BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2004, 12:58 GMT 17:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا توہینِ رسالت ممکن ہے؟
کیا تو ہینِ رسالت ممکن ہے؟
کیا تو ہینِ رسالت ممکن ہے؟

پاکستان کی ایک عدالت نے توہین رسالت کے الزام میں پچھلے تین سال سے زائد عرصے سے جیل میں بند ڈاکٹر یونس کو الزامات سے بری کر دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس علی نواز چوہان نےاپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ کسی مسلمان پر توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا جانا ناممکن ہے کیونکہ کوئی مسلمان توہین رسالت کا سوچ بھی نہيں سکتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر کسی پر الزام لگے تو ایسے مسلمان شخص کا ذہنی توازن معلوم کیا جانا چاہیے۔ اگر نفسیات کا ماہر ڈاکٹر بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ مذکورہ شخص کے ذہنی توازن میں کوئی خرابی نہیں ہے تو پھر اس کے خلاف اسلام کے دائرہ سے خارج ہونے کا، یعنی مرتد ہونے کا الزام تو لگ سکتا ہے، توہین رسالت کا نہیں۔ اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے لیکن پاکستان میں ابھی تک مرتد کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔

پنجاب میں توہین رسالت سے متعلق مقدمات عام ہیں اور چھوٹی عدالتیں اکثر ملزم کو موت کی سزا سنادیتی ہیں لیکن بڑی عدالتیں بالعموم انہیں رہا کر دیتی ہیں۔ بہت سی غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ توہینِ رسالت کا قانون ختم کیا جانا چاہئے اور یہ کہ لوگ اکثر اسے ذاتی دشمنیوں کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔

کیا آپ عدالت کے حالیہ فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں؟ کیا توہینِ رسالت ممکن ہے؟ کیا اس قانون کو سرے سے ختم کر دینا چاہئے؟ آپ کا ردِّ عمل

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


آصف منہاس، ٹورانٹو: انبیاء کی توہین ہر معاشرے میں ناپسندیدہ ہونی چاہئے۔ لیکن اس کے خلاف کسی قانون سازی یا سزا کی ضرورت اور وجہ نہیں ہے خصوصاً پاکستانی معاشرے میں جہاں مولوی حضرات نے مذہب کو مذاق بنا رکھا ہے۔ ویسے بھی چاند پر تھوکا منہ پر آ پڑتا ہے۔ کوئی شخص چاہے جو بھی کہتا رہے محترم انبیاء کی توہین نہیں کر سکتا۔ رشدی کے خلاف بھی کسی فتوے کی ضرورت نہیں تھی البتہ اس کی مذمت ضرور ہونی چاہئے تھی۔ پاکستان میں احمدیوں کے خلاف بھی یہ قانون استعمال ہو رہا ہے۔ دراصل مولوی صاحبان اس قانون کو اپنے حلوے منڈی کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

کمال رضوی، اسلام آباد: قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علماء زمین پر فساد پھیلائیں گے۔ احترام رسالت کا تقاضہ ہے کہ اس قانون کو مولوی حضرات کی دسترس سے دور رکھا جائے۔

ڈاکٹر خورشید عالم ایاز، گجرات: پاکستان میں طاقتور عناصر اس قانون کو ناپسندیدہ افراد کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

عبدل حلیم، جرمنی: اللہ کا قانون قرآن میں موجود ہے اور ہم ناسمجھ انگریزوں کے قانون پر فیصلے کرتے ہیں۔ خدا ہمیں قرآنی احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ذکی، پاکستان: توہین رسالت پر سزا ہونی چاہئے۔

عمر فاروق، کراچی: جس کے لئے پوری کائنات وجود میں آئی، اس عظیم شخص کی شان میں گستاخی کی سزا موت ہی ہونی چاہئے۔

نصرت، راولپنڈی: پیغمبر اسلام کی سنت پر عمل کریں، مولوی لوگ خدا سے ڈریں۔ توہین رسالت کا قانون ختم ہونا چاہئے۔

غوری، کینیڈا: یہ قانون ختم ہونا چاہئے کیونکہ یہ تو قبل از تاریخ قانون لگتا ہے۔ اگر قانون ہے تو پھر ان مسلمانوں کے لئے بھی ایسا ہی قانون ہونا چاہئے جو غیر مسلم مذہبی شخصیات کی توہین کرتے ہیں۔

سیدہ سومرو، جرمنی: اہم بات یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کو مسلمان قرار دینا چاہئے جو توہین رسالت کا مرتکب ہو؟ لیکن ایسا کرنے والے مسلمان یا غیر مسلم کو سخت سزا ضرور دی جانی چاہئے۔

عاصم جاٹ، لاہور: مرتد ہونے کے حوالے سے ہم سب ہی کسی نہ کسی مذہب کے مرتد ہیں، تو پھر سب کو گولی مار دینی چاہئے۔ انڈیا والے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ ملک سے مسلمانوں کو ختم کرو اور اس اعتبار سے امریکہ، اسرائیل اور بھارت سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں کیونکہ ان کی نظر میں ہم سب مرتد ہیں کیونکہ ہمارے بڑے بھی یا تو ہندو تھے، سِکھ یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ خدا ہمیں سب کے ساتھ انصاف کرنے کی توفیق دے۔

ایاز احمد، سرگودھا: اگر کسی جج یا عدالت کی توہیں کرنے والے شخص کے خلاف مقدمہ چل سکتا ہے تو دنیا کی عطیم ترین ہستی کی توہیں کرنے والے پر مقدمہ کیوں نہیں چل سکتا؟

اے ایم اسماعیل صدیقی، بحرین: نہیں یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص توہینِ رسالت کرے۔ لیکن اگر کوئی اس کا مرتکب ہوا ہو تو اس کو سزائے موت دینا چاہئے۔

بابر عباسی، راولپنڈی، پاکستان: میرا خیال ہے کہ اس قانون ختم کردینا چاہئے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم ابھی تک ان مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔

کوکب اعوان، رومانیہ: جب ہمارے پیغمبر کی زندگی میں ان کی شان میں سب سے زیادہ گستاخی کرنے والے شخص کو سزا نہیں دی گئی تو ہم کون ہیں کسی کو سزا دینے والے۔

عظمت گل، شمالی علاقہ جات، پاکستان: توہینِ رسالت کے قوانین خود رسول کی تعلیمات کے منافی ہیں، کہ انہیں نے تو اپنے آپ پر کچرا پھینکے جانے کو بھی معاف فرمایا۔ ان قوانین کا تعلق بجائے اسلام کے قبل از اسلام کے جاہلانہ دور سے ہے۔

ابو انتظام سید، ملتان، پاکستان: کسی قانون کے غلط استعمال کا مطلب یہ نہیں کہ اس قانون کو ختم کردیا جائے۔ اگر قتل کے مقدمے میں بےگناہ پھانسی پا جائے تو کیا ہم قتل کے قانون کو ختم کردیں گے۔ رہی بات انسانی حقوق کی تو کیا کسی مذہب کی عظیم شخصیات کی گستاخی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں۔ اگر قائد اعظم کی گستاخی کی سزا تین سال ہے تو توہینِ رسالت کی سزا تو موت ہونی ہی چاہئے۔ پھر توہینِ رسالت کرنے والا مرتد ہوتا ہے اور اس کی سزا بھی موت ہے۔ (ویسے بی بی سی والے صرف اسی مسئلے کو کیوں اٹھاتے ہیں)۔

جمیل احمد بزنجو، بلوچستان، پاکستان:توہینِ رسالت تو کسے مسلمان کا کام نہیں۔ جو اس طرح کا کام کرے وہ ضرور مرتد ہوگا لیکن پھر بھی اسے اسلامی اور اخلاقی لحاظ سے سزا ملنی چاہئے۔

صلاح الدین لنگاہ، جرمنی: اس قانون کا غلط استعمال ہو رہاہے۔ کوئی بھی مسلمان تو ہینِ رسالت کا نہیں سوچ سکتا اور اگر کویی نعوذو بااللہ گستاخی کرتا ہے تو مولوی کون ہے سزا دینے والا؟ یا اس کی سزا موت قتل وغیرہ کیوں ہے؟ جب حضرت محمد نے ان لوگوں کو کچھ نہیں کہا تو میں اور آپ کون ہیں؟ ہر انسان کو حق ہے کہ جو وہ مرضی ہو کہے، بے شک وہ توہینِ رسالت کے زمرے میں آتا ہو۔ ہاں ایسے شخص پر علاقے میں نقصِ امن کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

امیرالدین، مظفرآباد، آزاد کشمیر: میرے خیال میں یہ درست فیصلہ نہیں۔جس طرح ہر انسان کی تو ہین ممکن ہے خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو اسی طرح کوئی بھی شخص توہینِ رسالت کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ تاہم مسلمان توہین کے بعد اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ جج صاحب کوچاہئے تھا کہ اگر ثبوت کافی تھا تو وہ اس شخص کو توہینِ رسالت اور مرتد ہونے کے دونوں جرائم کی پاداش میں سزا دیتے۔

جاید اقبال، کراچی، پاکستان: میرے خیال میں جج صاحب کا فیصلہ درست ہے کیوں کہ زمانہ بدلتا ہے تو اس کے طور طریقے بھی بدل جاتے ہیں۔

خالد شاہین، جرمنی: میرے خیال میں ایسے کسی قانون کی ضرورت نہیں ہے اور خاص طور پر پاکستان میں جہاں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔

عبداللہ، متحدہ عرب امارات: توہینِ رسالت ممکن ہے اور اس کے مجرم کو سزا ہونی چاہئے۔ پاکستانیوں سے تو یہ جرم بعید بھی نہیں۔ اس قانون کو ختم کرنے والا مسلمان ہو سکتا، ضرور قادیانی ہوگا۔

طاہر احمد، مسی ساگا، کینیڈا: توہینِ رسالت کا قانون انسانیت اور اسلام کے منافی ہے اور لوگ اسی صرف ذاتی دشمنیاں نکالنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ قانون میں توہینِ رسالت کی تعریف نہیں کی گئی اس لئے یہ انتہا پسند ملاؤں کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار بن جاتا ہے جسے وہ اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کتے ہیں۔ جج صاحبان کے اردگرد ایک خوف کی فضا قائم کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ عموماً سزائیں اپنی گردن بچانے کے لئے دے دیتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ تعریف ہے اور امید ہے کہ اس کے نتیجے میں یہ قانون ہی ختم کردیا جائے گا۔

مرزا طارق الدین، اسلام آباد، پاکستان: کوئی بھی مسلمان یا غیر مسلم توہینِ رسالت کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اس قانون کو ذاتی دشمنیوں کے لیے بغیر کسی وجہ کے استعمال کیا جاتا رہا ہے، خاص طور پر اقلیتوں کے خلاف۔ میرا خیال ہے کہ اس قانون کا دائرہ کار مزید پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی شخص کسی بھی نبی کی توہین کرنے پر سزاوار ٹہرایا جا سکے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پیغمبرِ اسلام اور خلفائے راشدین میں سے کسی نے بھی کبھی کسی کو توہینِ رسالت کے جرم میں موت کی سزا نہیں سنائی۔ یہ تاریخ میں محفوظ ہے کہ مدینہ کے یہودیوں نے کئی بار رسول کی شان میں گستاخی کی مگر انہیں کبھی سزا نہیں دی گئی۔

اختر نواز لاہور، پاکستان: میرا خیا ہے کہ عدالت کا فیصلہ باکل درست ہے کہ کوئی مسلمان یہ گستاخی کر ہی نہیں سکتا۔ اگر میں زمین پر کھڑا ہوکر آسمان پر تھوکوں گا تو تھوک میرے ہی منہ پر گرے گی۔

صالح محمد، راوالپنڈی، پاکستان: اگر کوئی شخص اپنے آپ کو نبی کہتا ہے اور پھر اس کا اقرار بھی کرتا ہے تو اس کے لئے اسلام میں کویی جگہ نہیں۔ پاکستان میں اس مسئلے کو اچھالا بہت جاتا ہے لیکن کوئی مثبت اقدامات نہیں کئے جاتے۔

ناصر چٹھہ، بہاول نگر، پاکستان: یہ ممکن نہیں، میں نہیں مانتا۔

ڈاکٹر عبدالمجید، فیصل آباد، پاکستان: اس قانون کو سرے سے ختم کر دینا چاہئے۔ یہ ہمیشہ ذاتی دشمنیوں اور مولویوں کی طاقت بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

ساحر، کراچی، پاکستان: اس قانون کے ذریعے صرف مولوی حضرات کسی کو بھی آسانی سے قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔ ایسا ہی دوسرا قانون کسی کو بھی قادیانی قرار دے دینا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ لاہور انجینیئرنا یونیورسٹی میں میری پڑھائی کے دوران وائس چانسلر صاحب قانون کے بہت پابند تھے اور انہوں نے ایک مذہبی جماعت کو ان عام غنڈہ گردی سے روک دیا تھا جس پر اس جماعت نے ان پر توہینِ رسالت کا الزام لگا کر یونیورسٹی میں فسادات شروع کروا دیئے۔

احمد نقوی، کراچی، پاکستان: مولویں کی پٹائی کرنی چاہئے جنہوں نے اسلام کو مذاق بنا رکھا ہے۔

نعمان احمد، راوالپنڈی، پاکستان: اگر توہینِ رسالت کا قانون ختم کیا گیا تو اس سے عوام میں اشتعال پیدا ہوگا اور مولویوں کو ایک نیا جھگڑا کھڑا کرنے کا موقعہ مل جائے گا۔ تاہم اس قانون میں ترمیم کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ جو شخص کسی پر توہینِ رسالت کا الزام لگاتا ہے اور ثابت نہیں کر پاتا تو اسے پندرہ برس تک کی سزا ہونی چاہئے۔ پھر اس قانون کی وضاحت بھی ہونا ضروری ہے کیوں کہ بعض مذہبی مکتبہ فکر والے فقہی اختلافات کو بھی توہینِ رسالت گردانتے ہیں۔

محمد ثاقب، بہار، بھارت: عدالت کا حالیہ فیصلہ جج کے دماغی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔ کسی بھی جج کو صرف اس قانون کے تحت فیصلہ کرنا ہوتا ہے جس کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہو۔ پھر اس سے اس لئے بھی اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ توہینِ رسالت ایک مسلمان سے بھی ممکن ہے اوراس نام نہاد روادار، اصلاح پسند اور جدیدیت کے اندھے دور میں یہ اور بھی زیادہ ممکن ہے۔

کامران، پاکستان: یہ قانون رہنا چاہئے لیکن ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں کہ اس کا ناجائز استعمال نہ کیا جاسکے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد