| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلا ہم جنس پرست بِشپ
امریکی ریاست نیو ہیمپ شائر میں اینگلیکن فرقے کے پہلے ہم جنس پرست بِشپ جین رابنسن کو تمام ضروری رسومات کے ساتھ ان کے منصب پر مامور کر دیا گیا ہے۔ اس تقریب میں تین افراد نے باقاعدہ اس تعیناتی پر اعتراضات کا اظہار کیا۔ بشپ جین رابنسن پچھلے پندرہ برس سے اپنے مرد ساتھی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ نیو ہیمپ شائر کے شہر ڈرہم میں ہونے والی اس تقریب کے لئے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ کلیسا کے باہر بشپ رابنسن کے حامیوں اور مخالفین دونوں کی بڑی تعداد جمع تھی اور ان دونوں میں نا خوشگوار واقعات یا جھڑپوں کو روکنے کے لئے پولیس کے گھڑ سوار دستے بھی موجود تھے۔ لگ بھگ چار ہزار افراد اس تقریب میں شریک ہوئے جن میں جین رابنسن کے خاندان والے اور پچاس امریکی بشپ شامل تھے۔ خدشہ ہے کہ ان کے بشپ بننے سے اینگلیکن فرقہ تقسیم ہو جائے گا۔ اینگلیکن فرقے میں ہم جنس پرست پادریوں کی مخالفت کرنے والے ایک گروہ کا ارادہ ہے کہ وہ فرقے کے روحانی پیشوا آرچ بشپ آف کینٹربری ڈاکٹر رووان وِلیمز سے باقاعدہ علحیدہ ہونے کی اجازت مانگے۔ اس گروہ کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی انجیل کے اصولوں اور سبق کی سراسر خلاف ورزی ہے اور ایک بہت بڑا گناہ بھی۔ نائجیریا کے اینگلیکن فرقے کے رہنما آرچ بِشپ پیٹر اکینولا نے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بشپ رابنسن کا ہم جنس پرست ہونا قدرت کے قانون کے خلاف ہے۔ تاہم تقریب میں تمام رسومات کروانے والے بشپ گرزولڈ کا کہنا تھا کہ نئے بشپ فرقے کی یکجہتی کی علامت مانے جائیں گے۔ بشپ جین رابنسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اس بات کی زیادہ فکر نہیں ہے کہ دنیا کے بیشتر اینگلیکن برداریوں میں ان کو بشپ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میری مخالفت کرنے والے وہی لوگ ہیں جو ہمارے فرقے کی خاتون پادریوں کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ ‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||