| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شہریار: کرکٹ کے نئے سربراہ
صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے سابق سیکرٹری خارجہ شہریار خان کو پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کا نیا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ چودہ دسمبر کو لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیاء کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چیئرمین کے عہدے کا چارج چھوڑ دیں گے تو شہریار خان ان کی جگہ لیں گے۔ صدر مشرف نے ریٹائر ہونے والے چیئرمین توقیر ضیا کی کرکٹ کے لیے خدمات کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نئے چیئرمین اپنے پیش رو کی شاندار روایت کی پیروی کرتے ہوئے کرکٹ کو فروغ دیں گے۔ شہر یار خان ہندوستان اور فرانس میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں اور پاکستان کرکٹ ٹیم کےمنیجر کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں۔ توقیر ضیاء کا استعفیٰ اچانک اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے ایک نجی چینل کو اپ لنکنگ لائسنس نہ ہونے کے باوجود، نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے میچ نشر کرنے کے حقوق دے دیے اور پہلا ایک روزہ میچ براۂ راست نشر نہیں ہوسکا، جس کے نتیجے میں نجی چینل اور سرکاری ٹی وی کے درمیان ایک تنازعہ پیدا ہو گیا۔ سابق سیکریٹری خارجہ شہریارخان کی تقرری سے وہ قیاس آرائیاں بھی ختم ہوگئیں جو توقیرضیاء کے استعفے کے بعد سے کرکٹ کے حلقوں میں ان کے جانشین کے بارے میں ہورہی تھیں۔
اگرچہ ورلڈ کپ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے کامیاب ثابت نہ ہوا لیکن انتظامی معاملات کے حوالے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم شہریار خان کی موجودگی میں ہر قسم کے تنازعہ سے بچی رہی۔ شہریار خان بھوپال کے مشہور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی اصول پسندی کے لئے مشہور ہیں۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ کے معاملات دیانت داری، انصاف اور نظم وضبط کے اصولوں کے ساتھ چلانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور شہریار خان کے وسیع تجربے کے باوجود کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگی اور شاید انہیں پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لئے سخت اقدامات کرنے ہونگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||