| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ ٹیم تختۂ مشق، کب تک؟
حال ہی میں پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت راشد لطیف کی جگہ انضمام الحق کو سونپ دی گئی، حالانکہ راشد لطیف کو ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد نیوزی لینڈ کے دورے تک کے لئے کپتان مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پچھلے دس برس میں ٹیم کی قیادت کو اٹھارہ مرتبہ تبدیل کیا گیا، جبکہ گزشتہ پانچ سالوں میں ٹیم کی تربیت کے لئے گیارہ کوچ مقرر کیے گئے۔ بار بار بدلتی قیادت کا قومی ٹیم پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟ کیا یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی غیر مستقل مزاجی کی علامت ہے؟ کیا انضمام الحق ایک کامیاب کپتان ثابت ہوں گے؟ --------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------------ کامران کامی، سوہاوا ضلع جہلم، پاکستان میرے خیال میں انضمام کو ایک موقع اور دینا چاہیے کیونکہ کپتانی کا حق ہر اچھے کھلاڑی کو ملنا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو میرا نہیں خیال کے اسے تبدیل کیا جائے۔ ڈاکٹر ملک افضال، معرفت روزنامہ جنگ، پاکستان کھلاڑیوں کی بجائے تو سلیکشن کمیٹی کو تبدیل کردیں کیونکہ سلیکشن کمیٹی نے ثابت کردیا ہے کہ ان میں ٹیم اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کی قابلیت ہی نہیں ہے۔ اس سلیکشن کمیٹی نے بورڈ کے سربراہ کے بیٹے ہی کو منتخب کرلیا اور پوری قوم نے اس کی صلاحیت دیکھ لی جس نے نہ تو رن بنائے اور نہ ہی کوئی وکٹ حاصل کی۔ طاہر رشید، شکار گڑھ، پاکستان میرا خیال ہے کہ یہ ٹیم کے لئے بہت ہی برا ہوا ہے کیونکہ اس سے کھلاڑیوں میں دراڑ پڑجائے گی۔ میرے خیال میں انضمام ایک کامیباب کپتان ثابت نہ ہوں گے۔ اندر کشن تھدانی، حیدر آباد، پاکستان انضمام بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں بشرطیکہ پی۔سی۔بی انہیں دو یا تین برس تک کپتان رکھے کیونکہ ماضی میں کپتانوں کی آئے دن تبدیلی کے باعث ٹیم کو نقصان پہنچا ہے۔ محمد آفاق، سکاربورو، کینیڈا میرے خیال میں انضمام کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جو بیٹنگ کرتے ہوئے اپنے ساتھی کھلاڑی سے ربط برقرار نہیں رکھ سکتے جس کے نتیجے میں خود یا ان کا ساتھ کھلاڑی عموماً رن آؤٹ ہو جاتا ہے۔ اس لیے انضمام بحیثیت کپتان پوری ٹیم کے ساتھ ہم آہنگی کیونکر پیدا کر پائیں گے؟ عامر مستوئی، ڈیری غازی خان، پاکستان کپتانی انضمام کا حق ہے۔ راشد لطیف کو اپنا دل بڑا رکھنا چاہیے اور پی۔سی۔بی کو بار بار کپتان تبدیل کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ جنوبی افریقہ کے ساتھ کھیلی جانے والی سیریز کے بعد انضمام کی کامیابی کا پتہ چل جائے گا۔ محمد اعظم میاں، کویت نہ صرف کرکٹ بلکہ پاکستان میں ہر کھیل پر سیاست غالب ہے۔ میری رائے میں یوسف یوہنا بہترین کپتان ثابت ہو سکتے ہیں۔ انضمام دنیا کی کمزور ترین ٹیم کو شکست دے کر کپتان بنے ہیں، وہ دنیا کی سرِفہرست ٹیم کے خلاف کیسے کھیل پائیں گے۔ اس لیے انضمام کو ٹیم کا کپتان مقرر کرنا انتہائی غلط فیصلہ ہے۔ مسرور خان، برٹش کولمبیا، کینیڈا ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ عمران خان یا ماجد خان کو پی۔سی۔بی کا چیئرمین مقرر کیا جائے ورنہ لوگ کرکٹ میں اپنی دلچسپی کھو بیٹھیں گے۔ توقیر ضیاء آمر ہیں اور ان کے فیصلے وقتی اور عارضی طرز کے ہیں۔ توقیر ضیاء کی خوش قسمتی ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ نہیں کھیل رہا کیونکہ بھارت سے شکست کے بعد لوگوں کو اندازہ ہو گا کہ ٹیم کس قدر بری کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور توقیر ضیاء کب کے اپنے عہدے سے برخاست بھی ہو گئے ہوتے۔ عامر رفیق، لندن، برطانیہ میں آج تک یہی سمجھتا رہا کہ عامر سہیل ایک ایماندار کھلاڑی تھے اس لیے ایماندار سلیکٹر بھی ہیں۔ لیکن انہوں نے توقیر ضیاء کی خوشامد سے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کے فرزند جنید ضیاء جیسے گلی محلے کے کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کر کے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ہماری کرکٹ کا اللہ ہی حافظ ہے۔ سلیکٹرز کا بس چلے تو اپنی نوکریاں پکی کرنے اور توقیر ضیاء کو خوش کرنے کے لیے انضمام جیسے سست کھلاڑی کے بجائے جنید ضیاء کو ہی ٹیم کا کپتان مقرر کر دیں۔ سہیل شیخ، لورالائی، پاکستان حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو صحیح معنوں میں اسٹیو وا اور ایئن فلیمنگ جیسا قابل کپتان ملا ہی نہیں۔ ایسا بے باک اور دو ٹوک بات کرنے والا کپتان ہونا چاہیے جو نہ صرف اپنے کھلاڑیوں کو سمجھتا ہو بلکہ مخالف ٹیم کی خامیوں کو استعمال کرنے کے گُر سے بھی واقف ہو۔ کپتان صرف پاکستان ٹیم ہی کا نہیں بلکہ دنیا کی اکثر ٹیموں کے بدلتے رہتے ہیں، اس میں اس قدر پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ محمد الیاس، کراچی، پاکستان میرے خیال میں سب سے پہلے تو پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے سربراہ جنرل توقیر ضیاء کو تبدیل کیا جائے کیونکہ ان میں کرکٹ ٹیم کو چلانے کی صلاحیت نہیں۔ ٹیم میں سیاست آچکی ہے، کئی گروہ بن چکے ہیں اور کرکٹ کنٹرول بورڈ کے سربراہ انہیں کنٹرول نہیں کر پا رہے۔ اس لئے میری اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ جنرل توقیر ضیاء کا عہدہ کسی سابق کرکٹر یعنی عمران خان، ظہیر عباس، یا کسی بھی دوسرے کو دیا جائے۔ محمد حنیف لودھی، اسلام آباد، پاکستان ملکی کرکٹ سے اندرونی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ کرکٹ کھیل ہے اسے کھیل ہی رہنے دیا جائے اور سیاست نہ بنایا جائے۔ احمر خان، کراچی، پاکستان راشد لطیف کے ساتھ سازش ہوئی ہے۔ انہیں زیادہ ’فری ہینڈ‘ نہیں دیا گیا۔ انہیں کپتانی سے ہٹانے میں مرکزی کردار عامر سہیل نے ادا کیا ورنہ وہ بہت اچھے کپتان ثابت ہوسکتے تھے۔ اب انضمام کو اگر ’فری ہینڈ‘ دیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ کافی عرصے تک کپتانی کر سکیں۔ احمد نسیم شمسی، کراچی، پاکستان یہ سب سیاست کا حصہ ہے جو کافی لمبے عرصے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو لاحق ہے۔ راشد ایک ’بولڈ‘ کھلاڑی ہیں اور ان سب چیزوں پر یقین نہیں رکھتے۔ جہاں تک انضمام کا تعلق ہے میرا خیال ہے کہ ان میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی صلاحیت نہیں۔ کپتانوں کے تبدیل کئے جانے کےاس دیرینہ مسئلہ کا حل یہ ہے کہ فوج کو کرکٹ سے الگ کردیا جائے اور کپتان تبدیل کرنے کا فیصلہ اور اختیار فرد واحد کو حاصل ہی نہ ہو۔ خالد یوسف، ہیملٹن، کینیڈا پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام یہ نہیں چاہتے کہ ٹیم کنارے لگے اور پختہ ہو۔ بار بار تبدیلی کا مطلب ہے کہ کھلاڑی ذہنی طور پہ کسی کو تسلیم نہ کرے اور ہر چھ ماہ کے بعد نئے کپتان کا انتظار کرے۔ ابھی کم از کم دو سال راشد کو ہی کپتان رہنا چاہئے تھا۔ بورڈ کسی کو بھی عزت سے جانے نہیں دیتا۔ جہاں تک بنگلہ دیش کی ٹیم کا تعلق ہے تو اس میچ میں تو اگر میں بھی ٹیم کا کپتان ہوتا تو پاکستان جیت جاتا۔ اس میں انضمام کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ مزا تو تب ہے کہ ٹیم جنوبی افریقہ سے جیتے۔ عاصم فاروق شیخ، کراچی، پاکستان یہ ہماری ٹیم کی روایت بن چکی ہے کہ جب بھی وہ ناکام ہوتی ہے تو پی سی بی کپتان کو اس کھلاڑی سے تبدیل کردیتی ہے جو کافی عرصے سے باہر ہوتا ہے یا پھر تھوڑے عرصے سے ٹیم میں شامل ہوتا ہے۔ اور ہمیں بالکل حیرت نہیں ہوگی اگر ٹیم کے ہارنے پر پی سی بی نے انضمام کی جگہ محسن خان کو کپتان مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ سید خالد حسین جعفری، حیدرآباد، پاکستان راشد کو کپتانی سے ہٹانا ایک سازش ہے۔ راشد ایک صاف گو کھلاڑی ہے اور جنید ضیاء کو ٹیم میں شامل کرنے کے بنیادی اختلاف کی وجہ سے ان کو یہ سزا دی گئی ہے جو پاکستان کی کرکٹ کے لئے تباہ کن ہے اور کراچی کے لئے ایک سازش۔ عبدل رحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا میرے خیال میں کپتان بدلنے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کسی فوج کے ریٹائرڈ کپتان کو کرکٹ کا کپتان مقرر نہیں کردیا جاتا۔ پھر وہ فوج کا کپتان دس سال تک ٹیم کا کپتان رہے گا۔اور یہ کسی فوج کے جنرل کا بیٹا بھی ہوسکتا ہے جیسے جنید ضیاء وغیرہ۔ عالمگیر خان، لوزان، سوئٹزرلینڈ ہاکی کے میدان میں پاکستان کی ٹیم ایک عرصہ سرِفہرست رہی لیکن فوج کے ایک بریگیڈیئر کو پاکستان ہاکی کا سربراہ بنانے سے ملک کی ہاکی ٹیم زوال پذیر ہو گئی۔ اس کی وجہ ہاکی کی غیر پیشہ ورانہ اور آمرانہ طرز کی قیادت تھی جو کھیل کے میدان کو بھی میدان جنگ ہی تصور کرتی تھی۔ یہی حال اب پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا بھی ہو رہا ہے۔ کھلاڑیوں میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا فقدان ہے اور ٹیم کا کپتان تبدیل کیا جانا معمول کی بات بن گئی ہے۔ پاکستان ٹیم میں نہیں بلکہ کرکٹ کی انتظامیہ اور سلیکشن کمیٹی میں بڑی تبدیلیاں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ میری رائے میں انضمام اچھے کھلاڑی ہیں لیکن ان میں قائدانہ صلاحیتیں نہیں ہیں اس لیے انہیں ٹیم کا کپتان مقرر کرنا دور اندیشی نہیں ہو گی۔ لیکن آجکل فیصلے صلاحیتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ چیئرمین اور چیف سیلیکٹر کی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اس کی بڑی مثال جنید ضیاء کو ناجائز طور پر دیگر عمدہ کھلاڑیوں پر ترجیح دے کر ٹیم میں شامل کرنا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||