| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حامد کرزئی سےگفتگو
افغانستان کے صدر حامد کرزئی طالبان کی طاقت کے مرکز قندھار کے ایک اہم قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور امریکی افواج کی قیادت میں افغانستان پر کیے جانے والے حملوں کے بعد اور طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان کے صدر ہیں۔ وہ افغانستان میں اور عالمی طور پر ایک اہم رہنما کے طور ابھر کر سامنے آئے ہیں تاہم طالبان کے بعد افغانستان میں مقامی جنگجو سرداروں میں طاقت اور علاقوں کے حصول کے لئے جنگ جاری ہے۔ حال ہی میں صدر کرزئی نے خبردار کیا تھا کہ پندرہ ارب ڈالر کی اضافی رقم کے بغیر نہ تو افغانستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے گا اور نہ ہی طالبان کے حامیوں کو جڑ سے اکھاڑنا ممکن ہوگا۔ تاہم افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ایسے کئی سوالات ہیں جو ابھی تک جواب طلب ہیں۔ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں اسلام کا کیا کردار ہوگا؟ افغانستان کے استحکام اور تعمیرِنو میں وہ کون سے اقدامات ہیں جو عبوری حکومت کیلئے لینا ضروری ہیں؟ اور ایسے ہی کئی اور سوالات۔ لیس ڈوسٹ: سوال و جواب کے پروگرام میں خوش آمدید۔ ہمارے آج کے مہمانِ خصوصی افغانستان کے صدر حامد کرزئی ہیں۔ وہ یہاں لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر ہمارے ساتھ ہیں۔ اگرچہ افغانستان میں تقریباً دو سال پہلے صدر کرزئی کی عبوری حکومت آنے کے بعد سے بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے لیکن حالیہ مہینوں میں طالبان کے حامی پھر سے سر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ افغان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کی اپنی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ صدر کرزئی آج ہمارے ہمراہ اس خصوصی پروگرام کا حصہ ہیں جس میں زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق مسلمانوں سے ہم اسلام اور مغرب کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔ صدر کرزئی خوش آمدید، ہم نے دنیا بھر سے کئی ای میلز اور فون کالز موصول کی ہیں اور ان لوگوں کے کئی سوالات ہیں۔ المے غازی: جنابِ کرزئی، یہاں امریکہ میں یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ افغانستان اور عراق کی جنگوں میں ایک تعلق ہے اور سیاستدان اور میڈیا دونوں اسے ایسے ہی پیش کرتے ہیں۔ طالبان کو عراق سے ملانا ناانصافی ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ ہم خاص طور پر امریکی عوام کو آگاہ کریں کہ افغانستان عالمی مسئلہ ہے اور اسے ہر قیمت پر حل کرنا ہوگا۔ عالمی طور پر اور خصوصاً مسلمانوں میں عراق پر جنگ کےغیر مقبول ہونے اور بعد میں تسلی بخش نتائج نہ برآمد ہونے کی وجہ سے اس کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے افغانستان پھر تنہا رہ گیا ہے۔ کیا آپ اس پر فکر مند ہیں؟
صدر کرزئی: یہ ایک بہت ہی اہم تجزیہ ہے اور مجھے آپ سے بہت حد تک اتفاق ہے۔ عراق اور افغاستان کے حالات میں بہت فرق ہے۔ افغانستان میں کامیاب تبدیلی آچکی ہے۔ افغانستان میں عالمی امن اور سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے اور اگر اس سے درست انداز میں نہ نمٹا گیا اور اگر افغانستان اپنے پیروں پر نہ کھڑا ہوا تو یہ خطرہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔ آپ بالکل درست کہتے ہیں، ہمیں زیادہ کوشش اور زیادہ آواز بلند کرنا ہوگی تاکہ عالمی طور پر افغانستان اور عراق کے فرق کو واضح کیا جاسکے۔ لیس ڈوسٹ: ایک اور سوال جو اٹھایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ مخالف جذبات دراصل طالبان کی حمایت میں اضافے کا موجب بن سکتے ہیں۔
صدر کرزئی: ایسا نہیں ہے۔ افغانستان میں ابھی تک عالمی افواج کے حق میں بڑی حمایت موجود ہے۔ صرف تین ہفتے پہلے ہم قومی سلامتی کونسل کے دوسرے ارکان کے ہمراہ پناہ گزینوں، ان کے دو نمائندوں اور انہیں واپس آباد کرنے والے افراد سے بات چیت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے علاقوں کو لوٹنے کو تیار ہیں اگر وہاں افغان افواج یا عالمی افواج کو متعین کیا جائے۔ اس طرح کے احساسات اس بات کا واضح اظہار ہیں کہ لوگ کسی نہ کسی سطح پر ابھی تک عالمی افواج کی موجودگی کے خواہاں ہیں اور فی الحال اسی میں ملک کی بہتری سمجھتے ہیں۔ بگیہ خان، لندن: مجھے اچھی طرح یاد ہے جب جیک سٹرا نے عہد کیا تھا کہ مغرب افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا جیسا کہ اس نے روسیوں کے جانے کے بعد کیا۔ دوسال گزر جانے کے بعد بھی اگر افغانستان میں سیاسی استحکام نہیں دکھائی دیتا تو عراق کے لئے ہم کیسے یہ امید کر سکتے ہیں؟
صدر کرزئی: دو باتیں ہیں۔ پہلی تو یہ کہ امید ہے کہ عالمی برادری نے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ افغانستان کو روسیوں کے جانے کے بعد بے یارو مددگار چھوڑ دینے کی ہمیں اور انہیں بڑی قیمت ادا کرنا پڑی۔ انسان نے ہمیشہ تجربے سے سیکھا ہے اور امید ہے کہ یہ تجربہ مغرب کو اچھی طرح یاد رہے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ افغانستان میں ہمیں ابھی تک مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک تو ہمسایہ ملک کی طرف سے دہشت گرد کارروائیاں ہیں اور دوسرا اندرونی مسلح گروہ ہیں جنہوں نے عام افغانوں کی زندگی مصیبت بنا دی ہے۔ ہم ان دونوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے میرا صدر مشرف اور حکومت پاکستان سے مسلسل رابطہ ہے۔ امید ہے کہ افغانستان میں امن اور تعمیر نو میں پیدا کی جانے والی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ تاہم اقتصادی طور پر افغانستان بہت ترقی کر رہا ہے۔ اچھی بارشوں، برف پڑنے اور اچھی فصلوں کی وجہ سے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ پورے افغانستان سے گزرنے والی شاہراہ کی تعمیر جاری ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پچھلے سال ہم نے تیس فیصد اقتصادی ترقی کی ہے جو ہمارے حساب سے بہت اچھی ہے۔ ہمارا اگلے سال کا بیس فیصد کا ہدف ہے اور اگر چند سال تک یہی حالات رہے تو افغانستان بہت بہتر حالت میں ہوگا۔ ادریس اے ابراہیم، صومالی لینڈ: زیادہ تر اطلاعات کے مطابق طالبان پشتون علاقوں میں دوبارہ جمع ہو رہے ہیں۔ آپ ان سے کیسے نمٹیں گے کیونکہ انہیں بھی اتنی ہی حمایت حاصل ہے جتنی آپ کو؟ صدر کرزئی: میں اس سے تھوڑا سا اختلاف کروں گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں حتمی طور معلوم نہیں ہے کہ جو لوگ سڑک مزدوروں اور بچوں اور بچیوں کے سکولوں پر حملے کر رہے ہیں اور امداری کارکنوں کو مار رہے ہیں وہ طالبان ہیں یا افغان ہیں یا کوئی اور۔ ہم ان حملوں کی جڑ ڈھونڈھ رہے ہیں اور وہ شاید افغانستان سے باہر ہی ہیں جیسے کہ وہ اس وقت بھی تھیں جب افغانستان بدترین حالت سے گزر رہا تھا۔ دوسرا اگر تشدد اور انتہا پسندی اور افغانستان کی مخالفت کی جڑیں افغان عوام میں ہوتیں تو ہم طالبان حکومت اور ان کے القاعدہ کے ساتھیوں کو ایک ماہ کے اندر جڑ سے اکھاڑ پھینکتے۔ آخر امریکیوں نے صرف طالبان کے ٹھکانوں کو ہی نشانہ بنایا تھا۔ امریکی فوجیوں نے انہیں تعاقب کر کے نہیں نکالا۔ انہیں افغانوں نے مار کر بھگایا ہے۔ جب میں ان کے خلاف لڑ رہا تھا تو میں نے کبھی براہ راست کسی فوجی آپریشن میں حصہ نہیں لیا۔ لیکن گاؤں گاؤں میں نے دیکھا کہ افغانوں نے خود انہیں مار بھگایا۔ محمد شعیب، ہرات: آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کئی دوسرے افغان کمانڈروں اور رہنماؤں کی طرح آپ کا بھی اپنی سیاسی پارٹی یا فوجی گروہ ہو تو آپ ملک کے لئے باآسانی فیصلے کر سکیں گے۔ ایسا نہیں ہے۔ افغانستان پہلے ہی ایسی پارٹیوں اور آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے بری طرح تباہ ہو چکا ہے اور صعوبتوں سے گزرا ہے۔ افغانستان کو اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ایک پرامن، مستحکم اور اقتصادی طور پر مضبوط افغان معاشرہ اور ریاست قائم کرنی ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے قوانین وضع کئے جا چکے ہیں جن کے تحت لوگ ایک ایسے پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے جو غیر مسلح ہوگا اور اگر کوئی اپنی مسلح شاخ قائم کرے گا تو اس پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ فوج اور دیگر ریاستی ادارے سیاست میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ میں خود سیاسی پارٹیوں میں حصہ لینے پر خاص یقین نہیں رکھتا۔ میرا خیال ہے کہ ہم نے ان کے ہاتھوں خاصی صعوبتیں اٹھا لی ہیں۔ لیس ڈوسٹ: اگر آپ اگلے سال افغانستان کے انتخابات میں صدارت کے امیداوار ہوں گے تو آپ کسی سیاسی جماعت کی قیادت نہیں کریں گے؟ صدر کرزئی: سیاسی پارٹی کا تو معلوم نہیں لیکن یقیناً ایک تحریک میں ضرور۔ لیس ڈوسٹ: کیا آپ کوئی تحریک قائم کرنے والے ہیں؟ کیا تیاریاں ہو رہی ہیں؟ صدر کرزئی: جی ہاں لیس ڈوسٹ: تو آپ انتخابات لڑیں گے؟ صدر کرزئی: جی ہاں فرید شیرازی، کیلیفورنیا: جناب صدر آخر آپ کب تک ان بدنام زمانہ جنگجو سرداروں کو اپنی حکومت میں شامل رکھیں گے جن پر آپ خود بھی بھروسہ نہیں کر سکتے اور آپ کو اپنے لئے بھی امریکی حفاظتی دستے کا انتخاب کرنا پڑا؟
صدر کرزئی: ہمیں قدم بہ قدم ترقی کرنا ہوگی اور ایسے قدم اٹھانے ہوں گے جو پرامن ہوں اور جن سے سب اتفاق کرتے ہوں۔ ہم افغانستان میں کوئی انقلاب برپا نہیں کر رہے۔ ہمیں قانونی اقدامات کے ذریعے ملک میں استحکام قائم کرنے کے لئے وقت درکار ہوگا۔ ہمیں پورے معاشرے کو لیکر ساتھ چلنا ہوگا کہ ہم اسے تشدد سے پاک کر سکیں۔ مجھ میں یہ صبر موجود ہے جس کی وجہ سے ہم کامیاب ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ آپ بھی صبر سے کام لیں گے۔ ہم آئین بنا رہے ہیں، آٹھ مہینے میں انتخابات ہیں۔ اب افغان عوام کو رہنما منتخب کرنے کا اختیار ہوگا۔ جنہیں وہ چنیں گے وہ ان کے نمائندے ہوں گے اور جنہیں وہ منتخب نہیں کریں گے انہیں اپنی باری کا انتظار کرنا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ اب ہتھیار لہرانے، گاؤں کے گاؤں برباد کرنے اور زندگیوں سے کھیلنے کا دور افغانستان سے ختم ہو چکا۔ لیکن اس سب کیلئے ایک پرامن سیاسی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ روزا یاری، غزنی: اگرچہ طالبان کے جانے کے بعد ہم سلامتی اور امن کے استحکام کے لئے بہت کوشش کر رہے ہیں لیکن مختلف صوبوں میں لوگ روز مارے جا رہے ہیں اور لڑکیوں کے سکولوں پر حملے جاری ہیں۔ دوسال کے تجربے کے بعد آپ کی نظر میں اس مسئلے کا بہترین حل کیا ہے؟
صدر کرزئی: بہت اچھا سوال ہے۔ میرا نہیں خیال کہ جو لوگ ان جرائم کے مرتکب ہیں وہ افغان ہیں۔ میں تجربے کی بنیاد پر یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ افغانستان سے باہر سے آرہے ہیں۔ کچھ ہفتے پہلے میں نے ایک مسجد میں کچھ پاکستانی افراد کو جو خود کو دینی علما کہتے ہیں، مخاطب کیا تھا اور میں نے مثالیں بھی دی تھیں کہ کیسے ان میں سے چند لوگ افغان نوجوانوں کو اکسا رہے ہیں، انہیں پیسے دے کر سڑک کی تعمیر میں کام کرنے والوں کو مارنے کیلئے بھیج رہے ہیں۔ اب یہ ایک ایسا مسئلہ جسے افغانستان کو عالمی سطح پر حل کرنا ہوگا۔ ہمیں امریکہ، یورپ اور پاکستان کی مدد درکار ہوگی۔ میں نے صدر مشرف سے بات کی ہے اور ہمیں وعدے کئے گئے ہیں۔ میں اسے اندرونی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھتا میری بہن، یہ بیرونی مسئلہ ہے۔ ایرک کک، واشنگٹن: جناب صدر، آپ کے خیال میں کیا آپ کو امریکہ کی جانب سے اتنی حمایت حاصل ہے کہ آپ پورے ملک کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہوں؟ صدر کرزئی: مجھے امریکی حکومت کی جانب سے اتنی حمایت حاصل ہے اور اگر مجھے کبھی لگا کہ ایسا نہیں ہے تو میں اظہار کروں گا، میں صدر بش کو بتاؤں گا اور اس پر بات کروں گا۔ فی الحال مجھے خاصی حمایت حاصل ہے۔ بس میں امید کرتا ہوں کہ افغانستان کو تعمیر نو کیلئے مزید بہت سی امداد فراہم کی جائیگی جو ہماری معیشت کے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے بنیادی ضرورت ہے۔ لیس ڈوئیٹ: کچھ اور اہم معاملات جس پر لوگوں کے بہت سوالات ہیں اور ای میلز آئی ہیں وہ افغانستان کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ہیں۔ ان میں دو یہ ہیں سواپ نیل، بھارت: کیا آپ اپنے قدیم ہمسائے بھارت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں سنجیدہ ہیں؟ حمید خان، اسلام آباد: جنابِ کرزئی آپ افغانستان میں قانون کے نفاذ میں اپنی حکومت کی ناکامی اور نااہلی کے لئے پاکستان کو قربانی کا بکرا کیوں بنا رہے ہیں؟ صدر کرزئی: جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو وہ ہمارا ہمسایہ ہے، اس نے ہماری مدد کی ہے اور ہم یقینی طور پر اس سے اچھے تعلقات اور باہمی تجارت کے خواہش مند ہیں۔ پاکستان کا جہاں تک تعلق ہے اس نے لاکھوں افغانوں کو کئی برس تک گرم جوشی اور محبت کے ساتھ پناہ فراہم کی ہے جس کےلئے ہم ہمیشہ احسان مند رہیں گے۔ اس میں کوئی دوسری بات ہی نہیں ہے۔ جہاں تک دہشت گردی اور انتہا پسندی کا تعلق ہے حامد خان صاحب کو احساس ہونا چاہئے کہ یہ دونوں افغانستان میں پیدا نہیں ہوئے۔ یہ ہماری روسیوں کے خلاف جدوجہد کے دوران پیدا ہوئے اور پاکستان سے طالبان اور القاعدہ کے ساتھ آئے۔ ہم پاکستان پر الزام لگانے کی کوشش نہیں کر رہے، ہم صرف وہاں اپنے بھائیوں سے درخواست کر رہے ہیں، وہاں کی حکومت سے کہہ رہے کہ اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جائے۔ اور جہاں تک ہماری حکومت کی اہلیت کا تعلق ہے تو یہ افغانستان میں تیس برس کی جنگ اور تباہی کے بعد بنی ہے۔ اس کی کوئی فوج نہیں ہے، کوئی پولیس نہیں ہے، کچھ نہیں ہے۔ ان حالات میں ہم نے جتنا کیا ہے میں تو اسی پر حیران ہوتا ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||