| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ: شیدائیوں کی مایوسی
وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ ہفتہ کو جب پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان لاہور میں پہلا ون ڈے میچ شروع ہوا تو ملک میں ٹی وی پر میچ دیکھنے والے کروڑوں پاکستانیوں کو شدید مایوسی ہوئی کیونکہ ٹی وی کے کسی چینل پر اس میچ کی براہ راست نشریات نہیں آرہی تھیں۔ تنازعے کا سبب پاکستان ٹیلی ویژن اور جیو کے درمیان معاہدہ نہ ہو نا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے پاکستان کے پرائیویٹ چینل جیو کو میچز ٹی وی پر دکھانے کے حقوق پانچ لاکھ ڈالر میں فروخت کیے تھے۔ تب ہی سے کہا جا رہا تھا کہ پی ٹی وی اور جیو کے درمیان یہ میچز دکھانے پر معاہدہ نہیں ہو پائےگا اور پاکستان کی ایک بڑی آبادی یہ میچ دیکھنے سے محروم ہو جائے گی کیونکہ جیو ایک کیبل ٹی وی چینل ہے جس کی رسائی پاکستان کی چند فیصد آبادی تک ہے۔ تاہم جب صبح گیارہ بجے میچ کا آغاز ہوا تو یہ پی ٹی وی پر تو کیا جیو پر بھی نشر نہیں کیا گیا کیونکہ جیو کے پاس براہ راست نشریات کا لائیسنس ہی موجود نہیں۔ اس لائیسنس کو جاری کرنے کا اختیار اگر چہ پیمرا پاکستان میڈیا ریگولیٹری کے پاس ہے تاہم اس کے لیے پیمرا کو وزارت اطلاعات سے این او سی کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ اب تک کی اطلاع کے مطابق جاری نہیں کیا گیا۔ کچھ ذرائع کے مطابق پی ٹی وی اور جیو کے درمیان معاہدہ طے نہ پانے کا سبب پی ٹی وی کا یہ مطالبہ بھی تھا کہ پاکستان میں صرف وہی یہ میچز دکھائے گا۔ جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ حقوق جیو کو فروخت کیے تو پی سی بی کے چیئر مین لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء نے یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ میچز پی ٹی وی پر دکھائے جائیں گے اور قوم یہ میچز دیکھنے سے محروم نہیں ہو گی۔ لیکن پھر قوم یہ میچز دیکھنے سے کیوں محروم ہوئی؟ مبصرین اس کا ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ کو قرار دیتے ہیں جب کہ پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ کا کہنا ہے کہ اس میں بورڈ کا کوئی قصور نہیں ’کیونکہ ہم نے تو اس ادارے کو حقوق بیچے جس نے ہمیں سب سے زیادہ رقم کی پیشکش کی اور وہ باقی پیشکشوں سے کئی گنا زیادہ تھی‘۔ رمیض راجہ کا مؤقف تھا ’ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ جیو کے پاس براہ راست نشریات کا لائسنس نہیں ہے اور نہ ہی ہم نے یہ جاننے کی ضرورت محسوس کی کیونکہ جو ادارہ اتنی بڑی رقم کی پیشکش کر رہا ہے اس کے پاس اس کی سہولت ہونی چاھیے‘۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جیو اور پی ٹی وی کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا تاہم فیصلہ ان کے اپنے ہاتھ میں تھا اور اصل وجہ یہ ہے کہ جیو کے پاس اپ لنکنگ کا لائسنس موجود نہیں۔ اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے جرنل مینیجر مارکیٹنگ زاہد بشیر نے الزام عائد کیا ہے کہ اس سارے جھگڑے کے ذمہ دار وفاقی سیکرٹری اطلاعات انور محمود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انور محمود اپنی کسی ذاتی وجہ کے سبب جیو کو این او سی جاری کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی وی ٹین سپورٹس کے ساتھ معاہدہ کر سکتا ہے تو جیو تو پاکستانیوں کا چینل ہے تو اس کے ساتھ کیوں نہیں کر رہا ۔ بی بی سی نے سیکرٹری اطلاعات انور محمود کا موقف جاننے کے لئے ان سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ زاہد بشیر نے کہا کہ کچھ دیر قبل انہوں نے جیو کے مالک میر شکیل الرحمن کے ساتھ بات کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں صدر پاکستان جرنل پرویز مشرف سے بات کی ہے اور امید ہے کہ اس کا کوئی مثبت حل نکل آئے گا۔ حل تو جب نکلے گا سو نکلے گا مگر اس وقت تو کرکٹ کی شیدائی پاکستانی قوم یہ میچ دیکھنے سے محروم ہے۔ ناصرف پاکستانیوں بلکہ دنیا بھر میں کرکٹ کے شیدائی ابھی تک یہ میچ دیکھنے سے محروم ہیں اور جیو کا یہ دعوٰی کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگ اس میچ کو ایک نئے انداز میں دیکھیں گے دھرا کا دھرا رہ گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||