| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
الجزیرہ کی پریزنٹر حجاب میں
الجزیرہ ٹیلی وژن چینل کی مقبول پریزنٹر اور صحافی خدیجہ بن قنہ جب نارنجی حجاب پہنے ٹی وی سکرین پر نمودار ہوئیں تو لوگ حیران رہ گئے اور ٹی وی سٹیشن میں فون پر فون آنے لگے۔ الجزائر سے تعلق رکھنے والی خدیجہ بن قنہ کا کہنا ہے کہ حـاب پہننے کے معاملے میں ان پر انتظامیہ کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔ بلکہ وہ تین سال تک ’شیطان سے لڑتی‘ رہیں اور بالآخر یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ الجریرہ کے بورڈ آف گورنرز کا خیال ہے کہ یہ ذاتی معاملہ ہے اور اس کا ان کے کام سے کوئی تعلق نہیں۔ حجاب میں خدیجہ کا سکرین ٹیسٹ تو دو سال قبل ہوئے تھے تاہم وہ سکرین پر حجاب پہن کر آنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر حجاب پہن کر آنے کی فیصلہ کن گھڑی اس وقت آئی جب وہ شریعت اور زندگی نامی پروگرام میں مصری مبلغ عمر عبدالکافی کا براہ راست انٹرویو کرنے آئیں۔ الجریزہ قطری ٹی وی چینل ہے جس کی نشریات مصنوعی سیارے کے ذریعہ دنیا بھر میں دکھائی جاتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||