میرے شہر میں روٹی کی قیمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں روز مرہ کے اخراجات زندگی کیا ہیں؟ امریکی شہر نیو یارک میں رہنے والے شخص اور پاکستان کے قصبہ ہنگو میں بسنے والے فرد کو روزانہ گھر کا چولہا جلانے کے لئے کتنے گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے؟ کبھی کبھی ایک ہی شہر میں کسی شخص کو ایک دن کی روٹی کمانے کے لئے خون پسینہ ایک کرنا پڑتا ہے، جبکہ اسی شہر میں آپ کے امیر پڑوسی کو اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی۔ کیا آپ نے روزگار کی تلاش میں ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کیا ہے؟ آپ کے آبائی شہر میں روٹی کی قیمت کیا تھی، اور اب کتنی ہے؟ آپ کا پیشہ کیا ہے؟ آپ کو ایک وقت کی روزی کمانے کے لئے کتنے گھنٹے کام کرنے پڑتے ہیں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ ایم اے خان، ٹورانٹو: میں دنیا کے پینتیس ممالک میں رہ چکا ہوں۔ جب میں ریاض میں تھا تو ہر پندرہ روز کے بعد ایک پورے بکرے کا گوشت گھر آتا لیکن گزشتہ چھ برس سے ٹورانٹو میں رہتے ہوئے بکرا خرید کر کھانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ بس قربانی کے موقع پر چند لوگ بکرے کا گوشت بھیج دیتے ہیں اور بیگم نہایت خوشی سے نہاری تیار کرتی ہیں۔ تنویر ناصر، کراچی: مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر ہر کوئی روٹی کا ذکر کیوں کر رہا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے بل بوتے پر روٹی کما رہے ہیں جبکہ روٹی کا تو اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ میرے پاس کوئی ملازمت نہیں لیکن میں کبھی بھوکا نہیں سویا۔ شیخ احمد مقصود، سپین: پاکستان میں گزشتہ پانچ برس سے لوگوں کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا لیکن روٹی کی قیمت اب آسمان کو چھونے لگی ہے۔ طاہر فاروقی، کراچی: ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب آئی ایم ایف ’روٹی کی قیمت‘ کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ روٹی کی قیمت پر قابو رکھے اور غریب ممالک پر حکومت کر سکے۔ اقبال بوقوز، کراچی: خدا کا شکر ہے کہ ہم اس قدر نہیں گرے کہ اپنی روزی روٹی کے لئے امریکہ جیسے ملک کو اپنے لئے مثال بنائیں۔ لاکیش کھتری، کراچی: دس برس قبل جب میں کراچی آیا تو اس وقت آٹے کی قیمت تین روپے فی کلو تھی جو اب چودہ روپے فی کلو ہو چکی ہے۔ ایسی حالات میں ہمارے عوام کی دشواریوں میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ وصی خان، امریکہ: فلوریڈا میں حلال شاپ سے تازہ روٹی سوا ڈالر میں مل جاتی ہے جو زیادہ محسوس نہیں ہوتی کیونکہ یہاں ایک گھنٹہ کام کر کے سات ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ خالد مسعود بٹ، منڈی بہاؤالدین: انیس سو اسی میں روٹی کی قیمت پچاس پیسے تھی اور اب دو روپے ہے۔ انسان اپنے لئے تو دو گھنٹے میں روٹی کما لیتا ہے لیکن پاکستان میں فیملی سسٹم کی وجہ سے بارہ گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ شیریار خان، سِنگاپور: میں نے کراچی سے سِنگاپور کا سفر کیا۔ پندرہ برس پہلے کراچی میں روٹی پچاس پیسے تھی۔ اب اس کی قیمت پانچ سے آٹھ روپئے ہے۔ میں ایک بینک میں افسر تھا لیکن سِنگاپور میں بینکاری کی اصلاحات کی وجہ سے میرے پاس مناسب نوکری نہیں ہے۔ کبھی کبھی میں عارضی نوکریاں کرتا ہوں اور روزمرہ کی ضروریات کے لئے مجھے چودہ سے پندرہ گھنٹے کام کرنے پڑتے ہیں۔ پہلے ہم چھ سے آٹھ گھنٹے کام کرتے تھے اور تمام ملازم خوش تھے، اب ہم لوگ بارہ سے پندرہ گھنٹے کام کرنے کے بعد بھی خوش نہیں ہیں۔ عبدالحلیم، جرمنی: جب بِل کلنٹن امریکہ کے صدر تھے اس وقت پاکستان میں روٹی دورپئے تھی، اب روٹی کی قیمت ڈبل ہوگئی ہے۔ اصغر خان، برلِن، جرمنی: برلِن جیسے مہنگے شہر میں روٹی کافی سستی مل جاتی ہے۔ مگر پاکستان میں جہاں گیہوں کی پیداوار ہوتی ہے، وہاں آدمی روٹی روٹی کو ترستا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر ایکشن لینا چاہئے۔ محمد علی میمن، کھارادر، پاکستان: جی ہاں، میں پہلے پاکستان کے شہر ٹنڈو آدم میں رہتا تھا، پھیر انیس سو چھیاسی میں روزگار کی وجہ سے ہم لوگ سب گھر والے کراچی متنقل ہوگئے جو کہ ہمارے لئے دوبئی سے کم نہیں ہے۔ ٹنڈو آدم میں روٹی کی قیمت دو روپئے تھی اور اب تین روپئے ہے۔ اب میں میڈیکل اسٹور پر کام کرتا ہوں اور مجھے لگ بھگ بارے گھنٹے تک کام کرنا پڑتا ہے۔ رِضوان رانا، اوساکا، جاپان: میں دنیا کے دوسرے سب سے بڑے مہنگے شہر میں رہ رہا ہوں، اوساکا ٹوکیو کے بعد جاپان کا سب سے مہنگا شہر ہے۔ لیکن یہاں کافی مہنگائی کے باوجود جو بات نشاندہی کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ یہاں غریبوں اور امیروں کے درمیان طبقات کی خلیج کم ہے۔ یہ بتانا مشکل ہے کہ آپ کے پاس بس یا ٹرین میں بیٹھا ہوا شخص غریب ہے یا امیر۔ یہاں چھ روٹیوں کی قیمت لگ بھگ دو امریکی ڈالر ہے (ایک ڈالر لگ بھگ ستر پاکستانی روپئے)، لیکن یہاں تنخواہ اچھی ہے۔ ایک گھنٹے کام کرنے کے لئے تقریبا آٹھ ڈالر مل جاتے ہیں۔ میں یہاں یونیورسٹی میں ریسرچ کررہا ہوں اور مجھے وظیفہ ملتا ہے۔ عثمان خان، لندن: میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں رہتا تھا۔ میں وہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں کام کرتا تھا۔ ایک وقت کا کھانا لگ بھگ تیس روپئے میں ملتا تھا اور یہاں لندن میں تین پاؤنڈ (لگ بھگ تین سو پاکستانی روپئے) میں ملتا ہے۔ میں وہاں ایک وقت کے کھانے کے لئے دو گھنٹے کام کرتا تھا، اور یہاں لندن میں صرف آدھے گھنٹے۔ محمد فدا، ٹورانٹو: مجھے یاد ہے کہ انیس سو ساٹھ کے عشرے میں پشاور میں روٹی دو آنے میں ملتی تھی۔ اور اس وقت ہم گانا گاتے تھے: ہماری ایک روٹی ان کے سو پھلکوں پر بھاری ہے۔ وہ بھارتی تھے۔ اور پھر جنگ شروع ہوگئی اور پھر قیمتیں بڑھنی شروع ہوئیں۔ انیس سو اکہتر کی جنگ کے بعد روٹی کی قیمتوں میں پھر تیزی آئی اور تب میں نے سنا کہ ایک روٹی ایک روپیہ میں ملتی ہے۔ جنرل ایوب کے دور میں لوگ صرف دو آنے میں دال روٹی کھاتے تھے، اس وقت ہم لوگ کہتے تھے کہ روٹی کی قیمت دیجئے، دال مفت ہے۔ پھر بھی سیاست دانوں، صحافیوں اور دانشوروں نے عوام کو نہیں چھوڑا۔ انہوں نے جنرل ایوب کے خلاف عوام کو للکارا تاکہ ہماری سڑکوں پر شہد اور دودھ بہے۔ لیکن ہمیں بدلے میں کیا ملا؟ مشرقی پاکستان چلاگیا۔ تعجب ہے کہ حبیب جالب گایا کرتے تھے: ایک روپیہ من آٹا اور اس پر بھی سناٹا۔ اور آج عوام امریکی ورٹی کھانے کی عادت ڈال رہے ہیں۔ سعید احمد چشتی، پاک پتن: میرے شہر میں روٹی دو رپئے کی ملتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی قوم اتنی محنت نہیں کرتی جتنی یورپی لوگ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اقتصادی حالات کمزور ہیں اور ہمارے ملک میں غربت بڑھ گئی ہے۔ پاکستانی قوم مجموعی طور پر بہت زیادہ وقت ضائع کرتی ہے۔ دیہات کے لوگوں کو تو اپنے وقت کی قیمت کا احساس ہی نہیں۔ پاکستانیوں کو چاہئے کہ وہ وقت ضائع کرنے کے بجائے کام کام اور کام کے مقولے پر عمل کریں تو یہ دنیا کی طاقتور ترین قوم بن سکتے ہیں۔ اللہ کرے ہم کو وقت کی اہمیت سمجھ میں آئے۔ سلیم محمد، راولپنڈی: میں نے ایک مڈل کلاس گھرانے میں آنکھ کھولی۔ جیسا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام ہے، میں بھی اسکول گیا اور کالج بھی گیا۔ اور ایک کاغذ کا پرزہ جسے ڈِگری کہتے ہیں وہ لیکر باہر پریکٹیکل زندگی میں آیا، مجھے یاد ہے کہ انیس سو بیاسی، تراسی میں ہم ایک روپیہ میں چار روٹیاں خریدتے تھے، جوکہ آج کل کی روٹی سے وزنی ہوتی تھی۔ اس وقت روٹی کے سستے ہونے کی وجہ امریکی امداد تھی جو وہ پاکستان کو جہاد کے نام پر دے رہے تھے۔ اور ہم سب اس سے بےخبر کہ پاکستان کی ملٹری حکومت کیا کررہی ہے، اور اس کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا، مزے سے ایک روپئے میں چار روٹیاں کھاتے رہے۔ جیسے ہی افغان ’جہاد‘ ختم ہوا امریکہ نے بھی پاکستان سے آنکھیں پھیر لیں اور پابندیاں لگادیں، اس کے ساتھ ہی جہموری حکومتوں کا دور شروع ہوا جس میں پچانوے فیصد وہ سیاستدان آگئے جو کسی نہ کسی شکل میں ملٹری حکومت کا حصہ تھے۔ اب ان لوگوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے جو خود جاگیردار، ریٹائر آرمی افسر، مالک، چودھری اور خان ہوں، وہ غریبوں کے لئے کون سی پالیسی یا پلان بناکر اس پر عمل بھی کریں گے؟ مجھے نوکری تو مل گئی، اور میری موجودی نوکری میں ایک گھنٹے میں اتنے پیسے مل جاتے ہیں جو پاکستان کے لاکھوں کروڑوں لوگ پورے مہینے میں نہیں کماسکتے۔ عباس ہمیہ، ہنزہ: اس گھر میں کیسا ماحول ہوگا جس کا سرپرست مزدوری کے لئے دربدر پھر رہا ہے اور اس کے معصوم بیٹے روٹی کے ایک ٹکڑے کے لئے منتظر ہونگے۔ کاش اس دنیا میں کوئی بےروزگار نہ رہے۔ ہر کسی کو اپنے گھر پر ہی روزگار ملے۔ لیکن آج کل تو روٹی اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ روٹی کے داموں پر ایک انسان کو خریدا جاسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||