مرغیوں کی بیماری: آپ کی رائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تھائی لینڈ اور ویت نام سمیت مشرق بعید کے ممالک میں مرغیوں میں پھلنی والی بیماری -- برڈ فلو – سے ایک چھ سالہ بچہ سمیت متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اب پاکستانی حکام نے تصدیق کردی ہے کہ کراچی میں مرغیوں میں اس قسم کی بیماری پائی گئی ہے۔ سندھ میں پولٹری ریسرچ ادارے کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے نتیجے میں گزشتہ نومبر سے کم سے کم چالیس لاکھ مرغیاں مرچکی ہیں۔ کیا آپ مرغیوں کی اس بیماری پر فکرمند ہیں؟ اس کے اثرات سے بچنے کے لئے آپ کیا کررہے ہیں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ خرم شہزاد شیخ، جرمنی: میرے خیال میں یہ قصابوں کی سازش لگتی ہے یا پھر مشرف حکومت کے خلاف القاعدہ کے کوئی کیمیاوی ہتھیار ہیں۔ اس معاملے کی پوری تحقیقات ہونی چاہئے اور القاعدہ کے مرغیوں کی وسیع تباہی کے ہتھیار ڈھونڈنے کے لئے علاقہ غیر میں پھر سے آپریشن شروع کیا جائے۔ ورنہ یہ نہ ہو کہ صدر مشرف کو فلو لگ جائے۔ محمد اقبال، کوٹلی، کشمیر: جب حکمران اللہ کا باغی ہوجائے پھر ملک کو اللہ عذابوں کا مزہ چکھاتا ہے اور جو اللہ کا خوف اختیار کرتا ہے اللہ اس کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور رزق کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ یہ بیماری تو ایک انتباہ ہے کہ راستے پر آجاؤ۔ عبدالقیوم حیات، لاہور، پاکستان:اچھی بات ہے کہ یہ وائرس مرغیوں میں آیا ہے۔ اب ہمارے حکمراں ان مسائل کو کم از کم سائنسدانوں سے زیادہ سنجیدہ سمجھیں گے اور انہیں آزاد کر دیں گے۔ فیصل تقی، کراچی، پاکستان: آہ، کاش کہ حکومت کوئی کام بروقت اور ہنگامی بنیادوں پر کر سکتی۔ اگر انسانی جان کی کوئی وقعت حکومت کی نظر میں ہوتی تو وہ اس بیماری اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں عوام کو ٹی وی کے ذریعے آگاہ ضرور کرتی۔ لیکن یہاں ٹی وی جنابِ مشرف کی مدح سرائی سے فارغ ہو تو اسے ’اینیمل فارم‘ (اشارہ جارج آرویل کی طرف ہے) کی بھی فکر ہو۔ مسعود صابر، راوالپنڈی، پاکستان: چلو اچھا ہوا، اسی بہانے مرغی کی قیمت تو کم ہوگی اور قوم کی عیاشی ہو جائے گی ورنہ مرغی کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی تھی۔ مہنگائی میں کمی آئے گی اور خوراک کا معیار بڑھ جائے گا۔ طاہر خان، میانوالی، پاکستان: اب جو بھی مرے گا لوگ کہیں گے کہ مرغیوں والی بیماری سے مرا۔
سید طارق مسعود کاظمی، میانوالی، پاکستان: کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس سے بدتر چیزیں کھا جاتے ہیں۔ غلطی سے حکومت کو اس دفعہ پتہ چل گیا کہ مرغی میں وائرس ہے لیکن کوئی اپنا ضائع نہیں کرے گا۔ سب عوام کو کھلادیا جائے گا۔ یہاں بیمار جانور ضائع نہیں کیے جاتے بلکہ بےچارے عوام کو مہنگے داموں کھلادیا جاتا ہے۔ یہاں کوئی نہیں پوچھتا، سب چلتا ہے۔ راشد احمد، سِڈنی، آسٹریلیا: یہ مشرف کی حکومت کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ نجم ضیاء، لاہور: یہ ہم لوگوں کے لئے سنگین مسئلہ ہے۔ پولٹری فارم کے مالکان اور قصائی اس کے ذمہ دار ہیں۔ دکانوں اور پولٹری فارموں میں صفائی کی ضرورت ہے۔ حکومت سخت قدم اٹھائے۔ عبدالوہاب، ٹورانٹو: پولٹری فارم کے مالکان احتیاطی اقدامات اٹھائیں تاکہ حالات سے نمٹا جاسکے۔ طالب حسین چاپو، کوئٹہ: اس مسئلے سے سختی سے نمٹنا چاہئے تاکہ اس بیماری کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔ شہزاد، پاکستان: میرے خیال میں عوام کو چاہئے کہ وہ مرغی اور انڈے کھانا بند کردیں جب تک مرغیوں میں بیماری ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس بارے میں عوام کو مکمل اطلاعات فراہم کرے تاکہ اس بیماری سے بچا جاسکے۔ جنید بھائی اقبال، جرمنی: یہ بیماری مشرف حکومت کے خلاف ایک سازش ہے۔ معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئے اور ذمہ دار لوگوں کی بھی ڈی بریفِنگ ہونی چاہئے۔ نعیم اکرم، کراچی: یقینا اس وائرس کے پیچھے ’القاعدہ‘ کا ہی ہاتھ ہوگا۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہمارے حکمران مرغی بہت کھاتے ہیں۔ سید ارشد اقبال، ناروے: یہ ایک سنگین مسئلہ لگتا ہے۔ صدر مشرف کو چاہئے کہ جس طرح ایٹمی سائنسدانوں کی پوچھ گچھ کی جارہی ہے، اسی طرح اس کی تفتیش بھی کی جائے۔ اصغر خان، برلن، جرمنی: میرے خیال میں یہ بہت تشویش کی بات ہے کیونکہ اس سے ایک انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے اور انسان بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ٹیکہ لگانے کا کام شروع کرنا چاہئے۔ یاسر نظیر، فیصل آباد: میرے خیال میں اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔
عبید الرحمان مغل، انگلینڈ: اگر اس بیماری سے امریکہ کو کوئی خطرہ ہوا تو حکومت ضرور توجہ دے گی۔ کیونکہ حکومت ہر کام امریکہ کے حکم کے مطابق کرتی ہے، ورنہ عوام کے لئے ان کے پاس کوئی وقت نہیں ہے۔ خلیق اللہ، امریکہ: شکر ہے تصدیق تو ہوگئی کہ مرغیوں میں فلو ہوگیا ہے۔ امین اللہ نورزئی، کوئٹہ: میرے خیال میں فکر تو ہر ایک کو ہوگی۔ یہاں کوئٹہ میں بہت سے لوگوں نے مرغیاں کھانا چھوڑ دیا ہے۔ حکومت کو اس بارے میں بہت کام کرنا چاہئے۔ میرے خیال میں حکومت نے جب سے سیاست دانوں کو چھیڑا ہے، اللہ نے پاکستان کو چھیڑ دیا۔ ساحر، کراچی: ہمیشہ کی طرح حکومت اس کا نوٹس نہیں لے گی۔ اور کچھ ہفتوں میں عوام بھی بھول جائیں گے۔ محمد علی پنہور، خیرپور سندھ: ایسی کوئی بھی بیماری پاکستان میں بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں: ایک، ہمارا سرکاری انتظام برائے صحت اور صفائی بالکل خستہ حال ہے۔ دو، ہمارے بہبود عوام کے ادارے خود بہبود کو ترس رہے ہیں۔ اسامہ قاسمی، ویسٹ انڈیز: لو یہ کیا خبر آئی، چلو پھر سے ایک اور امداد مانگنے کا راستہ کھل گیا۔ عامر ہاشمی، گجرانوالہ: ہمارے ہاں حکومت نے کبھی بھی اپنا ہوم ورک مکمل نہیں کیا۔ اور ہمیشہ ہر ادارہ اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر اپنا پیچھا چھڑا لیتا ہے۔ ہم تو عوام ہیں، ہمارے بس میں تو صرف اتنا ہے کہ ہم مرغی نہ کھائیں۔ شفیق جٹ، لاہور: مرغی کی بیماری اللہ کی طرف سے عذاب ہے۔ شیریار خان، سِنگاپور: برڈ فلو سے نمٹنے کے لئے عالمی ادارۂ صحت ایک منصوبہ تیار کرے۔ ہم صرف مرغیوں کو ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے، صفائی کی کمی کے لئے۔ قیصر اعوان، سیالکوٹ: مرغیوں میں بیماری کے لئے حکومت ذمہ دار ہے۔ پولٹری فارم والوں پر حکومت کو نگرانی کرنی چاہئے تھی۔ ضیاء راجہ، پاکستان: یہ یورپ اور تھائی لینڈ نہیں ہے۔ یہاں مرغیوں کی بیماری سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آصف خان، کراچی: پاکستان میں یہ سب کچھ چلتا ہے۔ اسی پر شکر گزار ہیں کہ مرغیوں کی بیماری کا اعتراف ہوگیا۔ نہ مانتے بھی تو کوئی کیا کرلیتا؟ اور اب بھی کیا ہوگا؟ وہ سب مرغیاں جو ابھی تک نہیں مری ہیں وہ بکیں گی، انسانوں کو کھلائی جائیں گی، کوئی کوریا یا تھائی لینڈ کی طرح تلف نہیں کی جائیں گی۔ ندیم قریشی، شنگھائی، چین: پاکستان کو اس مسئلے پر بہت تیزی سے کام کرنا ہوگا کیوں کہ چکن سے متعلق کافی پراڈکٹس پاکستان سے برامد ہوتی ہیں۔ اب ان سب پر پابندی لگنے کا خدشہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس مشکل وقت میں جو لوگ مرغی کا کاروبار کرتے ہیں ان کی مدد کرے۔
حسیب خان، کراچی، پاکستان: یہ صورتِ حال تو کسی بھی وقت پھٹ پڑنے کو تیار تھی۔ ملک بھر میں قصابوں کی دکانوں اور پولٹری فارمز پر صفائی اور ہائی جین کی صورتِ حال دیکھ کر کوئی بھی شخص یہ اندازہ لگا سکتا ہے۔ پھر کراچی کی صورتِ حال تو اس سے بھی بدتر ہے جہاں کسی بھی شخص کے لئے آسان ترین کام یہی ہے کہ مرغیاں بیچنا شروع کردے۔ ہمیں فوری اقدامات لینا چاہئیں اور نہ صرف اس بیماری کے مکمل خاتمے کےلئے بلکہ یہ یقینی بنانے کے لئے بھی کہ ملک بھر میں گوشت کے کاروبار کرنے والے صحت کے اصولوں کو سختی سے مدِّ نظر رکھیں۔ جاوید، کراچی، پاکستان: فکر تو ہوگی ہی کہ حکومت نے کچھ نہیں کیا اور اسی لئے ہم نے مرغی کھانا چھوڑ دیا ہے۔ محمد قاسمی، ویسٹ انڈیز: صدر مشرف صاحب کو چاہئے کہ اس معاملے کی ذمہ دار مرغیوں سے خود ڈی بریفنگ کریں۔ شاید یہ مرغیاں ہی کچھ بتا سکیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||