| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاست اندر، کھلاڑی باہر
آج پاکستانی ٹیم تشکیل کے مراحل سے گزر رہی ہے اور جیت کی راہ پر گامزن بھی لگتی ہے۔ اس نے دنیا کی نمبر دو ٹیم ساؤتھ افریقہ سے ٹیسٹ سیریز جیتی ہے۔ لہذا ایسے میں چیف سلیکٹر کے متنازعہ اخباری بیانات اور چیف سلیکٹر، سیلیکشن کمیٹی کے ارکان ، کوچ اور کپتان کے درمیان جو کچھ ہورہا ہے وہ کافی پریشان کن ہے۔ چیف سلیکٹر عامر سہیل کے حالیہ بیان سے کہ ’میں ہر بار ٹیم کی سلیکشن سے پہلے کپتان اور کوچ سے رائے لینا ضروری نہیں سمجھتا‘ پی سی بی کے اصولی ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ مگرایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ عامرسہیل لگاتار یہ خلاف ورزی کررہے ہیں۔ وہ آزادی سے ٹیم کے اندرونی معاملات کو عوامی بنادیتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ پی سی بی اپنے چیف سلیکٹر کو پابند کرے تا کہ وہ نظم وضبط کی خلاف ورزی نہ کریں۔ جب میں قومی ٹیم کا کپتان تھا تو میں نے چیف سلیکٹر کی غلط پالیسیوں کو سب سے زیادہ برداشت کیا اور کچھ وقت کے لئے منظر سے ہٹنے کا فیصلہ بھی کیا کہ شاید اِسی سے حالات بہتر ہوجائیں۔ میں عامر سہیل سے اپنے اختلافات کبھی اخبارات کے ذریعے عوام کے سامنے نہیں لایا۔ میرے اس عمل کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو ملک کانام اور دوسرا کھلاڑیوں کا تحفظ۔ مگر چیف سلیکٹر، کوچ اور کپتان کے حالیہ بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ اِن لوگوں نے دونوں وجوہات کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ شروع میں چیف سلیکٹر نے بڑے اچھے مشورے دئیے مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہمارے درمیان اختلاف بڑھتے گئے اور پھر چیف سلیکٹر کا ایک ہی کام تھا اور وہ یہ کہ میری ہر بات سے اختلاف کرنا۔ میں ہر میٹنگ اور کیپٹن کی رپورٹ میں سب باتیں بورڈ کے سامنے لاتا رہا مگر کوئی چیز عوام کے سامنے نہیں لایا۔ ایک اچھی اور مکمل ٹیم بنانے کے لیئے ضروری ہے کہ کھلاڑیوں میں تحفظ کا احساس ہو اور وہ اپنے ٹیلنٹ کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین کارکردگی پیش کریں۔ اِس کے لیئے ضروری ہے کہ لڑکوں کو مستقل مزاجی سے موقع دیا جائے مگر عامر سہیل میرے اس مقصد میں ہمیشہ رکاوٹ ڈالتے رہے۔ ورلڈ کپ کے بعد جب شارجہ کے لئے ٹیم منتخب کی جا رہی تھی تو عامر سہیل نے سلیم الٰہی اور عمران فرحت کی مخالفت کی مگر یہی دونوں آج اُن کے اعلان کردہ کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ کیا وہ اس وقت اچھے کھلاڑی نہیں تھے؟ ان دونوں کھلاڑیوں کے علاوہ میں نے فرحان عادل اور یاسر حمید کی شمولیت پر زور دیا مگر عامر سہیل نے مصباح الحق کو سلیکٹ کیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ عامر سہیل کو ہر حال میں کپتان کی رائے کی مخالفت کرنی ہے حالانکہ گراؤنڈمیں تو کپتان کو سب کچھ دیکھنا ہوتا ہے۔ میرے کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ مصباح الحق اچھا کھلاڑی نہیں ہے۔ مگر فرحان عادل اور یاسر حمید وہ کھلاڑی ہیں جو ڈومیسٹک کرکٹ میں مستقل مزاجی سے اچھا کھیل رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جب ٹیم شارجہ پہنچی تو عامر سہیل نے مجھ سے کہا کہ مصباح الحق کو گیارہ کھلاڑیوں میں مت رکھنا اور اُس کے فورًا بعد سری لنکا کی سیریز سے مصباح الحق کو ڈراپ کردیا۔ سری لنکا کی سیریز میں بھی میں نے یاسر حمید کی سلیکشن کی درخواست کی مگر عامر سہیل نے میری مخالفت کرتے ہوئے قیصر عباس کو سلیکٹ کیا مگر بعد میں میرے اصرار پر یاسر حمید کو سری لنکا کے دورے کے لئے سلیکٹ کیا۔ اپنی کپتانی کے اس دور میں، میں نے کوچ سے مدد چاہی مگر اُن کا سارا زور ایک خاص کھلاڑی کی سلیکشن پر تھا اور وہ میری مدد نہ کرسکے۔ محمد حفیظ کی ایک روزہ کرکٹ میں صلاحیتوں کےسب متعرف ہیں۔ تاہم میں نے کہا تھا کہ محمد حفیظ کو ٹیسٹ کرکٹ سے دور رکھا جائے مگر اُن کو ٹیسٹ میچز کھلائے گئے۔ اور پھر سب نے دیکھا کہ ہمارے چیف سلیکٹر نے کیسے ٹی وی پر کمنٹری کرتے ہوئے اپنے ہی سلیکٹ کئے ہوئے کھلاڑی کی برائیاں کیں۔ لیکن جب بالر کی حیثیت سے محمد حفیظ نے وکٹیں لیں تو سارا کریڈٹ سلیکشن کمیٹی کے کھاتے میں ڈال دیا۔ اب یہ حال ہے کہ محمد حفیظ تئیس ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ اور اب جبکہ محمد حفیظ اور شاہد آفریدی ٹیم میں شامل نہیں ہیں، یقیناً کوچ اور کپتان چھٹے بالر کے لیے پریشان ہوں گے۔ اس طرح چیف سلیکٹر نے ٹیم کے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح خراب کردیا ہے۔ عامر سہیل نے ایک زخمی کھلاڑی یاسر علی کو یہ کہہ کر منتخب کیا کہ وہ پاکستان کا سب سے تیز بالر ہے۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ وہ تیز ہے مگر اس وقت وہ مکمل فٹ نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ عامر سہیل کو یہ اجازت کس نے دی کہ یاسر علی کےکیرئیر سے کھیلا جائے؟ اور اب یاسر علی منظر میں کہیں نظر نہیں آرہے اور عامر سہیل نے ایک اور زخمی کھلاڑی فہد مسعود کو سلیکٹ کرلیا ہے۔ میری رائے ہمیشہ یہ رہی ہے کہ عبدالرؤف کو موقع ملنا چاہیئے کوینکہ وہ شیعب اختر اور محمد سمیع کے بعد سب سے بہترین فاسٹ بالر ہے۔ ہمارا ایک اور بد قسمت کھلاڑی بھی ہے جو صرف اس وجہ سے عامر سہیل کی زیادتی کا نشانہ بنا اور ٹیم سے باہر ہوا کہ میں نے ہمیشہ اس کی حمایت کی ہے۔ اور وہ کھلاڑی پاکستان میں پچھلے سال ایک روزہ میچوں اور ٹیسٹ کرکٹ دونوں میں رنز بنانے والوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھا۔ جی ہاں آپ نے صحیح پہچانا وہ کھلاڑی یونس خان ہے ۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ عامر سہیل ٹی وی کمنٹیٹر بھی ہیں اور ساتھ میں چیف سلیکٹر بھی۔ اپنی کمنٹری کے دوران عامر سہیل خود اپنے منتخب کردہ کھلاڑیوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں اس کا کیا مطلب بنتا ہے؟ کیا اُن کی سلیکشن غلط ہے؟اور کیا یہ صحیح ہے کہ چیف سلیکٹر کمنٹری بھی کریں؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||