| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاتِر محمد سے براہِ راست
ڈاکٹر مہاتِر محمد انیس سو اکیاسی سے ملائشیا کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ ایشیا میں سب سے لمبے عرصے سے اقتدار میں رہنے والے سربراہ حکومت ہیں۔ اسی ماہ وہ ریٹائر ہورہے ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں ملائشیا ایک ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ جمعہ دس اکتوبر کو بی بی سی نیوز آن لائن اور بی بی سی ورلڈ سروِس ریڈیو کے قارئین اور سامعین نے مہاتِر محمد سے اسلام، مغرب اور دیگر عالمی امور پر براہِ راست سوالات کئے۔ یہ پروگرام اتوار بارہ اکتوبر کو بی بی سی ورلڈ سروِس ریڈیو اور بی بی سی ورلڈ ٹیلی ویژن پر گرینِچ وقت کے مطابق دن کے دو بجے نشر کیا جائے گا۔ بی بی سی کی لیس ڈوسٹ اور سامعین کی مہاتر محمد سے ہونے والی گفتگو کے اقتباسات حسبِ ذیل ہیں۔ لیس ڈوسٹ ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں خوش آمدید۔ آج ہمارے ہمراہ ملائشیا کے وزیراعظم مہاتِر محمد اس خصوصی پروگرام کا حصہ ہیں جس میں زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق مسلمانوں سے ہم اسلام اور مغرب کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔ وزیراعظم مہاتِر محمد خوش آمدید، ہم نے دنیا بھر سے کئی ای میلز اور فون کالز موصول کی ہیں اور ان لوگوں کے کئی سوالات ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم ان سوالات کی طرف آئیں، میرا ایک سوال ہے۔ آپ ایک اعتدال پسند اور روادارانہ اسلام کے مثالی رہنما رہے ہیں۔ کیا آپ اس پر تکلیف محسوس کرتے ہیں کہ گیارہ ستمبر کے بعد سے ہم زیادہ تر جو مسلمانوں کے بارے میں سنتے ہیں اس میں وہ متشدد کارروائیوں میں ملوث نظر آتے ہیں؟
وزیراعظم مہاتِر محمد اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے خود روادارانہ اسلام کی مثال قائم نہیں کی۔ ہم نے وہ کچھ کیا جو ہمارے خیال میں مذہبِ اسلام کی بنیادوں کے مطابق درست تھا۔ یہ ہم نہیں دوسرے ہیں جو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم روادارانہ اسلام کی ایک مثال ہیں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم وہی کریں گے جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے مذہب کی رو سے درست ہے۔ لیس ڈوسٹ لیکن عمومی طور پر ہمیں ایسے مسلمان رہنما زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں جو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے تشدد کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ آپ خود بھی اسے تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ لوگوں کو مارنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا؟ وزیراعظم مہاتِر محمد یہ حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر ہم فلسطین میں پچھلے پچاس سال سے لڑ رہے ہیں اور اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ لیس ڈوسٹ کیا پچھلے سال بالی میں ہونے والے بم دھماکوں نے جنوب مشرقی ایشیاء کے رہنماؤں کو جگا دیا ہے؟ کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا یہاں ملائشیا کے مدرسوں میں تعلق ہے۔ آپ کیا کہیں گے؟ وزیراعظم مہاتِر محمد جی ہاں! آپ کہہ سکتی ہیں کہ اس نے ہمیں جگایا ہے۔ لیکن ملائشیا میں ہم نے اس متشدد انتہا پسند گروہ کے خلاف گیارہ ستمبر کے واقعات سے بھی پہلے کاروائی کر لی تھی۔ جب ہمیں احساس ہوا کہ وہ حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے ہیں اور جمہوری نظام سے باہر رہ کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس سے پہلے کہ ان کے ہاتھوں لوگ مارے جاتے، ہم نے ان کے خلاف کاروائی کر دی۔ لیس ڈوسٹ بم حملے ہوئے اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی یہیں ملائشیا میں کی گئی تھی؟ وزیراعظم مہاتِر محمد یہ ملائشیا میں تو نہیں ہوئے اور یہ اہم بات ہے۔ ہم بہت سخت نظر رکھتے ہیں اور ہمیں پتہ رہتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ ہمارے خفیہ ادارے بہت اچھی طرح کام کر رہے ہیں اور اس سے پہلے کہ کچھ ہو ہم ایکشن لے لیتے ہیں۔ چلئے ہم اپنے پہلے سوال کرنے والے کی طرف چلتے ہیں۔ شارق شاہبازی، امریکہ جنابِ وزیر اعظم، میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ مسلمان متحد نہیں ہیں اور اپنی ضروریات کے لئے بری طرح مغرب پر انحصار کرتے ہیں۔ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ نے مسلمان اقوام کو متحد کرنے اور مغرب کے بجائے ایک دوسرے پر انحصار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے؟ اور یہ کہ اس کے بعد کیا آپ اسلامی ممالک کی تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے اس مقصد کے حصول کے لئے کام کریں گے اور کیسے؟ وزیراعظم مہاتِر محمد ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں اور پچاس اسلامی ممالک کو متحد کرنا ایک دشوار کام ہے۔ ہم ان میں سے چند کو اکٹھا کر سکتے ہیں۔ ہمیں بہت زیادہ خوش فہمیاں نہیں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں ایک مختلف لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا جس سے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم اسلامی ممالک کی تنظیم کے اگلے اجلاس میں ایسا کر سکیں گے۔ آندرے، ہانگ کانگ آپ نے بحیثیت وزیراعظم مغرب کی کامیابیوں کو سراہا ہے جب کہ دوسری طرف اکثر مغرب کی خامیوں پر تنقید بھی کی ہے۔ کیا آپ کے بیانات میں ان تضادات کو ’تہذیبوں کےتصادم‘ کی علامت سمجھا جائے؟
وزیر اعظم مہاتِر محمد بظاہر بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہیں اور ان کا پیغمبر بھی دہشت گرد ہے تو اسے تہذیبوں کا تصادم ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اسلام دشمنی کی واضح مثال ہے۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بتائیں کہ اسلام کیا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات تصادم کی طرف لے جاتی ہیں لیکن اگر آپ اسلام کی بنیادوں میں جائیں تو ہمیں دوسروں کے ساتھ پرامن زندگی گزارنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ اسلام کے بارے میں آگہی کی کمی ہے جس کی وجہ موجودہ صورتِ حال پیدا ہوئی ہے۔ یہ غلط فہمیاں صرف دوسروں کو ہی نہیں خود مسلمانوں کو بھی ہیں۔ لیس ڈوسٹ آپ نے آندرے کو اپنے جواب میں تہذیبوں کے تصادم کا حوالہ دیا ہے جبکہ متعدد اسلامی ممالک کا کہنا ہے کہ عالم اسلام کسی ایک شئے کا نام نہیں بلکہ دنیا میں مختلف طرح کی اسلامی مملکتیں ہیں بالکل ویسے ہی جیسے مختلف طرح کے مغربی ممالک۔
وزیر اعظم مہاتِر محمد بلاشبہ مسلمان منقسم ہیں اور ان کے مابین تنازعات بھی ہیں۔ لیکن غیر مسلم یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے تمام عالم اسلام کسی ایک شئے کا نام ہو اس لیے مسلمانوں کی جانب غیر مسلموں کا رویہ بھی ایک ہی سا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے غیر مسلم طبقات مسلمانوں کو سوجھ بوجھ سے عاری تصور کرتے ہیں۔ لیس ڈوسٹ ایسے وقت میں کہ جب بہت سے مغربی ممالک افغانستان اور عراق جیسے مسلم ممالک کی امداد کے لیے سرگرم ہیں، کیا تمام غیر مسلم ممالک کو ایک ہی نگاہ سے دیکھنا جائز ہو گا؟ وزیر اعظم مہاتِر محمد جی ہاں! کچھ لوگ ہوں گے جو دوسروں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ ایسی کئی انفرادی مثالیں ملتی ہیں کہ جب عیسائیوں نے مسلمانوں کی مدد بھی کی ہے لیکن یہ کوئی عمومی اصول نہیں ہے۔ لیس ڈوسٹ تو کیا آپ کی نگاہ میں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یورپی ممالک، اسلامی ممالک سے مذاکرات پر زور دے رہی ہیں۔
وزیر اعظم مہاتِر محمد لیکن بات وہی ہے کہ یہ صرف چند غیر مسلم ممالک کا رویہ ہے البتہ عمومی سطح پر جو رویہ محسوس کیا جاتا ہے وہ یہی ہے کہ غیر مسلم، مسلمانوں کو دہشت گرد تصور کرتے ہیں اور ان سے برسرِ پیکار رہنا چاہتے ہیں۔ جان ٹائتھرلی، جاپان جنابِ ڈاکٹر مہاتِر، ملیشیا ایک کامیاب، جدید اور جمہوری اسلامی مملکت ہے جس پر آپ بائیس برس سے حکمراں رہے ہیں۔ آپ کیسے شدت پسندی کے مقابلے میں ایک روشن خیال نقطہ نظر رکھنے والا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب رہے؟
وزیر اعظم مہاتِر محمد میں خود ایک بنیاد پرست ہوں لیکن اس کے حقیقی معنوں میں۔ میں مذہب کے بنیادی عقائد پر عمل کرتا ہوں اور اسلام کی بنیادیں بہت اچھی ہیں۔ وہ امن، بھائی چارے، دوستی اور رواداری کی بات کرتی ہیں۔ یہی اس کی بنیادیں ہیں۔ لیکن چودہ سو سال سے لوگ مذہب کی تشریح اپنے مقاصد کے مطابق کرتے رہے ہیں۔ یہ لوگ دراصل اسلام کی اصل تعلیمات سے انحراف کر رہے ہیں۔ ہم ملائشیا میں بھی اس مسئلے سے دوچار رہے اور ہم نے اس کا مقابلہ لوگوں تک اسلام کی اصل تعلیمات پہنچا کر کیا۔ ہمارے لوگوں کی اکثریت اسی سے اتفاق کرتی ہے تاہم ایک اقلیت ہمیشہ رہے گی جو لوگوں سے نفرت کرتی ہیں۔ مارک سمتھ، لندن ملیشیا کا آئین سیکولر ہے تو آپ ملائشیا کے اسلامی مملکت ہونے پر کیوں اصرار کرتے ہیں؟
وزیر اعظم مہاتِر محمد جی ہاں! لیکن آئین میں لکھا ہے کہ ملائشیا کا سرکاری مذہب اسلام ہے اگرچہ دوسرے مذاہب پر عمل اور رسومات کی ادائیگی کی آزادی ہے۔ ہم کوئی چیز اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں ہونے دیتے۔ حتیٰ کہ ہمارے قوانین بھی خواہ وہ انگریزی دور کے بنائے ہوئے ہوں یا بعد میں ہمارے اپنے، صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہوتے ہیں اگر وہ اسلام کے خلاف نہ جاتے ہوں۔ ڈینیل، یروشلم، اسرائیل وزیراعظم صاحب یہودیوں کی بارے میں آپ کی رائے میری نگاہ سے گزری ہے جس کے بعد میری یہ امید ختم ہوتی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان کسی قسم کی ذہنی ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میں ملیشیا آ کر لوگوں پر یہ ظاہر کرنے کی بھی کوشش نہیں کر سکتا کہ ہم بھی آپ ہی کی طرح کے انسان ہیں اور ہمارے درمیان موجود تضادات ختم بھی کیے جا سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں آپ کس طرح یہ امید کر سکتے ہیں کہ دوسرے لوگ اسلام کو سمجھیں گے۔
وزیر اعظم مہاتِر محمد ہم نے اسرائیلی بچوں کے لیے ملیشیا آنے کے انتظامات کر رکھے ہیں یا اس کی اجازت دے رکھی ہے تاکہ وہ ملیشیائی بچوں سے مل سکیں۔ اس پروگرام کے تشکیل دینے کا مقصد یہ ہے کہ ہم لوگ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں لیکن بدقسمتی سے شیرون حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے باعث ہم اس سمت میں کوئی پیش رفت نہیں کر سکتے کیونکہ ایسا کرنے سے ہمارے لوگ سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ ایک موقع پر ہم نے اسرائیل کی کرکٹ ٹیم کو ملیشیا آنے کی دعوت دی۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل کشادہ ذہن اور کھلے دل سے ہمارے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرے۔ ----------------------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے-------------------------------------- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||