| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کشمیر بنےگا پاکستان، یا۔۔۔‘
گئے دنوں کی بات ہے۔ ’ملی ٹنٹ موؤمنٹ‘ کے ابتدائی اور شاید عروج کے دنوں میں جب کشمیر کے لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے تو دو متضاد قسم کے نعروں کی گونج ایک ہی وقت بلند ہوا کرتی تھی۔ ’ہم کیا چاہتے؟ آ۔ز۔ا۔د۔ی! ‘ اور ’کشمیر بنےگا؟ پاکستان۔‘ بڑے بڑے جلسوں اور مظاہروں میں لوگ آزادی اور پاکستان کے حق میں گلا پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگاتے، دل کو تسلی ہو جاتی، اور پھر تھک ہار کے گھروں کو جاتے۔ شام کو محلے کی مسجد میں نماز کے بعد لاؤڈ سپیکروں پر پھر نعرے بلند ہوتے۔ یہاں تک کہ گلی کے موڑ پر الاؤ جلا کر لوگ دیر رات تک ’نائٹ وِجل‘ کرتے، نعروں کے ساتھ ساتھ، یا پھر اپنے اپنے ٹین کی چھتوں کو ہرکارے کے طور پر چھڑیوں سے بجاکر ماحول کی حرارت میں اضافہ کرتے۔ نشے کا سا عالم تھا، پر امید کے دن تھے۔ کئی لوگوں کا ماننا تھا کہ آزادی بس اگلے موڑ سے گزر کر آیا ہی چاہتی ہے۔ انہی دنوں کشمیری پنڈت امید و بیم کے اس ماحول سے خوف زدہ ہو کر کشمیر چھوڑ کر چلے گئے۔ شاید ہمیشہ کے لئے۔ بہر حال، آج کی بات۔۔۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان خیر سگالی کے ’ڈھونگ‘ کی ڈھولک ایک بار پھر بجنے لگی۔ (کشمیریوں کے نعرے اب کم ہی سنائی دیتے ہیں۔) تجاویز کا جواب تجاویز سے دیا گیا ہے۔ آپ ہمارے بچوں کا مفت علاج کرنے پر اگر بضد ہیں تو ہم بھی کشمیری بچوں کو تعلیم دینے پر۔ پلیز۔۔۔ بسیں چل گئیں، کرکٹ ویزے تیار ہوگئے، ریل روابط بحال کئے جائیں گے، فضائی راہیں پھر کھل جائیں گیں اور کمشیر پر بھی بات ہوگی۔
بات طاقتور بھارتی نائب وزیر اعظم اڈوانی کریں گے، کشمیریوں سے، پہلی بار۔ حریت کانفرنس نے، جو کسی بات پر بات سے پہلے ہی بٹ گئی، (پھر وہی زندگی کا سوال ۔۔۔کشمیر بنے گا پاکستان یا؟)، مسئلہ کشمیر کے دیر پا حل کا کوئی ’جادوئی‘ فارمولہ تیار کیا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا ہے، کسی کو بھی نہیں۔ پاکستان نے اسی درمیان ایل او سی پر، جو کشمیریوں کی تخلیق نہیں ہے، فائر بندی کا اعلان کر دیا، عید کے روز سے، اس سے پہلے ہرگز نہیں، اس کے بعد دیکھتے ہیں۔ بھارت نے خوشی کا اظہار کیا مگر ساتھ ساتھ پھر کہا کہ دراندازی بند ہو جانی چاہئیے۔ جس حساب و رفتار سے بھارت دراندازی کی بات کرتا آیا ہے، اس کے مطابق تو کشمیری اب تک اقلیت میں تبدیل ہو جانے چاہئیے تھے! بہر حال، تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ ایل او سی پر فائربندی ہے۔ ہاں۔ کتنے دن قائم رہے گی، یہ آپ اور میں بخوبی جانتے ہیں۔ دوسری طرف حریت کانفرنس نے آپس کی رنجشوں کے با وجود مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کیا ہے جو سب سے پہلے بین الاقوامی برادی کو ’دہلی میں‘ پیش کیا جائےگا، اور اس کے بعد پاک۔بھارت کو۔ تاکہ ان کے پاس اسے منظور کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو، بقول حریت۔ سید علی شاہ گیلانی نے، جو کبھی’کشمیر بنےگا پاکستان‘ اور کبھی ’مجھے لیڈر نہیں بنایا تو۔۔۔‘ کا راگ گاتے ہیں جنگ بندی کو بےمعنی قرار دیا ہے۔ شاید اس لئے کہ بھارتی قیادت نے انہیں بات چیت کی پیشکش نہیں کی۔ گیلانی کا کندھا تھپ تھپا کر پاکستان نے حسبِ دستور ایک جھگڑالو، باغی اور منحرف گروپ کی حمایت کی ہے۔
کشمیریوں نے بڑے دنوں بعد دھوپ میں عید منائی (ہاں ہلاکتیں جاری ہیں)، ایل او سی پر رہنے والوں نے بڑے دنوں بعد صحن میں دھوپ سینکی اور کشمیری علیحدگی پسند قیادت نے بڑے دنوں بعد کوئی سمجھ والی بات کی، مولوی عباس انصاری کو آگے نہیں کیا، بات پروفیسر بھٹ اور میر واعظ نے کی، اور کسی کو کوئی بڑا اعتراض نہیں ہوا۔ بھارت، پاکستان اور کشمیر، تینوں فریقوں میں لچک اور کامپرومائز کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن کشمیر بنےگا کیا؟ آزاد، پاکستان، یا اٹوٹ انگ؟ ظاہر ہے، مجھے معلوم ہوتا تو۔۔۔ کشمیر میں اب نعرے بازی بہت کم ہوتی ہے (گلے تھک سے گئے ہیں)، لیکن جب بھی کوئی سر پھرا بندوقوں اورگولیوں کی چھاؤں میں آواز اٹھاتا ہے، تو نعرہ کچھ بھی ہو، بھارت کے حق میں اب بھی نہیں ہوتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||