| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خودمختار کشمیر: ممکن ہے؟
بھارت کی طرف سے ایل او سی پر فائر بندی کی پاکستانی پیشکش کو تسلیم کئے جانے کے بعد کنٹرول لائن پرگولہ باری بند ہوگئی۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی برس سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ تاہم فائر بندی کے دوسرے روز ہی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف واقعات میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کنٹرول لائن پر فائرنگ کا تبادلہ ہو یا بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مقابلے، ان سب کا شکار کشمیر کے عوام ہوتے آئے ہیں۔ بقول پاکستان کے کشمیر اس کی شہ رگ ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ کیا فریقین کے اس روایتی موقف میں لچک کے بغیر کشمیر کا کوئی حل کبھی بھی ممکن ہے؟ کیا بھارت اور پاکستان کے زیرِ انتظام منقسم کشمیر کو یکجا کرکے ایک خودمختار مملکت قائم ہونی چاہئے؟ اور کیا فریقین اس مملکت کے لئے وہ علاقے چھوڑنے پر تیار ہو جائیں گے جو کشمیر کا حصہ ہیں؟ اگر بھارت صرف وادی کشمیر پر مشتمل ایک مختصر علاقے کو خود مختار کشمیری مملکت کا درجہ دینے پر رضامند ہو جاتا ہے تو کیا یہ مسئلے کا مستقل حل ثابت ہو سکتا ہے؟ آپ کا ردِّ عمل یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
ڈاکٹر خورشید عالم ایاز، پاکستان اس وقت پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حالت پاکستان سے بھی خراب ہے۔ اگر کچھ کشمیری رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر ایک خودمختار ریاست کی حیثیت سے باقی رہ سکے گا تو انہیں تبت، حیدرآباد دکن، جونا گڑھ اور گوا کی تاریخ سے سبق لینا چاہئے۔ اگر کشمیر آزاد ہوگیا تو اردو کا یہ محاورہ ثابت ہوگا: نمازیں بخشوانے گئے تھے، روزے گلے پڑگئے۔ عبدالکرنئی، سرینگر لعل سمد، بڑا خیبر ایجنسی، پاکستان محمد شفیق، ہجیرہ، کشمیر، پاکستان خورشید، مظفرگڑھ، پاکستان عامر نصیر، رہوالی شریف فارم، پاکستان مصطفیٰ چودھری، فیصل آباد
جاوید شیخ، دبئی اگر پاکستان اور بھارت مل بیٹھ کر سنجیدگی سے کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کریں تو یہ مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن دونوں ممالک کے سربراہاں کو لڑنے اور بیان بازی سے فرصت کہاں ہے۔ البتہ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستان اپنا قبضہ چھوڑ دے اور بھارت اپنا اور اقوام متحدہ کے تحت ریفرنڈم کرایا جائے۔
عبدل لطیف، اسلام آباد، پاکستان کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے لیکن بڑی طاقتیں اس کے حل میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں۔ اگر پاکستان، بھارت اور کشمیریوں کو یہ مسئلہ حل کرنے کا موقع دیا جائے تو معاملہ طے پانے کے امکانات روشن ہیں ورنہ کشمیر میں بھی وہی ہونے والا ہے جو فلسطین، افغانستان اور عراق کا ہوا ہے۔
عثمان خان، لندن، برطانیہ اگر گیارہ ستمبر کا واقعہ پیش نہ آتا جس کے فوراً بعد چین اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بھی قدرے نرمی آئی تھی، تو پاکستان اپنا جارحانہ رویہ تبدیل نہ کرتا۔ پاکستان اِس وقت ایسی پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پہلے کی ہی طرح اپنی کوششیں جاری رکھ سکے اس لئے اب کشمیر کو بحیثیت ایک آزاد اور خود مختار ریاست بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
عبید الرحمٰن مغل، بریڈ فورڈ، برطانیہ اگر کشمیر کو خود مختار ریاست بنایا گیا تو بھارت اسے ایک ہی روز میں ہڑپ لے گا۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیر کوکسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کرنا ہے اور قرارداد میں خود مختار ریاست کے قیام کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ کشمیر کے پاس ہے بھی کیا کہ وہ آزاد ریاست کی حیثیت سے قائم رہ سکے۔ حقیقت میں یہ امریکی ایجنڈا ہے کیونکہ امریکہ کشمیر میں اپنی ائر بیس قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ خطے پر نظر رکھ سکے۔
سید فرحت علی، آسٹریلیا پاکستان اور بھارت کے سربراہان کو کشمیر کے بہتر حل کے بارے میں سوچ بچار کرنی چاہئے۔ بدقسمتی سے دونوں غریب ملکوں کے منافق اور بدعنوان سیاستدانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے کشمیر کے مسئلے کو استعمال کیا۔ ہم رنگ و نسل، مذہب، زبان کی تفریق سے بالاتر ہو کر برصغیر کے لوگوں سے محبت کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی بہبود کشمیر کے مثبت اور مخلصانہ حل میں مضمر ہے۔ عدیل احمد اقبال، پاکستان محسن عبد اللہ شاہ، ملتان، پاکستان
قیصر مجید خان، گوجرانوالہ، پاکستان ہم نے چھپن برس تک اس مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کر کے دیکھ لیا ہے مگر کامیابی نہیں ہوئی، اس مسئلے کا حل مذاکرات نہیں جہاد ہے اور وقت یہ ثابت کرے گا کیونکہ دونوں ممالک کے سیاستدان اپنی سیاست چمکانے کے لیے اور بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے اس مسئلے اس مسئلے کو حل نہیں رہے۔ تعظیم احمد، ٹورانٹو، کینیڈا
داؤد اکبر، ٹورانٹو، کینیڈا میرے خیال میں خود مختار کشمیری ریاست کا قیام موجودہ نسل کا وہ خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی تمنا کی حیثیت محض ایک نعرے سے زیادہ نہیں رہی ہے۔ نیاز کشمیری، متحدہ عرب امارات
سید فرحان فہیم الحق، لاہور، پاکستان مسئلہ کشمیر تو اسی وقت تقریباً حل ہو گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم واجپئی نے معاہدہ لاہور پر دستخط کئے تھے۔ یہ سب کِیا دھرا جنرل پرویز مشرف کا ہے جنہوں نے کارگل کا شوشا چھوڑ کر پڑوسیوں میں ایسی آگ لگائی جس کا خمیازہ ہم جیسے ہزاروں بےگناہوں اور سرحدوں پر تعینات فوجیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ امجد علی، دبئی
وسیع اللہ، برطانیہ خود مختار کشمیری ریاست کا قیام خطے کے تینوں ممالک یعنی پاکستان، بھارت اور چین کے لئے مشکلات کا باعث ہو گا اس لئے کشمیر کا الحاق پاکستان یا بھارت کے ساتھ ضرور ہونا چاہئے۔ کشمیر اگر پرسکون رہنا چاہتا ہے تو پاکستان کے ساتھ الحاق زیادہ موزوں رہے گا۔ عامر خان، پاکستان
طاہرہ سرور، اسلام آباد، پاکستان یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب ہمیشہ تشنہ رہے گا۔ کیا دنیا میں امن کا قیام ممکن ہے؟ بالکل اسی طرح کیا کشمیری کبھی صحیح معنوں میں آزاد ہو پائیں گے؟ اس کا جواب بھی خلا کی وسعتوں اور زمین کی گہرائیوں میں دبا ہوا ہے جو مستقبل قریب میں دسترس میں آتا نظر نہیں آتا۔ سُپر پاور بننے کی کوششوں میں مصروف بھارت اس بات کی اجازت کبھی نہیں دے گا کہ کشمیر پر وہاں کے مقامی باشندے حکومت کریں۔ کوئی دیوانہ ہی یہ خواب دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ کی برابری کی خواہش رکھنے والا بھارت اپنی طاقت منوانے کا نسخہ ہاتھ سے جانے دے گا۔ جبکہ پاکستان اپنی حالیہ کوششوں سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا بلکہ اگر اس پر دہشت گردی کے الزامات یونہی بدستور لگتے رہے تو آئندہ شاید اتنا کرنا بھی پاکستان کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ جنرل مشرف تو جیسے تیسے ان کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ان کے بعد میں آنے والے غالباً اتنی جرات کا مظاہرہ بھی نہیں کر پائیں گے۔ یہاں تو لوگ اپنا ایمان تک بیچ دیتے ہیں جبکہ کشمیر تو اب تک صرف قربانیاں ہی مانگتا آیا ہے۔ خواجہ حامد علی صوفی، پاکستان یوسف خان افغان، سوات، پاکستان چوہدری جمیل احمد خان، کمالیا، پاکستان
شیخ نثار احمد، اسلام آباد، پاکستان جی ہاں خود مختار کشمیر کا قیام ممکن ہے۔ کشمیری عوام علیحدہ تہذیب و تمدن کے حامل ہیں اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ اگر چند سو کی آبادی والے علاقے آزاد رہ سکتے ہیں تو ایک کروڑ کشمیریوں کو یہ حق کیوں نہ دیا جائے۔ محمد اکرم جاٹ، پاکستان
انجینیئر ہمایوں ارشد، کراچی، پاکستان جی ہاں، خودمختار کشمیر کا قیام ممکن ہے۔ دنیا کے نقشے میں ہر اس تبدیلی کا واقع ہونا ممکن ہے جس میں امریکہ اور برطانیہ کا مفاد وابستہ ہو۔ نسیم رانا، راولپنڈی، پاکستان فضل الرحمٰن، جمرود، پاکستان عاطف نعیم سید، ریاض، سعودی عرب |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||