانون بھی اجازت نہیں دیتا کہ خواتین سرکاری عمارتوں یا تقاریب میں سر پر سکارف پہنیں۔ کچھ عرصہ قبل برطانیہ میں ایک سکھ ایسے سرکاری ادارے میں بھرتی ہوا جہاں سر پر ٹوپی پہننا ادارے کی وردی میں شامل تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ سر پر اپنی روایتی پگڑی پہنتا تھا اور اس کے ساتھ ٹوپی پہننا ممکن نہ تھا۔ لیکن ادارے نے اس کا حل ایسے نکالا کہ اسے چھوٹے سائز کی پگڑی کا مشورہ دیا جس کے ساتھ وہ اپنی ٹوپی پہن سکتا تھا۔ یہ تجویز اسے قابلِ قبول لگی کیونکہ اسے اپنی روایات چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ یہاں ایسا اس لئے کیا گیا کیونکہ اس کا پگڑی پہننا عملی طور پر ادارے کے اصول و قوانین کی راہ میں حائل تھا۔ لیکن مسلمان خواتین کا معاملہ مختلف ہے۔ کئی مغربی ممالک میں کسی وجہ کے بغیر مسلمان خواتین کو حجاب ترک کرنے پر یہ کہہ کر مجبور کیا جارہا ہے کہ اس طرح وہ مسلمانوں اور دیگر افراد کے درمیان امتیاز ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن کسی کو اس کی مرضی کے خلاف ایک روایت یا اس کی مذہبی ضرورت ترک کرنے پر مجبور کرنا در اصل خود امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔ سکارف پہننا کسی کی مذہبی ضروریات سے زیادہ ایک سیاسی معاملہ سمجھا جانے لگا ہے۔ حجاب کو مغربی ممالک اسلام میں عورت پر پابندیوں اور ظلم و ستم کی علامت قرار دیتے ہیں یہ سمجھے بغیر کہ کوئی عورت بذاتِ خود اپنی مرضی سے ظلم و ستم کی علامت بننا پسند نہیں کرے گی۔ وہ بھی ایک مغربی ملک میں جہاں اسے ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ دنیا میں ہزاروں خواتین سکارف پہنتی ہیں۔ بلاشبہ کئی کو ایسا کرنے پر مجبور بھی کیا جاتا ہوگا تاہم بے شمار خواتین اپنی مرضی اور خوشی سے سر ڈھکتی ہیں۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں لاکھوں خواتین انسانی حقوق کے مسائل سے دوچار ہیں جن میں سے بیشتر مسلمان ہیں لیکن حجاب کو ان مسائل کی علامت سمجھنا درست نہیں ہے۔ یہ تو مرضی کا معاملہ ہونا چاہئے، خاص طور پر’ آزاد‘ مغربی ممالک میں۔ بظاہر یہ تنازعہ فریقین کے درمیان ایک چھوٹا سا اختلاف معلوم ہوتا ہے تاہم اس کے پیچھے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان نظریاتی اختلاف کی عکاسی ہوتی ہے۔ دونوں کے درمیان ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ خاص کر گیارہ ستمبر کے بعد مسلمانوں اور دیگر دنیا کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں اور سر ڈھکنے یا نہ ڈھکنے کی بحث بھی شاید اسی کا حصہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||