| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہنگو: رفاہی کارکنوں پر حملہ
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگومیں دینی مدارس کے طلبہ اور مقامی لوگوں نے ایک غیر ملکی اور ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کی خواتین کارکنوں پر حملہ کر کے ان کے زیر استعمال گاڑی کے شیشے توڑ دیئے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل یا ایم ایم اے کے مقامی رہنما نے دونوں تنظیموں پر علاقے میں مغربی اور عیسائی تعلیمات پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ واقعہ کے فوراً بعد ان تنظیموں کے کارکن کام چھوڑ کر علاقے سے چلے گئے۔
ایک غیر سرکاری کارکن نے جو موقع پر موجود تھا واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور سویڈن کی سیو دی چلڈرن اور ایک مقامی تنظیم روشن ڈویلپمنٹ سوسائٹی کی چھ خواتین اور دوسرے مرد کارکن ہنگو کے وراستہ اور شناوڑی نامی گاؤں میں بچوں پر جسمانی تشدد سے متعلق موضوع پر سروے کر رہے تھے کہ اس دوران ان پر دینی مدارس کے طلبہ اور مقامی لوگوں نے مل کر حملہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھیوں کی ایک ٹیم نے والدین، بچوں اور اساتذہ کو بوائز سکول شناوڑی میں جمع کیا ہوا تھا اور ان میں بچوں پر جسمانی تشدد سے متعلق آگاہی پیدا کی جارہی تھی جبکہ خواتین کی دوسری ٹیم گرلز مڈل سکول وراستہ میں مصروف عمل تھی۔ انہوں نے مزید بتایا: ’اس دوران مولانا مفتی دین اصغر جو متحدہ مجلس ضلع ہنگو کے امیر بھی ہیں دینی مدارس کے درجنوں طلبہ کے ہمراہ آئے اور ہم سے پوچھ گچھ شروع کی اور تمام تر تحریری مواد بھی چھین لیا جس کے بعد یہ حملہ آور خواتین نمائندوں کے پاس گئے۔ انہیں دیکھ کر خواتین اپنی گا ڑی میں بیٹھ گئیں۔‘
این جی او اہلکار نے مزید کہا کہ طلبہ نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر خواتین کی گاڑی پر پتھراؤ کیا جس سے گاڑی کے شیشے بھی ٹوٹ گئےاور خواتین سے کتابیں چھیننے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعہ کے فوراً بعد دونوں تنظیموں نے ہنگو میں کام کرنا چھوڑ دیا ہے- اس سلسلے میں جب ایم ایم اے کے ضلعی امیر مفتی دین اصغر سے رابط کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں مقامی لوگوں سے شکایت ملی تھی کہ بعض افراد بچوں میں غلط قسم کا مواد تقسیم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک کتاب بھی قبضے میں لی ہے جس میں مغربی تعلیم کے پرچار کے واضح ثبوت بھی ملے ہیں تاہم ابھی تک کتاب کا پوری طرح مطالعہ نہیں کیاگیا ہے۔ مفتی دین اصغر نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی صورت میں ضلع کی حددود میں اس قسم کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مقامی علماء کرام کا ایک اہم اجلاس آئندہ چند روز میں متوقع ہے جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||