BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2004, 15:22 GMT 20:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کبھی موت کی سزا کبھی بری

اعلی عدالتوں نے ابھی تک توہین رسالت کے ملزم کو سزا نہیں سنائی
اعلی عدالتوں نے ابھی تک توہین رسالت کے ملزم کو سزا نہیں سنائی

پاکستان کی ایک عدالت نے توہین رسالت کے الزام میں پچھلے تین سال سے زائد عرصے سے جیل میں بند شخص کو الزامات سے بری کر دیا ہے لیکن تحریک ختم نبوت کے لوگوں نے رہا کئے جانے کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے سامنے اپیل دائر کر دی ہے۔

ڈاکٹر یونس کو، جو اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن میں واقع ہومیوپیتھک کالج میں لیکچرار تھے پولیس نے توھین رسالت کے الزام میں دو اکتوبر سن دوہزار کو گرفتار کیا تھا-

ان کی گرفتاری کالج کے کچھ طلبا‏ کی شکایت پر کی گئی تھی کہ ڈاکٹر یونس نے حضور پاک‏ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ ڈاکٹر یونس نےجو میڈیکل ڈاکٹر ہیں اس الزام کی تردید کی، اور عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کرایا جس میں اس نے موقف اختیار کیا کہ وہ راسخ العقیدہ مسلمان ہے۔

تاہم ڈاکٹر یونس کو اگست دو ہزار میں ایڈیشنل سیشن جج نے پھانسی کی سزا سنا دی، جس کو انہوں نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ کے دو ججوں کے بینچ نے ڈاکٹر یونس کی اپیل کی سماعت کی ، دونوں مختلف نتیجوں پر پہنچے۔ ایک جج نے ڈاکٹر یونس کو توھین رسالت کا مرتکب پایا اور انہوں نے ایڈیشنل سیشن جج کا فیصلہ جس میں ڈاکٹر یونس کو موت کی سزا کا حقدار قرار دیا گیا تھا کو برقرار رکھا۔

جبکہ دوسرے جج کے مطابق ڈاکٹر یونس کے خلاف جرم ثابت نہیں ہو سکا لہذا ان کو جیل سے رہا کردیا جائے۔ دو ججوں کے متضاد فیصلوں کی وجہ سے چیف جٹس لاہور ہائی کورٹ نے تیسرے ریفری جج کو کیس بھیج دیا اس نے فیصلہ دیا، کہ اس کیس کی سماعت ہی نئے سرے سے کی جائے۔

دوسری دفعہ جب کیس کی سماعت ہوئی تو ایڈیشنل سیشن اسلام آباد نے ڈاکٹر یونس کو توھین رسالت کےجرم سے بری قرار دیا اور حکم دیا کہ انہیں رہا کر دیا جائے۔

فیصلے سے ناخوش مولوی حضرات نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے سامنے ایک اپیل دائر کی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈاکٹر یونس کو پھانسی کی سزا دی جائے۔

مسلمان اور توہینِ رسالت

 کوئی مسلمان توہین رسالت کا سوچ بھی نہيں سکتا ھے لیکن اس کے باوجود کسی پر الزام لگے اور ڈاکٹر بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ مذکورہ شخص کا ذہنی توازن ٹھیک ہے تو پھر اس پر مرتد ہونے کا الزام تو لگ سکتا ہے توہینِ رسالت کا نہیں

جسٹس چوہان

لاہور ہائی کورٹ کے جٹسس مولوی انوارالحق نے حکومت کو حکم دیا کہ تمام ریکارڈ پیش کیا جائے۔

ڈاکٹر یونس بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو توہین رسالت سے متعلق مجریہ پاکستانی قانون کی دفعہ سی 295 کے تحت گرفتار ہوئے اور تین سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔

توہین رسالت کا قانون سب سے پہلے 1986میں بنایا گیا تھا۔ جس کو بعد نواز شریف حکومت نے 1992میں اس میں ترمیم کر کے اس میں عمر قید کی شق ختم کر دی جس کے بعد اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ توہین رسالت ہوئی ہے تو اس کے پاس ملزم کو موت کی سزا سنانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔

توہین رسالت سے متعلق سب سےزیادہ مقدمات پنجاب میں درج ہوتے ہیں اور چھوٹی عدالتیں اکثر ملزم کو موت کی سزا سناتی ہیں لیکن بڑی عدالتیں بالعموم انہیں رہا کر دیتی ہیں۔ پاکستان میں توہین رسالت کے ایک بھی ملزم کو پھانسی کی سزا نہیں دی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس علی نواز چوہان نے حال ہی میں توہین رسالت سے متعلق ایک ایسی تشریح کی ہے جو اس وقت قانونی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اگر اس کو مان لیا گیا تو توہین رسالت کے مقدموں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

کینتھ
توہین رسالت کے ایک اور ملزم کینتھ مسیح جنہیں سزائے موت سنائی گئی

جسٹس چوہان نےاپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ کسی مسلمان پر توہین رسالت کا مقدمہ درج کرنا نا ممکن ھے ان کا کہنا ھے کہ کوئی مسلمان توہین رسالت کا سوچ بھی نہيں سکتا ھے لیکن اس کے باوجود کسی پر الزام لگے تو ایسے مسلمان شخص کا ذہنی توازن معلوم کیا جانا چاہیے۔ اگر ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچے کہ مذکورہ شخص کا ذہنی توازن ٹھیک ہے تو پھر اس کے خلاف اسلام کے دائرہ کار سے خارج ہونے کا ، یعنی مرتد ہونے کا الزام تو لگ سکتا ہے، لیکن توہین رسالت کا نہیں۔ اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے لیکن پاکستان میں ابھی تک مرتد کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد