| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حق مغفرت کرے۔۔
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی کی جمعرات کو اچانک وفات کے بعد پاکستان کی سیاسی قیادت ایک اور تجربہ کار اور قد آور شخصیت سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کی وفات سے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے لیے متحدہ مجلس عمل سے صدرات کے معاملہ پر حمایت حاصل کرنا تو شاید مشکل ثابت نہ ہو لیکن چھ مختلف فرقوں پر مشتمل سیاسی اتحاد، متحدہ مجلس عمل کے لیے اپنی صدارت کا معاملہ حل کرنا اب خاصا مشکل ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں غالب اکثریت کے حنفی اور بریلوی مسلک کی سیاسی تنظیم جمعیت علماۓ پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز انیس سو ستتر کے انتخابات سے کیا اور ان کی یہ تینتیس سالہ ہنگامہ خیز سیاسی زندگی جمعرات کو اختتام پذیر ہوئی۔ اٹھہتر سالہ مولانا نورانی ایک تجربہ کار سیاستدان، مذہبی رہنما اور مبلغ اسلام تھے۔ ان کا ہنستا مسکراتا چہرہ، پان کے سرخ رنگ سے رنگے ہونٹ اور خوش لباسی اور خوش گفتاری ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔ مولانا نورانی نے صرف آٹھ برس کی عمر میں قرآن حفظ کیا اور مذہبی علوم کے ساتھ جدید علوم کی تعلیم بھی حاصل کی۔ وہ درس نظامی پر مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ الہٰ آباد یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے۔ بطور طالب علم انھوں نے میرٹھ میں تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور نوجوانوں کو منظم کرتے رہے۔ تقسیم ہند سے پہلے انھوں نے متحدہ ہندوستان میں سنی کانفرنسوں کےانعقاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مولانا نورانی اردو ، عربی ، فارسی کے علاوہ انگریزی ، سواحلی اور فرانسیسی زبانیں بول سکتے تھے۔ انھوں نے اپنے بزرگوں کی طرح طریقت کو اختیار کیا اور سادہ زندگی گزاری۔ وہ مرتے دم تک کراچی کے اسی فلیٹ میں رہتے رہے جس میں ہندوستان سے ہجرت کے فوراً بعد مقیم ہوۓ تھے۔ مولانا نورانی شاہی مسجد میرٹھ کے خطیب مولانا عبدالحکیم جوش میرٹھی کے پوتے تھے جن کے بھائی اسماعیل میرٹھی اردو کے بلند پایہ شاعر اور نعت گو مانے جاتے ہیں۔ مولانا نورانی کے خاندان کا تعلق قائداعظم سے رہا اس لیے وہ ان مذہبی پیشواؤں میں تھے جو تحریک پاکستان کے حامی سمجھے جاتے تھے۔ ان کے تایا نذیر احمد صدیقی بمبئی میں مسجد کے خطیب تھے اور ان کے قائد اعظم محمد علی جناح سے مراسم تھے۔ ان کے دوسرے تایا مختار احمد صدیقی بھی قائد اعظم کے ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم نے پہلی نماز مولانا نورانی کے والد شاہ عبدالعلیم صدیقی کی امامت میں کراچی میں ادا کی تھی۔ اپنے والد شاہ عبدالعلیم صدیقی کی وفات کے بعد مولانا شاہ احمد نورانی نے انیس سو تریپن میں سرگرم عملی زندگی کا آغاز کیا اور مختلف مسلمان ممالک کے دورے کئے اور تبلیغی مشنوں دنیا بھر میں جاتے رہے۔ مبلغ کے طور پر ان کا کام عملی سیاست میں آنے کے بعد بھی مرتے دم تک قائم رہا۔ وہ ورلڈ اسلامک مشن کے چیئرمین تھے جس کے تحت ماریشس، سری لنکا، گیانا، امریکہ، جنوبی امریکہ، ملائشیا، برطانیہ اور ہالینڈ میں تبلیغی اور تعلیمی اسلامی ادارے قائم ہیں۔ ضیاالحق کا بیشتر دور انھوں نے بیرون مالک تبلیغی دوروں میں صرف کیا۔ انیس سو اڑسٹھ سے مولانا نورانی ایسے مذہبی رہنما کے طور پر سامنے آۓ جو احمدی فرقہ کے خلاف متحرک ہوۓ۔ انھوں نے انیس سو اڑسٹھ میں لندن میں ایک احمدی رہنما سے مناظرہ کیا اور انیس سو انہتر میں پاکستان آکر احمدی فرقہ کے خلاف سخت بیان جاری کیا جس میں قوم کو اس فرقہ کے خلاف لائحہ عمل بنانے کی دعوت دی گئی تھی۔ اسی سرگرمی میں انیس سو ستر کے انتخابات آۓ تو وہ جمعیت علماۓ پاکستان کے امیدوار کے طور پر اپنے پہلے انتخابی معرکہ میں ہی کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگۓ۔ انھوں نے انیس سو بہتّر کے عبوری آئین میں مسلمان کی تعریف کا تعین کروایا جس میں مسلمان کے لیے حضرت محمد پر بطور آخری رسول ایمان رکھنا شرط قرار پایا۔ انیس سو تہتّر کے آئین کی تیاری میں مولانا کا کردار خاص اہمیت کا حامل رہا جب انھوں نے اسلام پسند قوتوں، سوشلزم اور جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتوں کے درمیان کامیاب سمجھوتے کو ممکن بنانے میں مدد دی اور انیس سو تہتّر کے آئین میں اسلامی دفعات شامل ہوئیں۔ قومی اسمبلی میں بھی وہ احمدی فرقے کے خلاف سرگرم رہے اور انیس سو بہتّر میں انھوں نے احمدیت پر قومی اسمبلی میں زوردار خطاب کیا اور تیس جون انیس سو چوہتّر کو انھوں نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لیے قرار داد پیش کی جس کے تحت بعد میں احمدی فرقہ کو پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں وہ حزب مخالف کے رہنما کے طور پر ابھرے اور انیس سو تہتّر میں وہ سیاسی محاذ متحدہ قومی جمہوری محاذ کے روح رواں بن گۓ۔ انھوں نے سیاست میں بریلوی مسلک کے مشائخ اور علما کے اس روایتی کردار سے انحراف کیا جو حکومت پر مبنی تھا بلکہ انھوں نے حزب مخالف کا راستہ اختیار کیا اور بھٹو کے مقابلہ میں وزارت عظمٰی کے انتخاب میں حصہ لیتے ہوۓ بتیس ووٹ حاصل کیے۔ انیس سو ستتر میں ان کی جماعت نو سیاسی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد کی رکن تھی اور عام انتخابات کے بعد مبینہ دھاندلیوں کے خلاف چلنے والی تحریک کو ان کی جماعت نے نظام مصطفٰے تحریک کا رنگ دیا جس میں وہ گرفتار بھی ہوۓ۔ پاکستان میں سیکولر اور لبرل سیاست کے مقابلے میں مولانا نورانی مذہبی بنیاد پر کی جانے والی سیاست کے علمبردار تھے۔ مولانا نورانی نے احمدیت کے خلاف تحریک چلا کر ، تہتّر کے آئین میں اسلام کی دفعات شامل کرواکر اور قومی اتحاد کی سیاست کو نظام مصطفٰے کے رنگ میں ڈھال کر جس رجحان کی تعمیر کی وہ بعد میں فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق کی سیاست کی بنیاد بنا جنھوں نے اسلام کو اپنے سیاسی جواز کے لیے استعمال کرتے ہوۓ ملک میں اسلامائزیشن کا عمل شروع کیا۔ انھوں نے جنرل ضیاالحق کی حکومت میں شمولیت نہیں کی گو ان کے بہت سے ساتھی ، حاجی حنیف طیب، ظہورالحسن بھوپالی وغیرہ، ان کو چھوڑ گۓ۔ پنجاب میں ان کی جماعت کو دوسرا دھچکہ اس وقت لگا جب ان کے دیرنہ رفیق مولانا عبدالستار نیازی حلقہ نناوے کے ضمنی انتخابات کے موقع پر ان سے الگ ہوگۓ اور نواز شریف کی مسلم لیگ کے اتحادی بن گۓ۔ مولانا نیازی کا پنجاب میں بہت اثر تھا اور اس سے مولانا نورانی کی جمعیت علماۓ پاکستان خاصی کمزور جماعت بن کر رہ گئی۔ تاہم ملتان کے معروف اور بہت بااثر سنی عالم دین مولانا احمد سعید کاظمی کی حمایت ہمیشہ مولانا نورانی کے ساتھ رہی اسی لیے ملتان او علیپور کے علاقے جہاں بریلوی سنی مذہبی ووٹر خاصی تعداد میں ہیں مولانا نورانی کے حلقہ ہاۓ انتخابات بھی رہے۔ مذہبی جماعتوں کو ان کے اختلافات کے باوجود ایک پلیٹ فارم پر متحد رکھنا مولانا نورانی کے پسندیدہ کاموں میں سے ایک تھا۔ تئیس مارچ انیس سو پچانوے کو انھوں نے جماعت اسلامی کے قائد قاضی حسین احمد ، جمعیت علماۓ اسلام کے مولانا سمیع الحق، اہل حدیث کے مولانا ساجد میر، شیعہ رہنما ساجد نقوی، اپنی جماعت کے دوسرے دھڑے کے رہنما مولانا عبدالستار نیازی، سپاہ صحابہ کے مولانا ضیاالقاسمی وغیرہ کے ہمراہ قوم ملی یکجہتی کونسل کی بنیاد رکھی تاکہ فرقہ وارانہ قتل وغارت کو روکا جاۓ اور شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان امن قائم کیا جاۓ۔ بعد میں یہی ملی یکجہتی کونسل آج کے متحدہ مجلس عمل کے قیام کا باعث بنی جس نے سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں صوبہ سرحد اور بلوچستان میں حیران کن کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کے مختلف فرقوں کی سیاسی جماعتیں جب بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاہتیں تو قیادت کے لیے ایک ہی شخص سب کے لیے قابل قبول تھے اور وہ تھے مولانا شاہ احمد نورانی۔ ایک منجھے ہوۓ پارلیمینٹیرین کے طور پر مولانا نورانی کا کردار ، ان کی سادگی، متانت، خوش مزاجی اور خوش گفتاری یاد رہ جانے کی باتیں ہیں۔ ان کی وفات سے پاکستان کی سیاست ایک اور روایتی سیاستدان سے محروم ہوگئی۔ نوابزادہ نصراللہ کی وفات کے چند ماہ بعد ان کے گزر جانے سے پاکستان کی سیاست ایک پوری نسل سے محروم ہوگئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||