| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ: کبھی فوج کبھی نوکرشاہی
پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شہریار خان کو پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کا نیا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ شہر یار خان ایک ماہر سفارت کار ہیں اور پچھلے ورلڈ کپ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کےمنیجر کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں جو پاکستانی ٹیم کے لئے کامیاب ثابت نہ ہوسکا۔ اگرچہ اس دورے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم شہریار خان کی موجودگی میں تنازعات سے بچی رہی لیکن کسی سابق کھلاڑی کے بجائے ایک افسر کو بورڈ کا سربراہ نامزد کرنے پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آخر کرکٹ بورڈ کے سربراہ فوجی یا سول افسران ہی کیوں؟ کیا شہر یار خان پاکستان کی کرکٹ کی درست سمت متعین کرنے میں کامیاب ہوں گے؟ کیا وہ کرکٹ بورڈ کو اس بحران اور ان تنازعات سے نکال سکیں گے جس کا بورڈ سابق سربراہ جنرل توقیر ضیاء کے دور میں شکار رہا؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں عاطف مرزا، میلبورن، آسٹریلیا: قیادت کیلئے کسی کا بھی انتخاب بہت مشکل کام ہے۔ انتخاب کرنے والے تو پوری کوشش کرتے ہیں کہ درست فیصلہ کیا جائے۔ اس میں فوج یا بیوروکریسی کا کوئی سوال نہیں۔ سابق کھلاڑی تو پہلے ہی بہت سی اندرونی سیاست کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اسی لئے آج تک ڈھنگ سے کوئی بھی ٹیم کی کوچنگ نہیں کر پایا۔ ہمارے لئے سب سے بڑا مسئلہ کھلاڑیوں کی تربیت میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جیسا کہ آسٹریلیا میں ہورہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئے سربراہ اس سلسلے میں کیا قدم اٹھاتے ہیں۔ محمد سجاد، مردان، پاکستان: وہ پی سی بی کو نہیں چلا سکیں گے۔ اس عہدے کیلئے عمران خان ہی بہترین آدمی ہیں۔ محمد ابوذر شیرانی، ملتان، پاکستان: شہریار خان ایک غیر متنازعہ شخصیت ہیں اور ٹیم کے مینیجر بھی رہ چکے ہیں۔ اگر وہ ٹیم میں پیشہ ورانہ کارکردگی سمو دیں تو بات بن سکتی ہے۔ نعیم الرسول، جہلم، پاکستان: اتنے اہم عہدے پر کسی سابقہ کھلاڑی ہی کو ہونا چاہئے جو کرکٹ کے بارے میں کافی سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور مخلص ہو جیسے کہ عمران خان یا ظہیر عباس۔
قاسم، پاکستان: ہمارے ہاں یہ روایت ہے کہ لوگ ہر نئے فیصلے پر اس کے ثمرات اور نتائج کا جائزہ لئے بغیر تنقید کرنے لگتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کرکٹ بورڈ کا کا سربراہ کسی سابق کھلاڑی کو بنانا زیادہ بہتر ہوتا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے سابق کھلاڑی انتظامی معاملات میں اتنے اچھے ثابت نہیں ہوئے جس کی تازہ ترین مثال جاوید میانداد ہیں جن کی ذات کئی حوالوں سے تنازعات کا شکار رہی ہے۔ اس لیے ابھی تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو والا معاملہ ہونا چاہئے۔ عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا: یہی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسا ضرور موجود رہے جو جنید ضیاء جیسے لوگوں کو منتخب کرتا رہے اور باصلاحیت کھلاڑی باہر رہیں۔ پنڈی جی ایچ کیو کے بالکل قریب لیاقت علی کے قتل کے وقت سے یہی ہورہا ہے۔ علی احمد، لاہور، پاکستان: یہ درست فیصلہ ہے لیکن سلیکشن کمیٹی کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے کیوں کہ سارا کام انہی نے خراب کیا ہے۔ محمد ایوب راجہ، اٹلی: سربرہ جب بھی ہو اس کی مستقل ملازمت ہو کیونکہ آج تک ہم نے کسی کو بھی ارادے کا پکا نہیں دیکھا۔ سربراہ کو جرات مندی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت ہو۔ مثلاً جب جنوبی افریقہ کی ٹیم نے پشاور اور کراچی میں میچ کھیلنے سے انکار کیا اور ہمارے صاحبان نے کہا کہ نہیں کھیلنا ہوگا تو انہوں نے انکار کر دیا اور دورہ منسوخ کر دیا۔ پھر بورڈ نے ہی ان کی منتیں کیں اور ان کی من مانی پر ان کو بلایا تو ہمیں بہت مایوسی اور کمتری کا احساس ہوا۔ اس لئے سربراہ کو سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرنا چاہئے جو اٹل ہو۔ شاہد بھٹی، سکار برو، کینیڈا: براہ مہربانی سیاست سے نجات حاصل کیجئے اور ملک کے لئے کچھ کریں۔ واجد نعیم، مریدکے، پاکستان: توقیر ضیا اچھے منتظم تھے لیکن انہوں نے کچھ غلط فیصلے کئے خاص طور پر عامر سہیل کی چیف سلیکٹر کے طور پر نامزدگی۔ جاوید شیخ، کچنگ، ملیشیا: یاد کیجئے کہ شہریار ہی کے ساتھ عالمی کپ کے دوران کھلاڑی رات دیر تک باہر رہتے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ نوجوانوں کو تفریح کا موقعہ بھی ملنا چاہئے۔ ایسا شخص کیسے اچھا منتظم ہوسکتا ہے۔ عبداللہ، پشاور، پاکستان: یہ عہدہ ایک اچھے سے کھلاڑی کے پاس ہونا چاہئے۔ صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان: شہریار صاحب کا سابقہ ریکارڈ تو بہتر ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ توقیر ضیاء سے بہتر منتظم ثابت ہوں گے لیکن پاکستان میں یہ بیماری ہے کہ ہر ادارے کا سربراہ کوئی سول افسر یا سابقہ فوجی ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ فرحاج علی، متحدہ عرب امارات: میرا خیال ہے وہ بہتر اور تجربہ کار آدمی ہیں۔ اسامہ حنیف بھٹی، فیصل آباد، پاکستان: شہریار اچھے پیوروکریٹ رہ چکے ہیں اور انہیں مینیجر کے طور پر ٹیم کا تجربہ بھی ہے اس لئے مشیروں کو زیادہ لفٹ نہیں کروائیں گے۔ انہیں سب سے پہلے سلیکشن کمیٹی کو بدلنا چاہئے۔ بہتر ہوتا کہ صدر عمران خان کو یہ عہدہ دیتے۔ اس سے ایک طرف تو پارلیمان کو رام کیا جا سکتا تھا اور دوسری طرف کھلاڑیوں کو کیونکہ وہ رکنِ اسمبلی بھی ہیں اور سابق کھلاڑی بھی۔
سردارخان، دوبئی: میں ذاتی طور پر کسی سابق کھلاڑی کو ہی ترجیح دوں گا۔ ہمارا ماضی قریب کا ایک سابق چیف جسٹس اور فوجی جرنیل کا تجربہ بہت برا ہے۔ انہوں نے اپنی اقربا پروری کی وجہ سے نہ صرف اپنے بلکہ فوج اور انصاف کے محکموں کےلئے بھی خاصی بدنامی کمائی جبکہ کرکٹ میں کوئی بہتری نہیں ہوئی۔ اگر سابق کھلاڑیوں کو موقعہ دیا جائے گا تو یہ ہر کھلاڑی کے لئے مستقبل کا خواب ہوگا اور کرکٹ میں بہتری آئے گی۔ حسب عابد، جاپان: صرف اور صرف عمران خان جو ٹیم کو چیمپئین بنا سکتے ہیں۔ شہریار خان سے کوئی توقع نہیں۔ افسر محمد خان، سنگاپور: ہمیں نئے سربراہ کی مکمل اخلاقی حمایت کرنی چاہئے اور جاوید میانداد جیسے عظیم کھلاڑی سے خوب فائدہ لینا چاہئے۔ محمد عابد، ٹورنٹو، کینیڈا: یہ واحد کھیل ہے جس میں فوج اور دوسرے امراء جانا چاہتے ہیں کیوں کہ اس میں پیسہ بہت ہے۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: جو کام حق دار لوگوں کے کرنے کا ہوتا ہے ہمارے ہاں وہی ایسے لوگوں کو دیا جاتا ہے جن کا حق نہ ہو۔ یہی بات جنرل توقیر ضیاء کے لئے ہے۔ وہ جب تک رہے صرف جنرلوں والی باتیں کرتے رہے۔ ہم کب تک کسی اچھے آدمی کی آس لگائے بیٹھے رہیں گے۔ کرکٹ ٹیم بھی کہیں سکواش یا ہاکی نہ بن جائے۔ انور احمد، پشاور، پاکستان: صرف چند کھلاڑیوں میں ہی انتظامی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ شہریار خان ایک تجربہ کار آدمی ہے جنہیں کرکٹ کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کے نتائج بہت اچھے نکلیں گے اور اس کیلئے بنیادی بات بہترین کوچ اور سلیکشن کمیٹی کا حصول ہوگا۔ ظفر الطاف بھٹی، کویت: اب بھی سب معاملات ویسے ہی چلنے ہیں۔ کرکٹ سے متعلق کوئی بھی عہدہ صرف کسی کھلاڑی کے پاس ہی ہونا چاہئے۔ یہ کرکٹ کے لئے اچھا ہوگا۔
شاہد خان لودھی، ملتان، پاکستان: ’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔‘ اب تو شاید ہم ٹیم کےلئے دعا ہی کر سکتے ہیں کیونکہ جو کھلاڑی ایک فوجی جرنیل کے قابو میں نہ آئے انہیں ایک سول افسر کیسے سنبھالے گا۔ چیئرمین صاحب کو نہ صرف اعتماد بحال کرنا ہوگا بلکہ ان کھلاڑیوں کو قابو کرنے کیلئے کچھ عملی حکمتِ عملی بھی اختیار کرنی ہوگی۔ رانا اعجاز، صادق آباد، پاکستان: جب کھلاڑی سیاست میں آ اور ملک کے سیاسی امور سنبھالنے کی آرزو کر سکتے ہیں تو پھر سیاست دانوں کو کھیل کے میدان میں ہی آنا پڑے گا۔ یاسر نقوی، برطانیہ: پاکستان کا کون سا ادارہ کسی فوجی یا بیوروکریٹ سے آزاد ہے۔ اس لئے چاہے شہر یار آئیں یا توقیر ضیاء جائیں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں صرف اچھی ٹیم اور اچھی کرکٹ دیکھنے کو چاہئے۔ فیصل سید، امریکہ: نئے سربراہ سے میری درخواست ہے کہ براہ مہربانی سلیکشن کمیٹی سے جلد از جلد نجات حاصل کریں اور یہ ذمہ داری کوچ اور کپتان کے ذمے لگائیں کیونکہ آخر میں ہار جیت کا سہرا انہی کے سر بندھتا ہے۔ سید احمد چشتی، پاک پتن، پاکستان: عمران خان کو سربراہ ہونا چاہئے لیکن پاکستان میں سیاست بہت ہے اس لئے یہ ایک اچھا قدم ہے۔
خدیجہ صائمہ، لندن، انگلینڈ: ابھی انہوں نے اپنا عہدہ نہیں سنبھالا اس لئے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن سلیکشن کمیٹی اور چیف ایگزیکٹو ابھی تک وہی ہیں اور ان کے بغیر کرکٹ کا مستقبل بہتر ہونا ناممکن ہے۔ عمران زیدی، واشنگٹن، امریکہ: کرکٹ بورڈ کا سربراہ ہونے سے کھلاڑیوں کی کھیل کے میدان میں کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ ایک سابق کھلاڑی اچھا منتظم ثابت ہوگا۔ شہر یار خان بہت ایماندار آدمی ہیں اور میری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔ محمد اشفاق، فیصل آباد، پاکستان: جنرل توقیر ضیاء کو اچھا تجربہ حاصل ہوچکا تھا اس لئے وہ ٹیم کے لیے بہتر تھے۔ ٹیم کی موجودہ کارکردگی انہی کی مرہونِ منت ہے۔ انہیں تبدیل کرنے کے تجربے سے ٹیم کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ محمد اصلاح الدین، کویت: کسی سینیئر کھلاڑی ہی کو چیئرمین ہونا چاہئے۔
حبیب سعید، پاکستان: سربراہ کسی سیاستداں کو بالکل نہیں بلکہ فوجی افسر یا کھلاڑی کو ہونا چاہئے کیونکہ یہ دونوں ہیرو ہیں۔ قیصر زمان اعوان، متحدہ عرب امارات: براہ مہربانی پچھلے دروازے سے لوگوں کو لانا بند کیـجئے اور کھلاڑیوں کو موقعہ دیں۔ فرحان خان، کراچی، پاکستان: میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو بھی ہوا اچھا ہی ہوا کم از کم فوج کے تعصبانہ رویئے سے تو جان چھوٹی۔ توقیر ضیاء نے کچھ نہیں کیا، ان کی توجہ اپنے بیٹے کی طرف رہی جس کا انہوں نے بعد میں استعفیٰ کی وجہ کے طور پراعتراف بھی کیا۔ اللہ کرے کہ شہریار صاحب کے قدم نیک ثابت ہوں۔ سید رضوی، امریکہ: عمران خان اس کام کے لئے بہترین ہیں لیکن وہ اس مضحکہ خیز نظام کا حصہ نہیں بننا چاہیں گے۔
غلام مجتبیٰ، جرمنی: یہ کوئی نئی بات نہیں۔ جب پاکستان ہی فوج اور نوکر شاہی کے کنٹرول میں ہے تو کرکٹ بورڈ کیوں نہیں۔ تاہم ایک سول افسر فوجی سے تو بہتر ہی ہے۔ میری خواہش ہے کہ اسی طرح کی تبدیلی صدر کی نشست کے لئے بھی کی جائے۔ مبشر عزیز، ہمبرگ، جرمنی: جہاں شام کو اکٹھے شراب پیتے ہوئے کنٹریکٹ دیئے جائیں۔ کرکٹ کا شغل فرمانے کے بعد الیاس کشمیری سے ایک بڑک کی فرمائش اور تعمیل پر سینسربورڈ کا سربراہ بنا دینے جیسی شاندار روایات موجود ہوں، وہاں آپ کیا توقع رکھتے ہیں۔ آخر کو ہم پاکستانی اپنی شاندار روایات اور غیرت مند اقدار سے کیسے منہ موڑ سکتے ہیں۔
شاہنواز نصیر، کوپن ہیگن، ڈنمارک: جو کام پارلیمان میں ہمارے منتخب رہنما کرتے ہیں اور ملک کی جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں، وہی کام سابق کھلاڑیوں میں سے چنا ہوا سربراہ کرے گا۔ ابھی تو ہم سے چیف سلیکٹر نہیں سنبھالا جا رہا اور کپتان کوچ اور ان کے درمیان دال جوتوں میں بٹ رہی ہے۔ ہاں اگر عمران خان مان جائیں تو یقین کیا جا سکتا ہے کہ جگ ہنسائی نہیں ہوگی۔ عبدالخالق: سربراہ کسی سابق کھلاڑی کو ہی ہونا چاہئے۔ امجد محمود، وینکوور، کینیڈا: میرا خیال ہے کہ یہ اچھا فیصلہ نہیں ہے کیوں کہ چند مہینوں بعد بھارتی ٹیم پاکستان آرہی ہے جبکہ ابھی نئے سربراہ کو پوری طرح جمنے کا موقعہ بھی نہیں ملا ہوگا۔ پھر توقیر ضیاء کی کارکردگی بھی بہت اچھی تھی۔ جو ہمیں بدلنے کی ضرورت تھی وہ سلیکشن کمیٹی تھی۔ اب یہی امید کی جا سکتی ہے کہ اس تبدیلی سے ٹیم پر اثر نہیں پڑے گا اور وہ اپنی حالیہ اچھی کارکردگی جاری رکھے گی کاشف ندیم سید، لندن، برطانیہ: میرے خیال میں طویل عرصے بعد صدر مشرف نے وہ قدم اٹھایا ہے جو انہیں بہت پہلے اٹھا لینا چاہئے تھا۔ بحرحال دیر آید درست آید۔ شہریار خان اس عہدے کے لئے یوں بھی موزوں ہیں کہ اس وقت ادارے کو اندرونی خلفشار کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی پاکستانی ٹیم کا وقار بحال کرنا ہے جو بہت عرصے سے شکست وریخت کا شکار ہے۔
علی رضا علوی، اسلام آباد، پاکستان: ہمارے ملک کی بے چاری کرکٹ کے ساتھ بھی ’آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا‘ والی بات ہے۔ فوجی جرنیل کے قبضے سے نکلی تو ایک بیوروکریٹ کے ہتھے چڑھ گئی۔ یہ بھی خدا کا شکر ہے کہ دوبارہ فوجی کے ہتھے چڑھنے سے بال بال بچی۔ شہریار دانش مند اور اچھے مزاج کے انسان ہیں ان سے بہتری کی توقع تو کی جا سکتی ہے لیکن کیا ہی بہتر ہوتا کہ یہ منصب کسی کھلاڑی کو دے دیا جاتا۔ عمران خان، ظہیر عباس، ماجد خان، جاوید میانداد، رمیز راجہ، مدثرنذر، وسیم باری، ذاکر شاہ، جانے کتنے ہی نام ہیں جن کو تعینات کیا جا سکتا تھا لیکن یہاں جب ساری گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے تو وہاں کیا کہا جاسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||