| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
راشد بمقابلہ کرکٹ بورڈ
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کو پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ نے بورڈ کو تنقید کا نشانہ بنانے کے الزام میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے ترجمان سمیع الحسن نے کہا ہے کہ ایک ٹی وی انٹرویو میں کرکٹ بورڈ کے حکام اور سپانسرز کو تنقید کا نشانہ بنا کر کرکٹ بورڈ کے ’ کوڈ آف کنڈکٹ‘ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کرکٹ بورڈ کے ضابطۂ اخلاق کے مطابق کوئی بھی کھلاڑی کس سیریز میں حصہ لینے کے بعد چھ ماہ تک بورڈ کےحکام اور سپانسرز کے خلاف بیان نہیں دے سکتا۔ سمیع الحسن نے کہا کہ بدقسمتی سے راشد لطیف ان سارے ضابطوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا معاملہ انضباطی کارروائی کرنے والی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راشد لطیف کا بیان پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کی بدنامی کا باعث بن سکتاہے۔ راشد لطیف نے کہا کہ وہ کرکٹ کے کھیل کے مفاد میں ہر سزا بھگتنے کے لیے تیارہیں اور انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے اور کمیٹی جو بھی فیصلہ کرے گئی وہ اسے قبول کریں گے۔ چھ ماہ تک زبان بند رکھنے کی پابندی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چھ ماہ کا عرصہ بہت ہوتا ہے اور وہ کرکٹ میں ہونے والی بدعنوانیوں کو عوام کے سامنے لانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کرکٹ بورڈ پر الزام لگایا کہ وہ کھلاڑیوں کو صیح معاوضہ ادا نہیں کر رہا۔ راشد لطیف نے کہا کہ بورڈ کو ہر سال بائیس ملن کی آمدنی ہوتی ہے جس کا دس فیصد کھلاڑیوں کو ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی بین الاقوامی سطح پر بہت قیمت ہے اور بورڈ ان کو بہت سستے داموں بیچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے خلاف بیان دینے والے وہ اکیلے کھلاڑی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انضمام الحق، جاوید میانداد اور عامر سہیل بھی بیان دے چکے ہیں لیکن ان کے خلاف اظہارِ وجوہ کا کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ والی پابندی چوبیس دسمبر کو ختم ہو رہی ہے اور وہ اس کے بعد کھل کر بات کریں گے۔ کرکٹ کو بدنام کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عوام سے معاملات کو چھپا کر کرکٹ کے کھیل کی کوئی خدمت نہیں کی جارہی اور ان سارے معاملات کو عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||