| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
توقیرضیاء کو مشیر لے ڈوبے: رد عمل
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیر ضیاء کے استعفے پر ملکی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ پاکستان ہی نہیں بھارت کے تمام اخبارات نے بھی یہ خبر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو عارف عباسی نے جن کا نام توقیرضیاء کے استعفے سے خالی ہونے والے عہدے کو پر کرنے کے لئے دیگر ممکنہ امیدواروں، خالد محمود ، وسیم حقی اور ماجد خان کے ساتھ لیا جارہا ہے، کہا ہے کہ بورڈ کے معاملات ون مین شو کی طرح نہیں چلائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے بورڈ کے معاملات مسلسل ایڈہاک بنیاد پر چلائے جانے، خازن کی غیرموجودگی اور حسابات آڈٹ نہ ہونے پر بھی حیرانگی ظاہر کی۔
سابق کپتان اور ایشین بریڈ مین کے نام سے مشہور ظہیر عباس نے کہا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ کسی پروفیشنل کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور دی جائے۔ ان کے خیال میں توقیرضیاء اپنے ساتھیوں ہی کو قابو میں کرنے میں ناکام رہے جو مستقل لفظوں کی جنگ میں مصروف رہے اور ڈسپلن کی دھجیاں اڑتی رہیں۔ سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز نے کہا توقیرضیاء اس عہدے کے اہل ہی نہیں تھے ۔ سابق کپتان عمران خان نے کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی تقرری کے لئے جمہوری طریقہ اپنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تقرری کا حق صدر مملکت کے پاس نہیں ہونا چاہیئے۔
وکٹ کیپر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ توقیرضیاء سے انہیں ہمدردی ہے اور ان سے ان کے اختلافات ذاتی نہیں بلکہ کرکٹ کے حوالے سے تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ سے عدالتی جنگ میں مصروف کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری پروفیسر سراج الا سلام بخاری کا کہنا ہے کہ توقیرضیاء کو ان کے مشیر لے ڈوبے، وہ اچھے برے میں فرق ہی نہ محسوس کرسکے۔ بورڈ کے سابق سربراہ جسٹس ( ریٹائرڈ ) نسیم حسن شاہ کے خیال میں توقیرضیاء کا استعفیٰ افسوسناک جبکہ صدر کا اسے منظور کرلینا اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے صدر جنرل پرویز مشرف سے اپیل کی ہے کہ وہ توقیرضیاء کو ان کے عہدے پر کام کرنے دیں کیونکہ ان کے دور میں کرکٹ کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ ٹیم نے ان سے ملنے کی درخِواست بھی کی ہے۔ روزنامہ ڈان نے استعفے کی خبر کے ساتھ اپنے سینیئر صحافی تنویراحمد کا تجزیہ بھی شائع کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ آنے والے نئے سربراہ کو بے قاعدگیوں کو دور کرنے کے لئے بہت کچھ کرنا ہوگا اور اسے جنرل مینیجرز سمیت اسٹاف کی شاہ خرچیاں ختم کرنی ہوں گی۔ ڈان پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتا رہا ہے ۔
دی نیوز نے اپنے نمائندے کی رپورٹ میں قذافی اسٹیڈیم لاہور کی راہداری میں محسوس کی جانے والی اداسی اور خاموشی کا تذکرہ کیا ہے جو توقیرضیاء کے جانے کا نتیجہ سمجھی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ استعفیٰ سے کرکٹ بورڈ کے افسران میں اپنے مستقبل کے بارے میں غیریقینی پائی جارہی ہے ۔ روزنامہ جنگ نے توقیرضیاء کے استعفے کی خبر اگرچہ شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کی ہے لیکن معمول کے مطابق محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کے دور کو بڑی حد تک کامیاب قرار دیا ہے ۔ بھارت کے اخبار ٹیلی گراف نے استعفے کو ڈرامائی قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق توقیر ضیاء کے بیٹے کو بلا وجہ متنازعہ بنایا گیا اور اس وجہ سے وہ خاصے دباؤ کاشکار رہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||