| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تعلیم کے لئے تشدد ضروری ہے؟
پاکستان میں تعلیم و تدریس کے حوالے سے استاد کی مار ایک روایتی جملہ ہے۔ یہ بات اکثر سننے میں آتی ہے کہ اگر کسی کو بچپن میں استاد کی مار پڑ گئی ہوتی تو وہ ایسا نہ ہوتا جیسا اب ہے بلکہ بالکل سُدھر گیا ہوتا۔ روایتی طور پر استاد اور مدرس کی مار کو طالب علموں کی بہتری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم مغرب میں یہ تصور بالکل بدل گیا ہے اور بچے کی دماغی اور جسمانی نشونما کے لئے اس بات کی طرف خصوصی توجہ دی جاتی ہے کہ بچوں کو ڈرایا یا دھمکایا نہ جائے بلکہ انہیں خود کچھ کرنے کا موقع دیا جائے۔ ماہر نفسیات یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں پر تشدد کا برا اثر اگر فوری نظر نہیں آتا تو پھر زندگی گزرنے کے ساتھ ساتھ مار پٹائی کے منفی اثرات نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اکثر مغربی ممالک نے تو بچوں کی اسکول یا گھر میں پٹائی کو ایک جرم قرار دے رکھا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو اچھی خاصی سزا ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں کے علاوہ مذہبی تعلیم کے مدرسوں سے اکثر طالبعلموں کی اساتذہ کے ہاتھوں پٹائی کے واقعات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بچوں کی تعلیم کے لئے انہیں مارنا ضروری ہے۔ کیا سختی کے ذریعے بہتر طالبعلم پیدا کئے جا سکتے ہیں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں حسنین رضا، کراچی: اگر بچوں کو جسمانی سزا دیکر تعلیم یافتہ بنایا جاسکتا تو طالبان نے آئنسٹائین اور بِل گیٹس پیدا کیے ہوتے۔ مسرور احمد، ٹورانٹو: دور بدل گیا ہے، لیکن پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں سوچ پرانی ہی ہے۔ مدارس میں بچوں کو دی جانیوالی جسمانی سزا کا مقصد نصاب مکمل کرانا تھا۔ اس مسئلے کو مغربی ذرائع ابلاغ نے بڑھا چڑھاکر پیش کیا ہے کیونکہ وہ مسلم نظام تعلیم کے پیچھے تشدد اور شدت پسندی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ سعید احمد چِشتی، پاک پٹن: بچوں کو جسمانی سزا دینے کی اجازت نہیں ہے، تعلیم کے لئے بھی نہیں۔ پاکستان میں سرکاری اسکولوں میں بھی بچوں کو سزا دی جاتی ہے جبکہ حکومت نے اس پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ مدثر چودھری، جنوبی کوریا: میرے خیال میں مغرب کی طرح آزادی دینے سے بچے خراب ہوسکتے ہیں۔ جنید خان، امریکہ: مار کے علاوہ بھی دوسرے طریقوں سے بچوں کو سمجھایا جاسکتا ہے۔ اسکولوں اور مدرسوں کے اساتذہ کو بالکل حق نہیں ہے کہ وہ بچوں کو ماریں۔ عثمان خان، برطانیہ: اساتذہ بچوں کو جسمانی سزا اسلئے دیتے ہیں کہ شاگرد کام اچھا کریں، لیکن اسی کے ذریعے بعد میں سماج میں تشدد بھی پھیلتا ہے۔ پاکستان کے تمام اداروں میں جسمانی سزا پر پابندی ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر افضال ملک، راولپنڈی: بچوں کو سزا اصلاح کے لئے ہونی چاہئے، ذہنی اور نفسیاتی مریض بنانے کے لئے نہیں۔ جو بچوں سے پیار کرتا ہے وہ بچوں کو سزا بھی ضرور دے گا، اسی میں بچوں کی بہتری پوشیدہ ہے۔ امین شیخ، بروکلین، امریکہ: یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر وقت بچوں کو جسمانی سزا دی جائے۔ لیکن ایک استاد ہونے کی حیثیت سے مجھے یقین ہے کہ کبھی کبھی اس طرح سزا دینے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ محمد خرم، کینیڈا: جسمانی سزا بچوں کے لئے بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ اساتذہ کوئی بہتر طریقہ تلاش کریں تاکہ تعلیم کو فروغ دیا جاسکے۔ فضل الرحمان جسوال، لِبیا: ہمارا مذہب اسلام تشدد کی اجازت نہیں دیتا، خصوصا بچوں پر۔ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ درست ہے لیکن جسمانی سزا بالکل غلط ہے۔ امتیاز احمد راجہ، جرمنی: بچوں پر تشدد ظلم ہے۔ اس سے ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی بلکہ ان کی نفسیات پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ ارسلان رضوی، امریکہ: میں تیرہ سال پاکستان میں رہنے کے بعد امریکہ منتقل ہوا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ امریکہ میں بچے انتہائی کاہل اور باغی ہوتے ہیں اور ان کے دل میں چھوٹے بڑے کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو بے انتہا آزادی دی گئی ہے اور ان کو کسی کا خوف نہیں ہے۔ تاہم یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہئے کہ طاقت کے زور پر لوگوں کے دلوں کو نہیں بدلا جا سکتا۔ جن جن علاقوں میں اسلام تلوار کے زور پر پھیلایا گیا ان ان علاقوں کے لوگوں نے کبھی اسلام کو قبول نہیں کیا اور منافق رہے۔ محمد عطاء اللہ چوہدری، امریکہ: سزا بچوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور اس پر سکولوں میں پابندی ہونی چاہئے۔ شمس عرفان، بیلجیئم: اسلام میں سخت گیری نہیں ہے اس لئے مار پیٹ کی اس مذہب میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ زین العابدین، پاکستان: معتدل مزاجی ہونی چاہئے، بچے اگر نہیں پڑھیں تو تھوڑی سی سختی ضرور کرنی چاہئے۔ غلام نبی، جہلم، پاکستان: میری رائے میں بچوں کو نہ پڑھنے پر سزا نہیں دینی چاہئے اور محبت اور شفقت سے سمجھانا چاہئے۔ تاہم اگر ان کے کردار میں خرابی کا احتمال ہو تو ضرور سزا دینی چاہئے۔ پھر سزا اور انعام کا توازن بھی برقرار رکھنا چاہئے۔ جمیل احمد خان، کمالیہ، پاکستان: جب کوئی چارہ نہ رہے تو بچے پر مناسب سزا کا تجربہ کرنے میں کوئی حق نہیں کیوں کہ سزا اور جزا تو روزِ قیامت کے دن بھی ہوگی۔
انجینیئر ہمایوں، کراچی، پاکستان: بچوں کی تعلیم اور تربیت کے لئے پیار اور مار میں اعتدال ضروری ہے۔ سب سے سنہرا اصول یہی ہے لہ بچوں کو کھلائیں سونے کا نوالہ اور دیکھیں شیر کی نظر سے۔ شبیر، اسلام آباد، پاکستان: بچوں کو ڈنڈے سے پڑھانا انتہائی غلط ہے۔ انہیں پیار سے پڑھانا ہی بہترین ہے کیونکہ وہ پیار کی زبان سمجھتے ہیں۔ :ظہیر قریشی، میلان، اٹلی بچوں سے مار پیٹ دراصل اپنی ذمہ داریوں سے فرار کا آسان ترین طریقہ ہے۔ بچوں کی تربیت اور نشو نما کو ئی آسان کام نہیں ہے لیکن ایک کنبے میں زیادہ بچے ہو جانے کی وجہ سے لوگ توجہ نہیں دے پاتے اور بچوں اور والدین کی ترجیحات میں فرق پیدا ہو جاتا ہے جس کے بعد عموماً والدین اور استاد بھی اپنا غبار مار کر ہی نکالتے ہیں۔ شیراز خان، صوابی، پاکستان: بچوں کو مارنے سے بچوں کا ذہن الٹا سوچنے پر مجبور ہوجاتا اور ضدی بن جاتا ہے اس لئے بچوں کو کبھی نہیں مارنا چاہئے۔ اس کی ایک مثال جاپانی نظامِ تعلیم ہے۔ عاصم محمود مرزا، گجرات، پاکستان: بچوں پر تشدد صحیح نہیں ہے مگر ہلکی پھلکی تنبیہہ ضروری ہے تاکہ بچے بگڑنے نہ پائیں۔ امریکہ جیسے ممالک میں بچے اپنے ہی ہم جماعتوں کو گولیوں سے بھون رہے ہیں جو اسی غلط تربیت اور بے جا ڈھیل کا نتیجہ ہے۔ البتہ بچے کو اتنا نہیں مارنا چاہئے کہ ہڈی پسلی ایک کردیں۔ پہلے پیار، پھر مار اور پھر پیار کا فارمولا اپنانا ہوگا۔ فرمان، بنوں، پاکستان: یہ کبھی اچھی ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔ حد سے زیادہ اچھی نہیں ہے کیوں کہ کبھی کبھی بچہ اس سے باغی ہوجاتا ہے۔ میں نعیم میمن کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ عمران شاہد، ریڈ فورڈ، برطانیہ: بچوں پر تشدد سے ان میں اعتماد کی کمی آجاتی ہے اور اب اس روایت کو ختم ہونا چاہئے۔ ظہورالدین، دوبئی: ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔ بے جا مار ظلم بھی ہے اور ہوسکتا ہے کہ بچہ ہمیشہ کے لئے تعلیم کو خیر باد کہہ دے جس کی ذمہ داری استاد پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات مناسب مار ضروری بھی ہوتی ہے لیکن اسے آخر میں ہی استعمال کرنا چاہئے پہلے جدید نفسیات ہی سے مدد لینی چاہئے۔
نعیم میمن، امریکہ: ہم اپنے ملکی نظام کی بدولت اچھے اور تابعدار محنت کش پیدا کر رہے ہیں لیکن اس کے برعکس مغربی ممالک میں موجد اور سائنسدان پیدا ہو رہے ہیں۔ ایس طارق حسین، گلگت: بچوں کو سزائیں دینے سے ان کی زندگی اور مستقبل انتہائی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں بچوں کی پٹائی کرنے پر سخت پابندی عائد کرنی چاہئے۔ بچوں پر ہاتھ اٹھانے کا کسی کو کوئی حق نہیں۔ ایسے بہت سے بچے ہیں جنہیں نے اساتذہ کے سخت برتاؤ کے باعث تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کی۔ اس لئے میرے خیال میں بچوں کی پٹائی کرنا ایک جرم ہے۔
عبدالحلیم، جرمنی: استاد کی مار سے بچے سمجھدار ہوتے ہیں اور ہوشمند رہتے ہیں۔ مجھے ابھی تک وہ مار یاد ہے جو میں نے اپنے استادوں سے کھائی تھی اور اسی کی وجہ سے میرے دل میں والدین اور اساتذہ کے لئے پیار ہے۔ امریکی اور یورپی میڈیا پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔ غفار سلیمانی، کراچی: مار پیٹ اور ناجائز طریقوں سے بچوں کی تربیت نہیں کی جا سکتی۔ خان اظفر، ٹورانٹو: اساتذہ اپنی پریشانیوں کے باعث بچوں پر غصہ نکالتے ہیں۔ میں کینیڈا میں رہائش پذیر ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ہائی اسکول کے بچوں کو کنٹرول کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے لیکن یہاں کینیڈا میں بھی بچوں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ انہیں اسکول سے نکال دیا جاتا ہے اور ان کے ریکارڈ کو مسخ کر دیا جاتا ہے۔ حافظ عمر بٹ، اوسلو: دینی مدارس میں بچوں پر وہشیانہ تشدد ہوتا ہے اس لئے یہ برتاؤ کرنے والے مولوی حضرات کو گرفتار کرنا چاہئے۔
عقیل احمد تالپبور، حیدرآباد: تشدد اگر ایک حد تک ہی کیا جائے تو ٹھیک ہے لیکن اگر حد سے تجاوز کر جائے تو صحیح نہیں ہے۔ میں نے تعلیم اس لئے ترک کی تھی کہ کوئی بھی کچھ نہیں کہتا تھا۔ اگر کوئی کہنے والا ہوتا تو آج میں بھی حافظ قرآن ہوتا۔ محمد اشرف، سیالکوٹ: بچوں پر کسی صورت ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے۔ عبدالباری چترالی، پاکستان: بالکل نہیں، بچوں پر تشدد نہیں ہونا چاہئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||