BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: 01 December, 2003 - Published 22:06 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپ کے سوالات مشرف کے جوابات (دوسرا حصہ)
جنرل مشرف اور نعیمہ احمد مہجور
نعیمہ احمد مہجور صدر مشرف سے گفتگو کرتے ہوئے

اس موقعے پر شفیع نقی جامعی نے پاکستان سے مختلف لوگوں کی صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار کے بارے میں آراء سنائیں۔


شفیع نقی جامعی

ان آراء میں کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ آپ کے دور میں دوائیں، پیٹرول اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔ ان پر قابو پانے کے لئے آپ کی حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟

مہنگائی اور ٹماٹر

 یقیناً مہنگائی ہوئی ہے لیکن جو ایک صاحب ٹماٹر کی بات کر رہے تھے کہ ایک سو بیس روپے کلو تک چلا گیا ہے۔ کیا انہوں نے وہ ایک سو بیس روپے کلو والا ٹماٹر ہی کھانا ہے؟

صدر پرویز مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف

جی ہاں، قیمتیں ضرور بڑھی ہیں لیکن یہ ان میں سے جو ایک صاحب ٹماٹر کی بات کر رہے تھے کہ ایک سو بیس روپے کلو تک چلا گیا ہے۔ دیکھئے جو موسم کی سبزی ہو بس وہی کھائیں، بے موسمی چیز خریدیں گے تو وہ مہنگی ہوگی۔ ٹماٹر نہ کھائیں، میرا مطلب ہے کیا دوسری سبزیاں نہیں مل رہیں۔ کیا انہوں نے وہ ایک سو بیس روپے کلو والا ٹماٹر ہی کھانا ہے؟ یہ درست ہے کہ قیمتیں نہیں بڑھنی چاہئیں لیکن اس کا انحصار عالمی منڈی میں قیمتوں پر ہوتا ہے۔ ہم اس پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔



منور ملک، سندھ، پاکستان

آپ ایک آئینی حکومت کو ہٹا کر صدر بن بیٹھے ہیں۔ اگر آپ پر بغاوت کا مقدمہ دائر ہوجائے جیسے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر قتل کا مقدمہ دائر ہوا تھا اور انہیں پھانسی دے دی گئی تھی، اس سلسلے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟

آپ سندھی لگتے ہیں

 اگر ہم یہ اقدامات نہ کرتے تو ایک ناکام اور دہشت گرد ریاست بھی قرار دے دیئے جاتے اور وہ آپ کو شاید بہتر لگتا۔

صدر پرویز مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف

یہ آپ سندھ سے بول رہے ہیں ناں کیوں کہ اس طرح کے سوالات عموماً سندھ کے لوگ کرتے ہیں۔ میں آپ پر واضح کردوں کہ میں سب کچھ پاکستان کے حق میں کرتا ہوں۔ آپ اس بات پر توجہ دیں کہ آیا پاکستان میں بہتری آئی ہے؟ آپ تین چار برس پہلے کہاں تھے اور اب کہاں ہیں۔ ہم ایک ناکام ریاست قرار دیئے جانے والے تھے۔ اگر ہم یہ اقدامات نہ کرتے تو نہ صرف یہ ہوچکا ہوتا بلکہ ہم ایک دہشت گرد ریاست بھی قرار دے دیئے جاتے اور وہ آپ کو شاید بہتر لگتا۔ دیکھیں میں ڈرتا صرف اللہ تعالیٰ سے ہوں، میں آپ جیسے لوگوں سے یا کسی سے نہیں ڈرتا۔ اللہ انصاف کرے گا۔


نعیمہ احمد مہجور، اردو سروس

پاکستان میں ماضی میں جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں، کیا ان سے ملک میں واقعی جمہوریت آئی؟

صدر جنرل پرویز مشرف

پاکستان میں صحیح جمہوریت کبھی چلی ہی نہیں ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں پائیدار جمہوریت آئے۔


عبدالعزیز انصاری، دوبئی

آپ پاکستان کے مضبوط ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں آپ کی کیا مجبوری ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں جو ماضی یا حال میں بھی بدعنوان رہے ہیں؟

میری کوئی مجبوری ہو گی

 آپ گِلا کریں ان لوگوں سے جنہوں نے بدعنوان لوگوں کو چنا ہے۔

صدر پرویز مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف

آپ خود سوچیں میری کوئی مجبوری تو ہوگی ہی لیکن بہرحال مجھے نہیں معلوم کہ آپ کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جو لوگ بھی ساتھ ہیں انہیں لوگوں نے منتخب کیا ہے۔ آپ گِلا کریں ان لوگوں سے جنہوں نے ان کو چنا ہے۔


امتیاز راہی، امریکہ

جنرل صاحب، حکومت میں آنے سے پہلے آپ کے بلند بانگ دعوے تھے کہ آپ بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے لیکن حکومت کی تشکیل کے بعد آپ انہی بدعنوان لوگوں پر تکیہ کئے ہوئے ہیں۔ اس سے آپ کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ آپ اس پر کیا تبصرہ کریں گے؟

صدر جنرل پرویز مشرف

میں نہیں جانتا کہ آپ کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں لیکن یہ سب منتخب نمائندے ہیں اس لئے آپ کو شکوہ ان لوگوں سے کرنا چاہئے جو انہیں منتخب کرتے ہیں کیوں کہ میں نے انہیں منتخب نہیں کروایا۔ میں یہ بات ضرور کہوں گا کہ کسی بھی بے ایمان شخص کو میں نامزد نہیں کروں گا۔ آپ ماضی کو بھول کر موجودہ حکومت پر نظر ڈالیں اور مجھے بتائیں کہ کیا کوئی بے ایمانی ہو رہی ہے۔ میں اس معاملے پر بڑی گہری نگاہ رکھے ہوئے ہوں۔


جاوید شیخ، دوبئی

صدر صاحب، گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد آپ نے افغانستان مخالف امریکی کارروائیوں کا ساتھ دیا جسے کسی حد تک جائز بھی قرار دیا جا سکتا ہے کیوں کہ امریکہ میں بہت زیادہ خون خرابہ ہوا تھا۔ لیکن آج امریکہ جو کچھ عراق میں کر رہا ہے، آپ نے اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی؟

صدر جنرل پرویز مشرف

دیکھیں ہم نے کبھی بھی عراق میں جنگ کی حمایت نہیں کی۔ نہ ہم نے سلامتی کونسل میں اس کے حق میں کبھی ووٹ ڈالا، نہ کبھی اس کی حوصلہ افزائی کی بلکہ ہم نے دباؤ کے باوجود فوجیں بھیجنے سے انکار کیا ہے۔ میں نے اور پاکستان نے جو موقف اختیار کیا وہ پاکستان کے قومی مفاد میں تھا اور ہم آئندہ بھی یہی کریں گے۔


پروفیسر خواجہ احمد حئی، دہلی، بھارت

لفظ مہاجر پر پابندی کیوں نہیں؟ پاکستان جمہوریت کے لئے بنا تھا لیکن جمہوریت کب آئے گی اور آپ نے اس سلسلے میں کیا کیا ہے؟

صدر جنرل پرویز مشرف

پاکستان میں ہم نے جب نیا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینے کی بات کی تو ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں عوامی سطح پر جمہوریت نہیں پنپ سکی۔ ووٹ تو لوگ ضرور ڈالتے ہیں لیکن جمہوری اقدار کا وجود نہیں ہے۔ پہلا کام ہم نے یہ کیا ہے کہ مقامی سطح پر انتظامی نظام متعارف کروایا ہے اور لوگ اسے ایک خاموش انقلاب کا نام دیتے ہیں۔ جب تک احتساب اور نگرانی موجود نہ ہوں بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ہم نے ان پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ باقی جہاں تک مہاجر کا تعلق ہے، میں یہ مانتا ہوں کہ یہ نہیں کہنا چاہئے۔ ہم انہیں کب تک مہاجر کہتے رہیں گے۔ انہیں سندھی کہنا چاہئے۔


مانک گپتا، ہندی سروس

پاکستانی عوام نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی وی پر اپنا میچ خود ہی نہیں دیکھ سکے۔ کیا آپ کرکٹ کے معاملات سے مطمئن ہیں؟

قصوروار کون۔۔۔؟

 پاکستان کے عوام کے میچ نہ دیکھ سکنے پر میں تہِہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ لیکن میں اس معاملے کی گہرائی میں نہیں جانا چاہتا کہ قصور کس کا ہے۔

صدر مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف

پاکستان میں میچ نہ دیکھے جانے کا مجھے بھی بڑا افسوس ہے اور اسی لئے میں نے فوراً ایکشن لیا اور ہم نے دوسرا میچ دیکھا۔ میں اس بات کی گہرائی میں نہیں جانا چاہتا کہ قصور کس کا ہے۔ پاکستان کے عوام کے میچ نہ دیکھ سکنے پر میں تہِہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔


شفیع نقی جامعی، اردو سروس

آپ نے پاکستان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قبائلی علاقوں اور افغان سرحد پر جاری حالات اگر بہتر نہ ہوئے تو پھر ہم پر بھی بم گرائے جا سکتے ہیں۔ آپ کی اس سے کیا مراد تھی؟

صدر جنرل پرویز مشرف

میں ان پر یہ عیاں کرنا چاہتا تھا کہ پاکستان کو خطرہ کس چیز سے ہے۔ ہم طاقتور ہیں، ہمیں باہر سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اندرونی طور پر ہماری معیشت بہتر ہو رہی ہے البتہ ہمیں ایک چیز سے خطرہ ضرور ہے اور وہ ہے فرقہ ورانہ اور مذہبی انتہا پسندی اور یہ ہمیں لے بیٹھے گی۔ دراصل اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے ایک انتہائی نقطہ نظر پیش کیا تھا کہ اگر ہم نے اس صورتِ حال پر قابو نہ پایا تو شاید دوسرے لوگ یہ سمجھیں کہ ہم اپنی سرحدوں کے اندر کچھ نہیں کر پا رہے تو کیوں نہ ہم ہی ان پر بم گرانا شروع کر دیں۔ میں نے محض ایک خطرے سے آگاہ کیا تھا۔


نعیمہ احمد مہجور، اردو سروس

پاکستان میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ آپ کو چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ لوگ اپنے فیصلے خود نہیں کر پاتے؟

صدر جنرل پرویز مشرف

میں بھی حکومت کا حصہ ہی ہوں۔ آپ کے سوال سے ایسا لگتا ہے کہ صدر گھر میں تالے کے اندر بیٹھا رہے چپ کر کے۔ اگر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں تو میری خوش قسمتی ہے۔


نگیندر شرما، ہندی سروس

ایک بی بی سی سننے والے کا کہنا ہے کہ آپ نے ایک ٹی وی چینل پر کہا تھا کہ پاکستان کا کوئی بھی لیڈر کشمیر کو چھوڑنے کی بات نہیں کر سکتا، جو کشمیر کو چھوڑنے کی بات کرے گا وہ رہنما نہیں رہ سکتا۔ کیا بھارت اور پاکستان کے سربراہان کشمیر کو صرف اپنی کرسی کے لئے استعمال کر رہے ہیں؟

صدر جنرل پرویز مشرف

نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ ہمیں حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا چاہئے۔ کشمیری ہمارے معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں جو کہ اپنے منفرد احساسات و نظریات کے حامل ہیں۔ اسی بنیاد پر وہ اپنی توقعات بھی وابستہ کرتے ہیں۔ میرے چیف آف جوائنٹ سٹاف اور انفرمیشن منسٹر بھی کشمیری ہیں۔ گزشتہ پچاس برس سے ہم اس مسئلے کو حل کرنے کی سفارتی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی حکمراں پچاس برس بعد اچانک یہ کہہ دے کہ ہم کشمیر کو بھول جاتے ہیں اور دیگر مسائل پر بات کرتے ہیں۔ یہ انتہائی غیر حقیقت پسندانہ اور خطرنا ک رویہ ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ حکومت سے باغی ہو جائیں۔ کوئی بھی رہنما قومی مفادات پر سودا نہیں کر سکتا۔


جمال الدین، کراچی، پاکستان

اللہ میاں ضیاء الحق صاحب کو جنت نصیب کرے، انہوں نے معذور افراد کا دو فیصد کوٹہ مقرر کر رکھا تھا۔ لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ آپ کی حکومت اس بارے میں کیا کر رہی ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف

میری ہمدردیاں معذور افراد کے ساتھ ہیں لیکن سچی بات تو یہ کہ مجھے واقعی اس بارے میں سوچنے کا موقعہ نہیں ملا۔ میں نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ میں اس معاملے پر بغور نظر ڈالنا چاہوں گا۔


میجر اعجاز شاہ، دیبال پور، پاکستان

کیا آپ ایک معزول جنرل اور غیر آئینی صدر نہیں ہیں؟ کیا آپ نے جہاد کے متعلق قرآنِ پاک کی آیت کی نفی کر کے دوسرا یاسر عرفات، میر جعفر اور کمال اتاترک بننے کی کوشش نہیں کی؟ کیا آپ نے ایک کٹر ہندو بننے کی کوشش نہیں کی؟

یہ وہی لوگ ہیں

 یہ اس قسم کے لوگ ہیں جن کو میں انتہا پسند اور پاگل سمجھتا ہوں، اصل میں انہی کو قابو کرنا ہے۔

صدر پرویز مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف

میں ان کے سوال کا جواب ایک جملے میں ضرور دینا چاہوں گا۔ یہ اس قسم کے لوگ ہیں جن کو میں انتہا پسند اور پاگل سمجھتا ہوں، اصل میں انہی کو قابو کرنا ہے۔


نگیندر شرما، ہندی سروس

اگلے ماہ اسلام آباد میں سارک ممالک کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ آپ کی اس سلسلے میں کیا امیدیں ہیں؟

صدر جنرل پرویز مشرف

سب سے پہلے تو مجھے یہ امید ہے کہ سارک سمٹ ہوگی۔ کیونکہ یہی مسئلہ تھا کہ سارک اجلاس ہو نہیں رہا تھا۔ دوسری امید مجھے یہ ہے کہ وزیرِ اعظم واجپئی صاحب یہاں آئیں گے۔ تیسری امید یہ ہے کہ واجپئی صاحب سب سے ملیں گے اور چوتھی امید یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ملاقات کارآمد اور فائدہ مند ہو۔


نگیندر شرما، ہندی سروس

کیا آپ وزیرِ اعظم واجپئی صاحب سے ملیں گے؟

صدر جنرل پرویز مشرف

اگر وہ ملنا چاہیں گے تو ملوں گا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ چونکہ بار بار میں ہی کہے جا رہا ہوں تو انہیں یہ تاثر نہ ملے کہ جیسے میں انہیں ملے بغیر رہ نہیں سکتا۔ میں بہت خوش ہوں، آرام سے بیٹھا ہوا ہوں۔


ثاقب کامران، پاکستان

پاکستان بھی امریکہ اور برطانیہ کے شہریوں کے لئے ویسی ہی امیگریشن کی پابندیاں عائد کیوں نہں کرتا جس طرح ان ممالک نے پاکستان کے شہریوں پر عائد کر رکھی ہیں؟

صدر جنرل پرویز مشرف

میری دعا ہے کہ کبھی ہم بھی اس قدر طاقتور ہو جائیں کہ وہاں سے بھی اتنے ہی لوگ یہاں آ رہے ہوں جتنے ہم وہاں جا رہے ہیں اور ادلے کا بدلہ اسی وقت ہو سکے گا۔ فی الحال تو یہ یکطرفہ ٹریفک ہے۔



ختم شد

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد