BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: 01 December, 2003 - Published 21:44 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپ کے سوالات، مشرف کے جوابات
جنرل مشرف: سوال وجواب
جنرل مشرف: سوال وجواب

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بی بی سی کے ساتھ ٹاکنگ پوائنٹ سیریز کے سلسلے میں پاکستان کی سیاست، خارجہ پالیسی، مسئلہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ تعلقات پر دنیا بھر سے ٹیلیفون اور ای میلز کے ذریعے کئے گئے سوالات کے براہ راست جوابات بھی دیئے۔

سوالات وجوابات کے اس پروگرام کے دوران بی بی سی اردو سروس کی نعیمہ احمد مہجور، شفیع نقی جامعی اور ہندی سروس کے نگیندر شرما شامل تھے جنہوں نے گفتگو میں حصہ لیا اور اسے آگے بڑھایا۔



نعیمہ احمد مہجور، اردو سروس

جنابِ صدر پاکستان اور بھارت کے تعلقات تیزی سے بحال ہو رہے ہیں جس میں آپ کی کوششیں شامل ہیں اور ادھر واجپئی صاحب نے بھی پاکستان آنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ کیا برصغیر کے عوام کی یہ امید درست ثابت ہو گی کہ اس بار آگرہ جیسا تجربہ پھر نہیں دھرایا جائےگا؟

صدر جنرل پرویز مشرف

میں تو یہی امید رکھتا ہوں اور سب کو یہی امید رکھنی چاہئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کی بحالی میں خاصی پیش رفت ہو رہی ہے لیکن میں ایک بار پھر کہوں گا کہ بظاہر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے اور امن و امان قائم ہو چکا ہے۔ تاہم حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ یہ محض شروعات ہے۔ ہمیں بہت تحمل، لچک اور مخلصانہ طور پر اس کام کو آگے بڑھانا ہو گا۔


بھارت سے مختلف افراد کی رائے صدر کو سنائی گئی جن میں سے چند نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ اس پر صدر پاکستان نے اپنے رد عمل کا اظہار یوں کیا۔

۔۔۔ سیدھا کرتا ہوں

 میں فوجی ہوں، سیدھا بولتا ہوں اور سیدھا کرتا ہوں۔ انہیں چاہئے کہ یہ اپنے میڈیا کو اور اپنے لوگوں کو بھی دیکھیں اور سنیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف

میں دوغلا پن کبھی نہیں کرتا، یہ ان لوگوں کی غلط فہمی ہے۔ میں فوجی ہوں، سیدھا بولتا ہوں اور سیدھا کرتا ہوں۔ انہیں چاہئے کہ یہ اپنے میڈیا کو اور اپنے لوگوں کو بھی دیکھیں اور سنیں۔


اتل گپتا، ٹورانٹو، کنیڈا

برصغیر کو مغربی ممالک بہت عرصے سے بےوقوف بناتے چلے آئے ہیں جس کے باعث یہ خطہ انتہائی غربت کا شکار ہے۔ کیا ہم کشمیر اور کارگل کو بھول کر نئے سرے سے شروعات کر سکتے ہیں؟

صدر جنرل پرویز مشرف

جی ہاں! شروعات کر سکتے ہیں لیکن آپ صرف کارگل اور کشمیر کی بات کر رہے ہیں، ہمیں سیاچن کو بھی بھولنا ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ ہم یہ سب کچھ بھلا کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اگر ماضی میں تلخیاں بہت زیادہ ہوں تو اسے بھولنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

پاکستان میں تنازعہ کشمیر پر فیصلہ کن اختیار صدر کو حاصل ہے یا قومی اسمبلی کو؟

صدر کیوں منہ سی کر بیٹھا رہے

 مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ کیوں ایسا سوچتے ہیں۔ صدر بھی پاکستان کا حصہ ہے اگر اس کی کوئی رائے ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ وہ منہ سی کر بیٹھا رہے

صدر جنرل پرویز مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف

قومی اسمبلی عوام کی نمائندہ ہوتی ہے اس لیے فیصلہ قومی اسمبلی ہی کرے گی کیونکہ ہمیں عوام کو ساتھ لے کر چلنا ہے لیکن اگر اس میں صدر بھی کوئی حصہ ڈال سکتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ صدر بھی منتخب ہوتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ کیوں ایسا سوچتے ہیں۔ صدر بھی پاکستان کا حصہ ہے اگر اس کی کوئی رائے ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ وہ منہ سی کر بیٹھا رہے۔


شاہ محمد شاہ، لاڑکانہ، پاکستان

واہگہ بارڈر سے آمد ورفت شروع ہو چکی ہے اور فضائی رابطے کا اعلان کیا جا چکا ہے تو اب کھوکھرا پارک سرحد بحال کرنے میں کیا قباحت ہے؟

صدر جنرل پرویز مشرف

اس میں کوئی قباحت نہیں اس لئے جلدہی اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔


پروفیسر نور احمد بابا، کشمیر یونیورسٹی، سرینگر

لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب افراد کو آپس میں ملانے کے لئے حکومت پاکستان کیا اقدامات کر رہی ہے؟

صدر جنرل پرویز مشرف

ہم وہاں آباد لوگوں کی تکالیف دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس ضمن میں آمد و رفت کی سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہو گی تاکہ لوگ سری نگر سے مظفرآباد بذریعہ بس آسانی سے آ جا سکیں۔ لیکن مذاکرات کے آغاز کے بعد ہی مزید امور پر غور کیا جائے گا۔

بھارتی سیاستدانوں کی طرف سے پاکستان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دراندازی کرنے والے عناصر کی حمایت کرتا ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ کشمیر کے پُرامن حل کے بعد تمام تر مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔


اس موقعہ پر صدر جنرل پرویز مشرف کو بھارتی نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کا وہ بیان سنایا گیا کہ سرحد پار سے جاری دہشت گردی ختم نہیں ہوئی ہے او پوچھا گیا کہ ان کا ردعمل کیا ہے؟

کبھی کچھ ، کبھی کچھ

 اڈوانی صاحب اپنے بیانات تبدیل کرتے رہتے ہیں، کبھی کچھ کہتے ہیں، کبھی کچھ کہتے ہیں۔ میں نے اقوام متحدہ میں فائربندی کی تجویز تین ماہ پہلے پیش کی تھی جسے بھارت نے رد کردیا تھا لیکن اب مان گئے ہیں

صدر جنرل پرویز مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف

اڈوانی صاحب ہندی بول رہے تھے اور میں ہندی نہیں اردو سمجھتا ہوں۔ اڈوانی صاحب اپنے بیانات تبدیل کرتے رہتے ہیں، کبھی کچھ کہتے ہیں، کبھی کچھ کہتے ہیں۔ میں نے اقوام متحدہ میں فائربندی کی تجویز تین ماہ پہلے پیش کی تھی جسے بھارت نے رد کردیا تھا لیکن اب مان گئے ہیں۔ بھارت یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے فائرنگ کی آڑ لے کر دراندازی کی جاتی ہے۔ لیکن اب جب کہ فائربندی ہوچکی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دراندازی بدستور جاری ہے تو ایسی صورت میں وہ خود ہی جانیں۔ ہم پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ بھارت کو یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ یہ تمام کاروائیاں اس کا اندرونی مسئلہ ہیں، پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں‘۔


مشرف
صدر مشرف بی بی سی کی نعیمہ احمد مہجور اور پال کے ساتھ

شفیع نقی جامعی، اردو سروس

فیصل آباد سے رضوان شہزاد اور باغ حیات علی شاہ سندھ سے عمران نے سوال کیا ہے کہ ہمیں نوکری کب ملے گی؟

صدر جنرل پرویز مشرف

مجھے بہت دکھ ہے کہ پاکستان میں لوگوں کو ملازمتیں باآسانی نہیں ملتیں لیکن میرے ہاتھ میں کوئی جادو کی چھڑی تو ہے نہیں۔ آبادی پر ہم قابو نہیں پاسکے کسی بھی غریب آدمی کو روک کر پوچھ لیں وہ کہے گا کہ اس کے چھ بچے ہیں۔ اس سے پوچھئے کیوں بھئی، تمہارے چھ بچے ہیں لیکن پیسے تو ہیں نہیں، غرض یہ خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے‘۔


رگھو کمار، بون، جرمنی

آپ دہشت گردی کی جنگ میں پیش پیش ہیں اور کئی دہشت گردوں کو امریکہ کے حوالے کر چکے ہیں۔ داؤد ابراہیم اور دیگر بیس بھارتی دہشت گرد وں کو اصلاحات کے پیکیج کے تحت بھارت کے حوالے کرنے کا اعلان کیوں نہیں کرتے؟

فہرستوں کا جھگڑا

 مجھے ایک مرتبہ ایک ایسی فہرست تیار کرکے دی گئی جس میں بھارت کے نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی صاحب کا نام بھی شامل تھا۔ میں یہ فہرست انہیں بھجوا دیتا ہوں اور یہ جھگڑا یونہی چلتا رہے گا۔

صدر جنرل پرویز مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف

انہوں نے تو صرف بیس افراد کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے، میں پچاس افراد کی فہرست دے سکتا ہوں۔ یعنی فہرستوں کی تو کوئی کمی نہیں ہے۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ مجھے ایک مرتبہ ایک ایسی فہرست تیار کرکے دی گئی جس میں بھارت کے نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی صاحب کا نام بھی شامل تھا۔ میں یہ فہرست انہیں بھجوا دیتا ہوں اور یہ جھگڑا یونہی چلتا رہے گا۔ ہمیں مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ میں آپ پر واضح کردوں کہ آپ یہ غلط فہمی دور کر لیجئے کہ دہشت گردی کی کاروائیاں صرف یہیں سے کی جا رہی ہیں۔ کیونکہ یہاں جو بم دھماکے ہورہے ہیں ان میں سے بہت سوں میں ( ہم تقریباً یقین سے کہہ سکتے ہیں) بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔


نگیندر شرما، ہندی سروس

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ ملا عمر پاکستان میں موجود ہیں، آپ کا کیا کہنا ہے کیا پاکستان کے تمام ہمسایہ ممالک جھوٹ بولتے ہیں؟

انہوں نے کیا کیا ہے

 ہم تو اب تک چھ سو آدمی پکڑ کر مار بھی چکے ہیں لیکن جو لوگ ہم پر الزام لگا رہے ہیں انہوں نے کیا کیا ہے۔ یہ تمام بے بنیاد الزامات ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف

حامد کرزئی صاحب نے کابل میں کہہ دیا کہ ملا عمر ایک مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، تو پکڑوا کیوں نہیں دیا یا ہمیں کیوں نہیں بتا دیا۔ ہم لوگ ہی ملا عمر کو پکڑ لیتے۔ اگر کسی کو اصل حقیقت معلوم نہیں تو خواہ مخواہ ادھر بیٹھ کر ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں اور اپنے ملک کے حالات پر توجہ دینی چاہئے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے تمام ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے تو پھر کوئی کس منہ سے کہتا ہے کہ ہم اپنے فرائض انجام نہیں دے رہے اور بحیثیت صدر مجھے اس بات سے دِلی تکلیف پہنچتی ہے۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے کیا کیا ہے۔ کیوں کہ ہم تو اب تک چھ سو آدمی پکڑ کر مار بھی چکے ہیں لیکن جو لوگ ہم پر الزام لگا رہے ہیں انہوں نے کیا کیا ہے۔ یہ تمام بے بنیاد الزامات ہیں۔


بھوانا ہیگڑے، بلجیئم

بھارت کے سابق وزیراعظم مرار جی ڈیسائی کو ماضی میں پاکستان کی جانب سے ایک تمغے سے نوازا گیا تھا، کیا آپ کے خیال میں بھارت میں اس وقت کوئی ایسی شخصیت موجود ہے جسے آپ دوبارہ پاکستان کی جانب سے تمغے کیلئے نامزد کرنا چاہیں گے

صدر جنرل پرویز مشرف

میں واجپائی صاحب کو نامزد کرنا چاہوں گا۔ اگر ہم کشمیر کے حل کی طرف چل پڑیں۔


نگیندر شرما، ہندی سروس

کشمیر کا حل کیسے ممکن ہوسکتا ہے جب آپ اس گفتگو میں بھی پاکستان کے روایتی موقف کی بات کررہے ہیں کہ کشمیر میں اندرونی طور پر آزادی کی جدوجہد جاری ہے جب کہ بھارت اسے تسلیم نہیں کرتا؟

صدر جنرل پرویز مشرف

آپ نے الٹ سوال پوچھ لیا ہے، یہی تو اصل مسئلہ ہے جو کہ حل نہیں ہورہا تو اندرونی جدوجہد جاری ہے جسے اگر ختم کرنا ہے تو مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔


جیتندر سنگھ بھاٹیہ، بھارت

پاکستانی سرکار کشمیر کی سرحد سے اپنی فوجیں کب ہٹائے گی؟

صدر جنرل پرویز مشرف

 آئیے دونوں مل کر فوجیں ہٹا لیتے ہیں، آپ اپنی سات لاکھ ہٹالیں، ہم اپنی پچاس ہزار ہٹا لیتے ہیں۔ ان سے پوچھئے کہ کیا انہیں یہ منظور ہے۔ اگر انہیں یہ منظور ہے تو کل سے ہی یہ کام شروع کردیتے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف

ایسا سوال میں نے آج تک نہیں سنا ہے کہ پاکستان کشمیر سے اپنی فوجیں کب ہٹائے گا۔ سات لاکھ فوج تو بھارت کی بیٹھی ہوئی ہے کشمیر میں، ہماری تو صرف پچاس ہزار ہے۔ آئیے دونوں مل کر فوجیں ہٹا لیتے ہیں، آپ اپنی سات لاکھ ہٹالیں، ہم اپنی پچاس ہزار ہٹا لیتے ہیں۔ ان سے پوچھئے کہ کیا انہیں یہ منظور ہے۔ اگر انہیں یہ منظور ہے تو کل سے ہی یہ کام شروع کردیتے ہیں۔



اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد