| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ عالمگیریت کے حق میں ہیں؟
اس ہفتے ممبئی میں منعقد ہونے والے عالمی سماجی فورم میں دنیا بھر سے تقریباً ایک لاکھ کارکنوں نے شرکت کی ہے جو گلوبلائزیشن یا عالمگیریت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ عالمی سماجی فورم تجارت کی عالمی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مدِ مقابل قائم کی گئی تھی اور اس کا بنیادی مقصد اس عالمی سرمایہ داری اور عالمگیریت کو روکنا ہے جس کی حمایت امریکی حکومت اور بین الاقوامی سرمایہ دار کرتے ہیں۔ عالمگیریت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ عالمگیریت کا مقصد صرف تمام انسانی وسائل پر کثیرالقومی کمپنیوں کا قبضہ ہے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا عالمگیریت سے انسانیت کو فائدہ ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ زاہد ممتاز، پاکستان: عالمگیریت برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی امریکی شکل ہے۔ اس کا واحد مقصد غریب ممالک کو معاشی طور پر غلام بنانا ہے۔ نجم، ہانگ کانگ: عالمگیریت سے سب کو فائدہ ہو گا۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: اگر کوئی اپنی بالا دستی قائم کر کے تیسری دنیا کے وسائل کے بڑے حصے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو یہ سب اخلاقیات اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔ راؤ وسیم، پاک پتن: دنیا میں ایک ہی بادشاہ کا تصور ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنی حکومت میں ہر طرف امن برقرار رکھ سکے۔ ناصر ملک، اسلام آباد: عالمگیریت کے لئے اگر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے درجے بنا دیئے جائیں تو شاید غریب ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے میں ترقی یافتہ ممالک کو کامیابی حاصل نہ ہو۔ سعید احمد، پاکستان: کثیرالقومی کمپنیوں کو اپنی طاقت کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہئے۔ میں ورلڈ سوشل فورم کے منتظمین کی کوششوں کو سراہتا ہوں اور فورم کے مقاصد سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں۔ عابد عزیز، ملتان: میں عالمی ادارہ برائے تجارت کی تجاویز سے اتفاق نہیں کرتا۔ میرے خیال میں ترقی یافتہ ممالک غریب ممالک اور غریب لوگوں کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ احراف علی، سویڈن: یہ کچھ اس طرح کی اقدار ہیں جو دیگر تمام روایات اور اقدار کی نفی کرتی ہیں اس لئے ان سے سختی سے نمٹنا ہو گا۔ لوگوں کو اخلاقیات اور انسانیت کا درس حاصل کرنا ہو گا نہ کہ وہ صرف پیسہ کمانے کو ہی ترجیح دیتے رہیں۔ نسیم، جھنگ: عالمگیریت نفرت سے مضبوط ہوتی ہے اس لئے اگر نفرت کا وجود انسان کے لئے اچھا نہیں تو عالمگیریت کیونکر اچھی ہو سکتی ہے۔ ہم باہمی محبت اور نگانگت سے ہی اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اسامہ قاسمی، ویسٹ انڈیز: کسی بھی انسان یا کمپنی کو اس بات کا حق نہیں کہ وہ اپنی اجارہ داری کرے۔ عبدالغفور، ٹورانٹو: عام طور پر عالمگیریت کی وجہ سے پوری دنیا میں ٹیکنالوجی اور مالی طور پر فائدہ پہنچا ہے۔ اس کی وجہ سے نوکری کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، اشیاء کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، اور صنعت کاروں کے لئے پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ اللہ دِتا، اسٹاک ہوم: امریکہ کی طرح بڑے ممالک غریب ملکوں کے وسائل کھاجانا چاہتے ہیں۔ جب میں غور کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ امیر ممالک جیسے سویڈین، تیل، گیس یا انرجی کے دیگر وسائل کی بغیر جی نہیں سکتے۔ وہ سردی کی وجہ سے مرجائیں گے۔ اور ان کے لئے تیل دوسرے ملکوں سے آتا ہے۔ اور زندگی کا فائدہ یہ لوگ اٹھاتے ہیں۔ جواد صاحبزادہ، پاکستان: میرے خیال میں عالمگیریت پاکستان جیسے ترقی پزیر ملکوں کے لئے اچھا نہیں ہے۔ ساحر، کراچی: عالمگیریت ہی مستقبل کی راہ ہے، آپ اس سے بچ نہیں سکتے۔ محمد فدا، ٹورانٹو: عالمگیریت سے نجات ممکن نہیں ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر لگی ہے اور بعض لوگ اس تبیدلی کو سمجھ نہیں سکتے۔ ہمیں، بالخصوص تیسری دنیا میں، اس کا استعمال کرنا چاہئے کیونکہ اس سے چھٹکارا نہیں ہے۔ ذاکر جمالی، سندھ: مجھے لگتا ہے کہ عالمگیریت سے غریب لوگوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ عبیداللہ محمد، امریکہ: عالمگیریت کسی بھی قوم کی اپنی خودمختاریت کو مٹادیتی ہے۔ حافظ احمد قاسمی، پاکستان: عالمگیریت کا صرف کافر فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کا مقصد اس سے صرف یہ ہے کہ غریب ملکوں کے وسائل پر قبضہ کیا جائے۔ صالح محمد، راولپنڈی: ملٹی نیشنل کپمنیوں نے تو ویسے ہی دنیا کے ہر ملک میں اپنا اڈہ کھول دیا ہے، کسی کو پسند ہو یا نہ ہو۔ رہ گئی بات تجارت کی تو دنیا ڈیجیٹل دور میں ہے۔ آپ کسی بھی چیز کو روک نہیں سکتے، ہاں البتہ اپنے وسائل اور افرادی قوت کو صحیح طریقے سے استعمال کر کے دنیا کی کسی بھی طاقت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ سمیر شیوداسانی، ممبئی: میرے خیال سے عالمگیریت سے انسان کو فائدہ کبھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ ابو انتظام سید، ملتان: عالمگیریت ایک نہایت منافق خیالی کی علامت ہے۔ دنیا میں مذہبی، لسانی، ملکی، بہت سے طبقات ہیں۔ ان کی اپنی اپنی روایت اور رسوم و رواج ہیں۔ میں اس مہم میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں جو عالمی تجارتی تنظیم کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ یہ تنظیم صرف غریب لوگوں کو کچلنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ سید حیدر امام، پاکستان: امیر لوگ مزید امیر ہوجائیں گے اور غریب لوگ غریب تر ہوجائیں گے۔ احمد صدیقی، کراچی: عالمگیریت نوآبادیت کا دوسرا نام ہے۔ میرے خیال میں حکومت کو مقامی صنعتوں کی کثیر القومی کمپنیوں سے حفاظت کرنی چاہئے۔ منیر احمد، راجنپور، پاکستان: عالمگیریت ترقی پزیر اور غریب ملکوں کے لئے ایک نیا مسئلہ ہے۔ سرمایادارانہ نظام نے کبھی بھی غریبوں کی مدد نہیں کی ہے۔ عالمگیریت ترقی پزیر ملکوں پر تھوپا جارہا ہے۔ میرے خیال میں عالمگیریت کے خلاف مزاحمت کو کچل دیا جائے گا۔ اسامہ بن وحید، مالیر، پاکستان: اس نئے تصور کے ذریعے امریکہ دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ فیصل علی خان، حیدرآباد: عالمگیریت کا مقصد صرف اور صرف تیسری دنیا کے ممالک کے وسائل پر قابض ہونا ہے اور کچھ نہیں۔ اس کے خلاف بھرپور احتجاج ہونا چاہئے۔ خالد اسماعیل، کراچی: خدا کا شکر ہے کہ کچھ لوگ ان کثیرالقومی کمپنیوں کے خلاف آواز تو اٹھارہے ہیں۔ سلیم کھتانا، اسلام آباد: عالمگیریت کا معنی کثیرالقومی کمپنیوں کا بول بالا ہے اور اس سے کسی بھی طرح عام آدمی کا فائدہ نہیں ہونیوالا ہے۔ بڑی کمپنیاں ترقی یافتہ ملکوں کے حصص بازاروں پر اور ترقی پزیر ملکوں کے بازاروں پر بھی اثرانداز ہیں۔ علی عباس، آسٹریلیا: عالمیگیریت انسانیت کے خلاف ہے۔ ہر شخص کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ سعید خٹک، نوشہرہ، پاکستان: عالمگیریت سے امریکہ کی بالادستی بڑھ جائے گی۔ غریب ملکوں کے لئے یہ تباہی ہوگی۔ وہ مزید غریب ہوجائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||