| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی شاہی خاندان اور حملے
پچھلے کچھ عرصے سے سعودی عرب میں مبینہ دہشت گرد کاروائیوں کی اطلاعات تسلسل سے آرہی ہیں۔ عمومی تاثر یہ رہا ہے کہ ان حملوں کا ہدف سعودی عرب میں موجود غیرملکی خصوصاً امریکی اور مغربی افراد ہیں اور اسامہ بن لادن بھی بظاہر یہی کہتے آئے ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد سعودی عرب سے امریکیوں کو نکال باہر کرنا ہے۔ تاہم ریاض میں ہفتے کے روز خود کش حملے کے بعد، جس میں کم سےکم سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمٹیج نے سعودی عرب میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں دراصل سعودی حکمران گھرانے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ کیا ان حملوں کا مقصد واقعی خاندانِ سعود کی حکومت پر گرفت کمزور کرنا ہے؟ کیا سعودی عرب میں جمہوری اقدار کے فروغ اور آزادی اظہار رائے سے ان عناصر کا اثر رسوخ کم کرنے میں مدد ملے گی جو اس طرح کے حملوں کا باعث ہیں؟ کیا موجودہ سعودی حکومت ان پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی؟ یا آلِ سعود کا دورِ حکمرانی مزید مشکلات کی طرف بڑھ رہا ہے؟ ----------------- یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------
عمران زیدی، واشنگٹن، امریکہ سعود خاندان نے خود بھی حکومت پر برطانوی حکومت کی مدد سے قبضہ کیا تھا۔ وہ سپاہِ صحابہ اور طالبان کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ وہ اسلام کے منہ پر دھبہ اور دنیا کے امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ میرا خیال ہے تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔ خالد یعقوب، قبرص، ترک قبرص میری دعا ہے کہ سعودی عرب میں دہشت گردی کا خاتمہ ہواور اس سے آل سعود خاندان کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور سعودیہ میں بادشاہت قائم رہے۔ مشتاق احمد خان، لاہور، پاکستان سعودی عرب کا مسئلہ باقی دنیا کے مسئلے سے جدا نہیں ہے اور وہ ایک ہی مسئلہ ہے کہ سرمایہ داری تاریخ کے کچرے کے ڈبے میں پھینکی جانے والی ہے اور سائینسی سوشلزم کا زمانہ آگیا ہے۔
محمد فدا، ٹورنٹو، کینیڈا یہ واقعی افسوس کی بات ہے کہ سعودی عرب کو اب ایک چیلنج کا سامنا ہے۔ دہشت گردی اس بادشاہت کی تباہی کا سبب بنے گی۔ مجھے یاد ہے کہ انیس سو اناسی میں کچھ لوگوں نے کعبے پر قبضہ کر لیا تھا اور تب سے وہ موجودہ حکمرانوں کو ہٹانے کے مشن پر کام کر رہے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے اسلام میں جمہوریت کبھی نہیں رہی۔ اس لئے مغرب کو انہیں بچانے کے لئے آنا ہوگا کیونکہ سرد جنگ کے دنوں میں سعودی بادشاہت نے کمیونزم کے خلاف جو کچھ کیا وہ دین کو بچانے کے لئے تھا اور مغرب نے اس کی بہت حمایت کی تھی۔ راحیل اعجاز، نہ صرف سعودی عرب بلکہ ہر وہ ملک جہاں اسی طرح کے حکمران ہیں، یہ ہوتا رہے گا۔ غلام مصطفیٰ، لاہور، پاکستان یہ سب موجودہ سعودی حکومت کو ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ کو قابو کرنے کے لئے اپنی مرضی کی حکومت لانے کا امریکی کھیل ہے۔ مجھے اس میں القاعدہ دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ اویس الیاس، پاکستان یہ سب سعودی حکومت کا اپنا قصور ہے۔ ان کے ہی ملک کے شدت پسند دنیا بھر میں اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے ہائی جیکر اور افغانستان اور پاکستان میں ملوث حالیہ آپریشن میں گرفتار ہونے والے القاعدہ کے کارکنوں میں سے بیشتر کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ اب ان کے خلاف پوری دنیا میں آپریشن ہو رہا ہے تو یہ لوگ اپنے ملک میں کام دکھا رہے ہیں۔ جاوید شیخ، دوبئی یہ لوگ جو حملے کر رہے ہیں، نہ تو سعودی شاہی خاندان کے دشمن ہیں اور نہ ہی امریکہ کے۔ یہ صرف انسانیت کے دشمن ہیں اور لگاتار اس کا خون بہا رہے ہیں۔ یہ امریکہ کے ایجنٹ ہیں جو اسے موقعہ دیتے ہیں کہ ہر ایک جگہ اپنے قدم جما لے۔
شاہنواز نصیر، کوپن ہیگن، ڈنمارک اگر کسی چیز کو بہت زیادہ دبایا جائے وہ اتنی ہی دھماکے سے پھٹتی ہے۔ یہی حال سعودی معاشرے کا ہے جہاں ہر چیز نام نہاد پابندیوں میں جکڑی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ آلِ سعود کچھ عقل سے کام لیں اور لوگوں کو کچھ آزادی دیں تاکہ ان کو جذبات کے اظہار کے لئے مثبت پلیٹ فارم مل سکے ورنہ آنے والی تباہی کوئی نہیں روک سکے گا۔ محمد حسین، ٹورنٹو، کینیڈا اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ آلِ سعود خاندان ہی ہے۔ وہ طالبان، القاعدہ، وہابیت، سپاہِ صحابہ اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کے ذمہ دار ہیں جن کی وہ حمایت اور مالی اعانت کرتے ہیں۔ اب وہ اپنے افعال کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اکرام صادق، پاکستان یہ حملے امریکی کروا رہے ہیں تاکہ وہ سعودی عرب کا دفاع وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بہانہ بنا کراپنے ہاتھوں میں سنبھال لیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ حکومت کو بھی غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ عبداللہ، مہاتر اور مشرف وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے لئے کچھ کر سکتے ہیں۔ مزمل حسین، اسلام آباد، پاکستان آلِ سعود کافروں کے ایجنٹ ہیں جیسے کہ دوسرے مسلمان رہنما خاص کر مشرف۔ محمد ندیم سردار، ابو ظہبی یہ کارکردگی نہ تو اسامہ بن لادن کی ہے اور نہ کسی مسلمان گروہ کی۔ یہ حقیقت میں ’بِگ باس‘ امریکہ کے کھیل ہیں۔ شوکت علوی، سعودی عرب یہ سب کچھ امریکہ کا کیا دھرا ہے۔ وہ عراق کے بعد سعودی عرب میں اپنی نام نہاد جمہوریت کا چکر چلا رہا ہے۔ ریاض کے دھماکے میں بھی امریکی سی۔آئی۔اے کا ہاتھ ہے۔
احمد، اسلام آباد، پاکستان سعودی عرب کے شاہی خاندان کے افراد سب سے برے لوگ ہیں اور درحقیقت آلِ سعود ہی اسلام کی دشمن ہے۔ سید ابو انتظام، فیصل آباد، پاکستان جو کچھ سعودی حکمران کر رہے ہیں وہ سب مسلمانوں کی خواہشات کے خلاف ہے۔ جس طرح دنیا کے باقی مسلمان ممالک کے عوام اپنے حکمرانوں کے خکاف ہیں اسی طرح سعودی عوام بھی اپنے حکمرانوں کے خلاف ہیں۔
علی خان، سعودی عرب یہ کام بلاشبہ اسرائیل اور امریکہ کا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ اپنا سفارتخانہ بند کرنے کے فیصلے کا جواز پیدا کر سکے اور سعودی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے۔ امریکہ اور اسرائیل ان کارروائیوں کے ذریعے اسلام کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مسعود احمد، حیدرآباد، پاکستان اس کارروائی میں القاعدہ یا امریکہ کی سی۔آئی۔اے کا ہاتھ ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں اپنے مفادات کے لیے ایسی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ اپنے مفاد کے لیے اپنا آدمی مارنے میں بھی دریغ نہیں کرتا جیسا کہ اس نے ضیاء الحق کو مروا کر کیا۔
محمد ثاقب احمد، بہار، بھارت ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ریاض میں سنیچر کے روز ہونے والا حملہ کس نے کیا ہے۔ جہاں تک میرے علم میں ہے سعودی پولیس نے بھی یہ نہیں بتایا کہ حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ رچرڈ آرمیٹج جو کہہ رہے ہیں وہ حرفِ آخر تو نہیں ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کے ہر بیان کے پیچھے اس کا کوئی مفاد ہوتا ہے۔ سعودی شاہی خاندان جس طرح امریکی صدور کی قدم بوسی کرتا آیا ہے اور مغربی ممالک کی چاپلوسی کو اپنی حکومت کے تحفظ کی ضمانت سمجھتا ہے، اس پر ہر عام مسلمان شرمندہ ہے، لوگوں میں ان کی مقبولیت گزشتہ دو برس میں تیزی سے گری ہے اور حکومت پر ان کی گرفت یقیناً کمزور ہوئی ہے۔ اس کے بعد نامعلوم حملہ آوروں نے رمضان کے مہینے میں تازہ حملہ کر کے سعودی حکمرانوں کی گرفت مزید کمزور کر دی ہے۔ عاصم علی خان، لاہور، پاکستان میرے خیال میں یہ کام سعودی حکمرانوں کے خلاف نہیں ہے یعنی ان کارروائیوں کا مقصد انہیں ہلاک کرنا نہیں ہے بلکہ ان کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ سعودی عرب میں دہشت گردی کے مقابلے کے لیے اپنی بنیادیں مضبوط کر رہا ہے۔
عثمان خان، لندن، برطانیہ یہ حملے درحقیقت سعودی حکومت پر خاندانِ سعود کی گرفت کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔ آزاد ذرائع ابلاغ اور جمہوریت سعودی عرب میں سخت گیر ماحول میں نرمی پیدا کرنے میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ سعودی حکومت کو اب مشکلات کا سامنا ہو گا۔ سعودی عرب میں بیرونی مداخلت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت متعارف کرائے گا۔ سید خالد حسین جعفری، حیدرآباد، پاکستان ان حملوں کا مقصد سعودی حکومت کو کمزور بنانا ہے۔ یہ کارروائیاں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ اس صورت حال سے ملک میں نراجیت یعنی انارکی پھیلے گی، سعودی عوام عدم تحفظ کا شکار ہوں گے اور عالم اسلام میں بےچینی پیدا ہو گی۔ یہ تمام عوامل کا دباؤ سعودی حکومت پر براہ راست پڑے گا۔ ضیاء احمد پٹھان، پاکستان یہ اسرائیل کا کام ہے کیونکہ کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا ہے۔ عتیق، لاہور، پاکستان میرے خیال میں ان بم حملوں کا ہدف سعودی حکام ہیں کیونکہ ان کی پالیسیاں اچھی نہیں ہیں۔ ملک میں جمہوریت کا نام نہیں لیکن اس کے باوجود امریکہ اپنے مفاد کی خاطر سعودی حاکموں کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم سعودی عرب میں ملک کے حکمرانوں کے مخالف بھی موجود ہیں، وہی یہ کارروائیاں کر رہے ہیں اور میرے خیال میں وہ بالکل درست کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||