| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مولانا نورانی: آپ کی نظر میں
جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا شاہ احمد نورانی اٹھہتر سال کی عمر میں جمعرات کے روز اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔ ان کی وفات سے پاکستان کی سیاست اور مذہبی جماعتوں میں قیادت کا ایک خلاء پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستانی سیاست میں ان کا سب سے اہم کام یہ رہا ہے کہ انہوں نے تمام مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ مولانا نورانی انیس سو بہتر سے جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ تھے۔ انہیں ایک تجربہ کار سیاست دان، مذہبی رہنما اور مبلغ اسلام کی حیثیت سے جانا جاتا رہا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ اردو، عربی، فارسی، انگریزی، سواحلی اور فرانسیسی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے۔ آپ کے خیال میں پاکستانی سیاست اور معاشرے میں مولانا نورانی کا کیا کردار رہا ہے؟ آپ انہیں کیسے یاد رکھنا چاہیں گے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں محمد عتیق الرحمان، ٹوکیو: میری نظر میں مولانا شاہ احمد نورانی مذہبی معاملات اور سیاست میں حق گوئی کی علامت تھے۔ انہوں تمام مذہبی فرقوں کو ایک پیلٹ فارم پھر متحد کیا جو شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی اور وہابی کے نام پر لڑتے رہے ہیں۔ مولانا نورانی نے ہی ملی یکجہتی کونسل کا قیام اس وقت کرایا جب حکومت شیعہ۔سنی فسادات روکنے میں ناکام ثابت ہوگئی تھی۔ انہوں نے یہ ثابت کر دکھایا کہ اولیاء اور صوفیائے کرام کا کام معاشرے میں مذہبی رواداری اور امن کو فروغ دینا ہے۔ عطاء القدوس طاہر، کینیڈا: نورانی صاحب کی وفات سے متحدہ مجلس عمل کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ ان سے امید تھی کہ پاکستان کی جھوٹ اور نفرت سے بھری ہوئی سیاست میں کوئی بہتری لاسکتے تھے۔ نسیم بھٹی، ملتان: مولانا نورانی آج ہم میں نہیں لیکن ان کی تعلیمات اور فیض ہمارے درمیان ہمیشہ رہے گا۔ احمد نواز نقوی، کراچی: وہ پاکستانی سیاست میں اعتدال پسند کردار کے حامی تھے۔ شیراز تبسم، کشمیر، پاکستان: مولانا نورانی ایک بہت بڑی ہستی تھے۔ انہوں نے ملک سے چوروں اور ٹھگوں کی سیاست کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ چودھری، شیکاگو: مولانا نورانی ایک اچھے انسان اور اچھے سیاست دان تھے۔ تمام مذہبی رہنماؤں کو ان کی پیروی کرنی چاہئے۔ میں ان کی زندگی کو دنیاوی کامیابی کے پس منظر میں نہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ آصف رضا، لاہور: وہ ایک عظیم عالِمِ اسلام تھے۔ قادیانیوں کے بارے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ وحید چودھری، وِکٹوریہ، کینیڈا: وہ موجودہ دور کے سب سے بڑے عالم تھے۔ شکیب بنرجی، لندن: مولانا نورانی ایک عظیم شخصیت تھے۔ ڈاکٹر سلما علوی، عمان: ہمیں مولانا نورانی جیسے معروف عالم کی موت سن کر افسوس ہوا ہے۔ وہ اسلام کے لئے کام کررہے تھے۔ انہیں اسلامی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
سید فاروق، کینیڈا: مولانا نورانی ہی صرف متحدہ مجلس عمل کے باعمل رہنما تھے۔ اسی سال نواب زادہ نصراللہ خان کی موت کے بعد نورانی جیسے سیاست دان کی موت پاکستان کے لئے افسوس کی بات ہے۔ راشد فراز، اونٹاریو، کینیڈا: مولانا سینیئر پارلیمینٹرین، سیاست دان اور مذہبی رہنما تھے۔ ان کی موت کو ایم ایم اے کے حلقوں میں خصوصی طور پر محسوس کیا جائے گا۔ مجھے کوئی ایسا شخص نہیں دکھائی دیتا جو مجلس عمل کی جماعتوں کو اکٹھا کرسکے۔ عبدالعلیم، ناگویا، جاپان: اگر وہ چاہتے تو ان دو دو ٹکے کے ضمیر فروش سیاست دانوں کی طرح وزارت، سفارت وغیر لیکر عیش و آرام کی زندگی بسر کرسکتے تھے۔ وہ عظیم انسان تھے۔ زرتاشیہ فیصل، محتدہ عرب امارات: ان کی تعریف میں جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ انہوں نے تمام مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے ملک سے فرقہ واریت کو ختم کرنے میں اہم مدد کی۔ محی الدین وانی، پاکستان: بلاشبہہ وہ ایک عظیم اسکالر تھے۔ انہوں نے مختلف فرقوں کو اکٹھا کیا۔ وہ ہمیشہ جمہوریت کے لئے لڑتے رہے۔ وہ ایک ایماندار سیاست دان تھے۔ حافظ محمد احمد، سکر، پاکستان: میری نظر میں مولانا نورانی اس وقت کے ولی ہیں۔ اس خلاء کو کبھی پورا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سلمان جلالی، ٹورانٹو، کینیڈا: اسلام کی خدمات کے لئے ہم انہیں یاد رکھیں گے۔ احمدیہ معاملات میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ذیشان جلیل، امریکہ: اگرچہ میں نے انہیں صرف ایک بار دیکھا تھا۔ لیکن میں ان کا نورانی چہرہ ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ عبید ماجد، بریڈفورڈ، برطانیہ: پاکستان میں وہ ایک اچھے اسکالر تھے اور انہوں نے ایم ایم اے کی رہنمائی بھی کی۔ دوسرے سیاست دانوں کو چاہئے کہ وہ ان کی پیروی کریں اور جنرل مشرف کے خلاف تحریک چلائیں۔
عاصم خان، امریکہ: میں ان سے مطمئن نہیں ہوں۔ انہوں نے اسلام کا سیاست کے لئے استعمال کیا اور سیاست میں انہوں نے کوئی اچھی کارکردگی نہیں دکھائی ہے جس کی تعریف کی جائے۔ مبشر احمد وانس، شارجہ: وہ ایک مولانا تھے اور سیاست میں ملوث تھے۔ اس طرح کے مذہبی رہنماؤں سے مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اس طرح کے لوگ مسلم امہ کی صحیح قیادت نہیں کرتے۔ ایم فرحان یونس خان، کراچی: ان کی موت سے ملک و قوم کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ وہ ایک بہت ہی نفیس انسان تھے اور ساری عمر دین کی خدمت کرتے رہے تھے۔ شہزاد پاشا، کراچی: مولانا نورانی ایک بڑے سیاست دان تھے۔ ان کی موت سے مجھے صدمہ پہنچا ہے۔ مصطفیٰ ناز، بہاولپور: وہ اسلام کے اہم رہنما تھے اور ہم انہیں بھلا نہیں سکیں گے۔ ندیم ملک، پاکستان: مجھے افسوس ہے کہ ایک اور انسان چل بسا۔ لیکن ایسے مذہبی رہنماؤں کے لئے میرے دل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہارون رشید ملک، اسلام آباد: مولانا نورانی ایک عظیم شخص، سیاست دان اور اسکالر تھے۔ انہوں اسلام کی بہتری کے لئے قوم کو متحد کیا۔ انہوں مختلف مکتبۂ فکر کے علماء کو بھی اکٹھا کیا۔ حامد شاہ، ٹورانٹو: علامہ نورانی کی وفات سے پاکستان میں سیاست اور مذہب کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ وہ صداقت کی راہ پر چلتے رہے۔ محمد رضوان رضوی، پاکستان: وہ ایک اچھے انسان تھے۔ اور ایک اچھے سیاست دان اور مذہبی رہنما بھی۔ نوید کامران، دوبئی: وہ ایک عظیم شخصیت تھے، اور پاکستانی سیاست میں ایک اہم رہنما بھی۔ انہیں مسلم عوام کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ غیور شاہ، سرگودھا: وہ ایک مذہبی عالم تھے اور ہمیشہ زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں مثبت طور پر سوچتے رہے، جیسے انسانی امداد، پارلیمانی عمل، مذہبی معاملات، وغیرہ۔
جمیل احمد، لندن: مولانا نورانی کی زندگی بھی دوسرے مذہبی رہنماؤں کی طرح بہت زیادہ تضادات کا شکار رہی ہے۔ اگر ان کی زندگی پر تفصیلی روشنی ڈالیں تو فرقہ واریت میں بھی ملوث نظر آئے گی اور مذہبی انتہا پسندی میں بھی۔ بحرحال ان کی جگہ اب کوئی دوسرا شخص اختیار کرلے گا۔ ابرار عوان، جرمنی: مولانا نورانی بہت ہی بلند پایہ شخصیت تھے۔ محمد سعید قریشی، ایبٹ آباد: مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات سے پاکستانی سیاست اور علمائے کرام میں ایک خلاء پیدا ہوگیا ہے۔ عامر حسین، نوٹنگھم، برطانیہ: پاکستان ایک مدبر سیاست دان سے محروم ہوگیا ہے۔ مولانا کی سیاسی زندگی ہر قسم کے کرپشن سے پاک اور صاف رہی تھی۔ اور جب اس سم کے لوگ ساتھ چھوڑ جائیں تو یہ خلاء لمبے عرصے تک پر نہیں ہوتا۔ فہمیم تنولی، ایبٹ آباد: میرے خیال میں مولانا نورانی کا سیاست میں اور پاکستان کے مذہبی معاملات میں اہم کردار رہا ہے۔ وہ مسلم دنیا کے ایک اہم عالم تھے اور ان کی خدمات کو دنیائے اسلام میں یاد دکھا جائے گا۔ زاہد استانکزئی، بِشکیک: شواہد سے یہ واضح ہے کہ مولانا نورانی اور ان کے دوستوں نے القاعدہ جیسے شدت پسندوں کی حمایت کی تھی۔ ان کی وجہ سے افغانستان میں طالبان جیسے عناصر اقتدار میں آئے۔ عقیل تالپور، حیدرآباد: مولانا صاحب بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اسلام کی بہت خدمات کی ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کے لئے بہت کوشش کی۔
عزیزاللہ، پشاور: میرے خیال میں ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ ہم ایک عالم دین سے محروم ہوگئے ہیں۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ عبدالحسن علی، لاہور: مولانا شاہ احمد نورانی کو میں ایک مذہبی شخصیت کے حوالے سے یاد رکھوں گا کیوں کہ اتنی بڑی شخصیت کو سیاست کے حوالے سے یاد نہیں رکھا جاسکتا۔ ڈاکٹر عارف چودھری، اسٹاک ہوم: وہ ایک بڑے اسلامی اسکالر تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کی کوئی بھی شخص ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔ وہ بین الاقوامی سطح کے اسکالر اور سیاست دان تھے۔ انہوں نے ہمیشہ کشمیریوں کی حمایت کی تھی۔ وہ صرف گفتار کے غازی نہیں تھے، بلکہ کردار کے بھی غازی تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||