| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم جنس پرستی اور مذہب
امریکی ریاست نیو ہیمپ شائر میں اینگلیکن فرقے کے پہلے ہم جنس پرست بِشپ جین رابنسن کو تمام ضروری رسومات کے ساتھ ان کے منصب پر مامور کر دیا گیا ہے۔ اس تعیناتی پر امریکہ میں ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے اور خدشہ ہے کہ ان کے بشپ بننے سے اینگلیکن فرقہ تقسیم ہو جائے گا۔ اس تعیناتی کے مخالف گروہ کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی انجیل کے اصولوں اور تعلیمات کی سراسر خلاف ورزی ہے اور ایک بہت بڑا گناہ بھی۔ آپ کے خیال میں کیا ہم جنس پرستوں کا مذہبی مناصب پر تقرر درست ہے؟ کیا عیسائیت اور دوسرے مذاہب ہم جنس پرستی کی ممانعت کرتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں مذہبی تعلیمی اداروں یا مدرسوں میں عمداً یا جبراً ہم جنس پرستی کا وجود ہے؟ ----------------- یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------
اظہر بخاری، امریکہ یہ غلط بات ہے لیکن ہمارے ملک میں پشاور سے کراچی تک لڑکوں سے تعلقات رکھنا عام ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ بہت سے عوامی نمائندے، وزراء اور مذہبی رہنماؤں کے بھی نوجواں لڑکوں سے تعلقات رہے ہیں لیکن کوئی اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ حتیٰ کہ میڈیا بھی خاموش ہے۔ مسجدوں کے امام اور سکولوں تک میں یہ عام ہے لیکن پاکستان میں اس پر کوئی بات تک نہیں کرنا چاہتا۔ کم از کم امریکہ کسی میں تو اتنی جرات ہے جو کھل کر یہ کہہ رہا ہے۔ صبیح عالم، ٹورنٹو، کینیڈا ہم جنس پرستی کو ہر مذہب میں ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ امریکی آج کل کچھ زیادہ ہی اپنے آپ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور ہر گناہ کو اچھا بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اسی حرکت پر تو اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط پر عذاب بھیجا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کی باری کب آتی ہے۔ عبدالخلیق پنہور، امریکہ اگر جنسِ مخالف کو پسند کرنے والا شخص بشپ بن سکتا ہے تو ہم جنس کیوں نہیں بن سکتا۔ ہمیں اپنے دلوں اور دماغ کو کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ جو لوگ ہم سے مختلف ہیں انہیں مختلف ہونے کی آزادی دیں اور قبول کریں۔
ابرار، بالٹی مور، امریکہ کسی بھی سائنسی بحث میں پڑے بغیر، تینوں ابراہیمی مذاہب یعنی عیسائیت، یہودیت اور اسلام ہم جنس پرستی سے منع کرتے ہیں۔ جس طرح ایک چور، جھوٹ بولنے والے یا قاتل کی حرکات مذہب کے اخلاقی تقاضوں کے خلاف جاتے ہیں اسی طرح ہم جنسیت بھی مذہبی اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے۔ اس لئے ایسے شخص کو مذہبی رہنما نہیں بنایا جا سکتا۔ عرفان گل، پشاور، پاکستان میرے خیال میں ہم جنس پرستی ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اس کی کسی مذہب میں بھی اجازت نہیں ہے۔ یہ خدا، اسلام اور عیسائیت کے اصولوں سے انحراف ہے۔ لیکن ہم جنس پرستوں کی تعلیمی اور مذہبی اداروں میں موجودگی ایک حقیقت ہے۔
شہزاد راجہ، نیوزی لینڈ جنسی ترجیحات کی بنیاد پر ہم کسی انسان کی روحانیت کا درست تجزیہ نہیں کرسکتے۔ یہ خیال غلط ہے کہ ہم جنس پرست اچھے رہنما یا روحانی انسان نہیں ہو سکتے۔ ہاں وہ لوگ جو جبراً جنسی زیادتی کے مرتکب ہوں، خواہ وہ ہم جنس پرست ہوں یا مخالف جنس پرست، قابلِ مذّمت ہیں۔ میرے خیال میں جین رابنسن کی تقرّری ایک علامتی تقررّی ہے جس سے اینگلیکن چرچ میں رواداری اور کشادگی کا اندازہ ہوتا ہے یا کم از کم اس کشادگی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اسلام کے حوالے سے ہم جنس پرستی کی مذمت اور انسانی جنسیات اور روحانیات کے سچے مشاہدے کے لئِ ایک اور فورم درکار ہے۔ اچھا انسان وہ ہے جو اپنے معاملات میں انصاف اور امن کو مدِّ نظر رکھتا ہے۔ چاہے وہ ہم جنس پرست ہو یا کوئی اور۔ شہوت کی زیادتی مرض ہے، شہوت کے اظہار کے لئے رضامند ساتھ کا انتخاب مضمون نہیں۔ طارق ملک، امریکہ اگر آپ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کی مثال لیں تو آپ کو یہ مسئلہ ہمارے مدرسوں اور شرمناک حد تک مساجد کے حجروں میں بھی دکھائی دے گا۔ مجھے یہ کہتے ہوئے بہت تکلیف ہو رہی ہے کہ خاص طور پر صوبہ سرحد میں یہ عام ہے۔ اس سے قبل کہ ہم دوسروں پر انگلیاں اٹھائیں، ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ راشد ابراہیمی، لاہور، پاکستان عورت ٹھیک ہے لیکن ہم جنس مرد نہیں۔ وہ چلتا پھرتا ایڈز کا بم ہے۔
ارشد قائم خانی، کراچی، پاکستان ہم جنس پرستی کسی بھی آسمانی مذہب میں جائز نہیں ہے البتہ اکثر معاشروں میں یہ موجود ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی معروف ہم جنس پرست کی کسی بھی مذہبی یا حکومتی منصب پر تقرری کسی طرح مناسب نہیں۔ شاہنواز نصیر، کوپن ہیگن، ڈنمارک ہم جنس پرستی ایک لعنت ہے جسے مغرب نے انسانی حقوق کے نام پر قانونی شکل دے دی ہے۔ یہ معاشرے کی توڑ پھوڑ اور بے حرمتی کی طرف پہلا قدم ہے۔ کوئی بھی مذہب برا نہیں اس میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کرنے والوں نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ عامر ہاشمی، گجرانوالہ، پاکستان یہ انسانیت کے اوپر ایک ظلم ہے لیکن بدقسمتی سے یہ کام ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوگیا ہے۔ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں کہ ہم جنس نہ صرف مذہبی اداروں میں ہیں بلکہ معاشرے میں بھی عام ہیں۔اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے جلد از جلد کچھ سدِّ باب ہونا چاہئے۔ خالد شاہین، جرمنی میرے خیال میں قدرت نے جو جوڑوں کا نظام بنایا ہے وہی درست ہے۔ غیرفطری فعل درست نہیں۔
ندیم ملک، پاکستان میرے خیال میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں فرق یہ ہے کہ ہمارے مولوی یہ کام چھپ چھپ کر کرتے ہیں جبکہ عیسائی پادری اسے کھلم کھلا سرانجام دیتے ہیں اور اسے قانون بنا دیتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اپنی ضرورتوں کے مطابق مذہب میں تبدیلیاں بھی کر لیتے ہیں۔ طاہر عزیز جنجوعہ، ٹورنٹو، کینیڈا خدا نے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کیلئے بنایا ہے۔ ایک مسلمان کے طور پر میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات پر یقین نہیں رکھتا لیکن ہم جنسیت سے تو وہ بھی بہتر ہے جو مغرب کو بہت تیزی سے اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔ یہ قانون بنانے والوں اور عوامی نمائندوں کے لئے جنہوں نے اس کی حمایت کی، انتہائی شرمناک بات ہے۔ یہ مقدس شخص آنے والے اس وقت کی بدترین مثال ہے جب ہم جنس کلیسا وغیرہ میں بھی زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہوں گے۔ خواہ ہم مسلمان ہوں، ہندو، سکھ یا عیسائی ہمیں ہم جنس پرستانہ قوانین کی مخالفت کرنی چاہئے۔
سرفراز حسین سید، مکہ، سعودی عرب میں نے کسی بھی مذہبی گروہ کے بارے میں اس سے بد تر بات نہیں سنی۔ یہ تمام مذہبی کتب کی خلاف ورزی ہے اور نہ اب اور نہ مستقبل میں کبھی بھی قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ غلام نبی غلام، بمبئی، بھارت آسمانی کتب میں صاف آیا ہے کہ ہم جنسی حرام ہے۔ لوگ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں نہ کہ۔۔۔۔یہ خرافات۔ شہاب خان، ٹورنٹو، کینیڈا جو شخص خلافِ مذہب رویہ اپنائے اسے مذہبی مناصب پر نہیں رکھا جا سکتا۔
عبدالصمد، اوسلو، ناروے ہم جنسوں کو کسی بھی صورت میں مذہبی مناصب پر مامور کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ تمام آسمانی مذاہب ہم جنسیت کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ عیسائیت کے مذہبی اداروں میں ہم جنسیت کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ مذہبِ اسلام کھلم کھلا ہم جنسیت کی مذمت کرتا ہے لیکن اسلامی مدارس میں بھی یہ کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ میری رائے ہے کہ مذہبی رہنما تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر جلد از جلد اس لعنت کا سدِّ باب کریں ورنہ کوئی بعید نہیں کہ جس بحران سے اب عیسائیت گزر رہی ہے اب سے سو سال بعد ہم کو بھی اسی بحران سے گزرنا پڑے۔ زاہد خان، ہری پور، پاکستان ہم جنس پرستی ہر مذہب کی رو سے غلط ہے۔ عثمان افغان، سوئٹزرلینڈ مذہب تو دور کی بات ہے۔ کوئی انسان وہ سوچ بھی نہیں سکتا جو وہ کر رہے ہیں۔
منور احمد کوکب، پاکستان میرے خیال میں تقرر ٹھیک نہیں اور یہ ہر مذہب میں ممنوع ہے گو بعض اداروں میں ہم جنس پرستی موجود ہے۔ ایم صادق اعوان، کویت یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اخلاقی جرم ہے۔ انسان تو انسان جانور بھی ایسا کام نہیں کرتے۔ حسن گردیزی، ملتان، پاکستان ایک مذہبی شخصیت کا ایسے گناہوں سے بالا تر ہونا ضروری ہے۔ عصمت خان، کینیڈا یہ اچھی بات نہیں ہے۔ زاہد، لاہور، پاکستان ہاں اور نہیں
کاشف صدیقی، کیلیفورنیا، امریکہ لگتا ہے کہ اینگلیکن عیسائی سدومیوں اور لوطیوں کی تباہی کا حال بھول چکے ہیں۔ کیا وہ اسی طرح کی حرکات میں ملوث نہیں تھے۔ حیرت انگیز ہے کہ اب ان لوگوں کو مذہب کے تحفظ کے لئے تعینات کیا جائے گا۔ عطیہ شیخ، کراچی، پاکستان بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ اگر اس طرح کے تقرر کئے جائیں گے تو معاشرے میں بچ ہی کیا جائے گا۔ اس کی کسی مذہب میں اجازت نہیں ہے حتیٰ کہ انجیل میں بھی نہیں۔ ظفر شیخ، کراچی، پاکستان اگرچہ ہر ایک کو اپنے اعمال کی آزادی حاصل ہے لیکن زندگی ہر پہلو میں کچھ اصول بھی ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ایسی چیزیں ہو رہی ہیں۔ ہم خدا اور لارڈ کے قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسے فوراً روکا جائے۔ ہر چیز کی کوئی حد ہوتی ہے۔ فدا ایچ زاہد، کراچی، پاکستان اس بارے میں تو سوچنا بھی گناہ سے خالی نہیں۔ وہ کام جسے روکنے کےلئے اللہ نے رسول بھیج دیا ووہ کیسے درست ہو سکتا ہے۔
واصف ریاض، پاکستان حیرانگی ہوئی ہے جان کر کہ ایسا باہر کے ممالک میں بھی ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وہاں ہم جنس پرستی عام ہے مگر مذہبی رہنماؤں کا اس میں ملوث ہونا بہت بری بات ہے۔ لیکن آج اگر ہم اپنے مسلم مدارس کا جائزہ لیں تو یہاں بھی زیادہ تر یہی کام ہو رہا ہے۔ اگر اس کا مظاہرہ دیکھنا ہو تو کسی بھی دینی مدرسے کا چکر لگا لیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||