| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مسجدِ نسواں
بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں ایک گاؤں کی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک مخصوص مسجد تعمیر کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ جنوبی شہر پدوکوٹئی کےگاؤں پرمبور میں خواتین کے ایک گروپ کی کنوینر شریفا نے کہا کہ مسجد خواتین کے معاملات طے کرنے لئے ایک عدالت کا کام بھی کرے گی۔ شریفا کا کہنا ہے کہ خواتین کو مسجدوں میں عبادت کی اجازت نہیں دی جاتی کیونکہ انہیں مردوں کی توجہ میں خلل تصور کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مرد اپنے ذہن پر قابو نہیں پا سکتے تو یہ انکی اپنی غلطی ہے۔ ان کے خیال میں مقامی مسلم کاؤنسلوں میں عورتوں کے ساتھ بڑی نا انصافی ہوتی ہے، جہاں اکثر فیصلےمردوں کے حق میں ہوتے ہیں کیونکہ خواتین کی نمائندگی نہیں ہوتی۔ اس گروپ کی ایک اور رکن پروین کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد اور جہیز کے لئے ہراسان کئے جانے کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے لیکن کونسل میں، جس کی کارروائی مسجد میں ہوتی ہے، خواتین کو کبھی اپنا موقف پیش کرنے کا موقعہ نہیں دیا جاتا اور یہ کہ فیصلے اکثر ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس گروپ کے مطابق ایک مخصوص مسجد ہی مسئلے کا حل ہے۔ شریفا کا کہنا ہے کہ مقامی کونسل نے مسجد کی تعمیر کے لئے زمین دی ہے۔ خواتین کے اس گروپ کی ایک اور رکن رشیدہ نے کہا کہ وہ خود زیادتیوں کا شکار ہوئی ہیں اور انہیں کئی مرتبہ شکایت کرنے کے بعد بھی انصاف نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرد آسانی سے صرف تین بار ’طلاق‘ کہہ کر طلاق دے سکتا ہے تو خواتین ایسا کیوں نہیں کر سکتیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ گو اسلامی قوانین عورتوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن ان کے حق میں کئی اچھی چیزوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تاہمم تامل ناڈو مسلم پروگریسیو آرگنائزیشن کے صدر جوہراللہ اس بات سے مطفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تامل ناڈو اور کیرلا میں کئی مسجدو ں میں عورتوں کو عبادت کی اجازت حاصل ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||