BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 29 December, 2003, 17:26 GMT 22:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیا سال، نئی امیدیں
سالِ نو پر آپ کیا کررہے ہیں؟
سالِ نو پر آپ کیا کررہے ہیں؟

دوہزار تین اختتام کو پہنچا۔ سن دوہزارتین کو سارس، جنگِ عراق اور ایران میں زلزلے جیسی تباہیوں کے لئے یاد رکھا جائےگا۔ دوسری طرف ہندوستان اور پاکستان کے مابین دہلی میں پارلیمان پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی آئی۔

نیا سال ایک بار پھر نئی امیدیں لیے ہماری زندگیوں میں قدم رکھ رہا ہے۔ آپ نے سن دوہزار تین کے لئے جو عہد کیے تھے کیا وہ پورے ہوئے؟ آپ کی زندگی میں سن دوہزارتین کیسا رہا؟

نئے سال کے لئے آپ نے کیا عہد کیا ہے؟ آپ سالِ نو کیسے منائیں گے؟ سن دوہزار چار سے آپ کی کیا امیدیں ہیں؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


آصف منہاس، ٹورنٹو، کینیڈا: ایک نئے پرامن سال کی امید

پرویز بلوچ، بحرین: دوہزار تین کے ایرانی زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کو دفناتے دفناتے ہم دو ہزار چار میں داخل ہو گئے ہیں۔ خدا ہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔

فیصل محمد، سرحد، پاکستان: یہ دنیا بہت پیاری ہے اور اسے پیار سے سجانا چاہئے۔ آپس میں امن، محبت اور بھائی چارے سے رہنا چاہئے۔ میرا پیغام نئے سال کے موقعے پر ہے کہ انسانی زندگی کی قدر کریں۔ کیا پتہ کل ہو نہ ہو۔

ظفر عمر، ٹورنٹو، کینیڈا: خدا اسے امریکہ اور کینیڈا کے لئے پرامن سال ثابت کرے

اویس احمد، پاکستان: امید ہے کہ نئے سال میں صدر بش اپنی مسلمان دشمن پالیسیاں ترک کرکے مسلمانوں سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں گے۔

عماد بٹ، پاکستان: نیا سال مبارک

علاؤالدین کاکڑ، پشین، پاکستان: خدا بش کو عقل دے

عاصم بٹ، پاکستان: میں پر امید ہوں کہ اس سال ملاؤں کا خاتمہ ہوگا، خدا ان کی شرارتوں سے پناہ دے

طلحہ عثمان، راولپنڈی، پاکستان: تمام انسان برابر ہیں، ان میں سے اختلافات ختم ہونے چاہئیں۔

ماہ جبین، ہنزئی، پاکستان: دعا ہے کہ یہ سال تمام عالمِ اسلام کے لئے امن و سلامتی کا سال ہو۔

اعظم میاں، کویت: اللہ نئے سال میں سب کو خوشیاں دے۔

ڈاکٹر نصیر احمد طاہر، بدوملہی، پاکستان: محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں۔ یہ عہد کامیابی لاسکتا ہے، دعاء سے آغاز ہی اچھا ہے۔

رابعہ نظیر، ناورے: کاش! اللہ سب کچھ ٹھیک کردے۔ آمین۔

محمد عدنان عاصم، کراچی: سال رفتہ پوری دنیا کے لئے مشکل ثابت ہوا۔ موت، قتل عام اور بم دھماکوں کی خبریں تھیں۔ ہم سب سے پہلے انسان ہیں، ہم سبھی جذبات رکھتے ہیں، دلوں میں احساسات ہیں۔ تو ہم دوہزار چار میں کیوں نہیں انسانوں سے محبت کرنے کی سوچیں؟

عبدالطیف سومرو، کراچی: پاکستان میں اور پاکستان سے باہر تمام پاکستانیوں کو نیا سال مبارک ہو۔

عطاء الرحمان قریشی، راولپنڈی: ہم امن چاہتے ہیں۔ میں پیار کے ساتھ نیا سال گزارنا چاہتا ہوں۔

کاشف علی، سمندری، پاکستان: یہ سال بھی غم اور خوشی دونوں دے کار جارہا ہے۔ اپنی فیملی اور پاکستان کے لئے دعاء گو ہوں۔

احمد اشرف، سیالکوٹ: میں نے انسانیت کی خدمت کرنے کا عزم کیا ہے۔ میں اللہ سے دعاء کروں گا کہ مسٹر بش اور ان کے ماننے والوں کو انسانیت کی خدمات کرنے کی توفیق عطا کرے، نہ کہ معصوم لوگوں کا قتل کرنے کی۔

شیش احمد مالمالی، دہلی: دنیا میں امن اور خوشحالی ہو اور آپس میں پیار ہو، یہی خدا سے دعاء کرتے ہیں۔

محمد فدا، ٹورانٹو: ہر نئے سال پر میں انیس سو ننانوے کو یاد کرتا ہوں جب ہم پشاور میں پریس کلب پر حملہ ہوا، اسلام کے ماننے والوں کی جانب سے۔

شمش اشرف، بلجیئم: جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں اس میں دوہزار تین میں کافی مشکلات کا سامنا رہا۔ نئے سال میں میں پرامید ہوں کہ دنیا میں ہرطرف امن و امان ہوگا۔

طفیل سومرو، شکارپور، پاکستان: ہم سب بیوقوف ہیں جو عہد کررہے ہیں اور دل کو تسلی دے رہے ہیں کہ ایسا منائیں گے، ویسا منائیں گے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو ہونا ہے وہ ہوگا۔

اقبال ملک، اسلام آباد: سال رفتہ میں تو پیٹرول کی قیمتیں پہلے سے ہی آسمان چھورہی تھیں، زندگی کی بنیادی ضرورت گندم بھی پچاس فیصد مہنگی ہوگئی ہے اور حکومت اس کے بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

نمکین خان، مردان: میں نے مونا سے جو وعدے کیے ہیں انہیں پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔

ہارون لالی، لاہور: اپنا کھویا ہوا پیار پانا ہے میں نے۔

نعمان رشید، ڈنمارک: میں اس سال پوری دنیا میں امن دیکھنا چاہوں گا، ایک ایسی دنیا جس میں امیر ممالک غریب ملکوں کے لئے فیصلے نہ کریں، جہاں خودکش بمبار انسانوں کو ہلاک نہ کریں، جہاں ہر کوئی امن کے لئے متحد ہو۔

مبشر احمد خان، لاہور: نیا سال ساری دنیا کے لئے امن اور خوشحالی لیکر آئے۔ کوئی فاقہ کشی کی نیند نہ سوئے۔۔۔

خلیل اخون، پاکستان: میں باقاعدگی سے ’آپ کی رائے‘ پڑھتا ہوں اور اپنی رائے بھی بھیجتا ہوں، مگر اسے افسوس ہے کہ شامل نہیں کیا جاتا۔ اس طرح حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

عبدالطیف، کوئٹہ: میری رائے یہ ہے کہ ہم اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ اور دنیا میں امن لانے کی کوشش کریں تاکہ دنیا سے دہشت گردی ختم ہوجائے۔

حیدر رِند، مکلی ٹھٹہ، پاکستان: جو بویا ہے وہی کاٹیں گے۔

کاشف محمد موسیٰ، متحدہ عرب امارات: نئے سال پر نئے جذبے اور نئے لگن کی ضرورت ہے تاکہ یہ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ اچھا ہو۔

شیخ امتیاز، سرینگر: دوہزار چار میں اللہ خوشی اور ترقی لائے۔ اور کشمیری لوگوں کی مدد کرے تاکہ ان کا استصواب رائے کا مطالبہ پورا ہو۔

شیدا حسینی، کوہاٹ: بی بی سی میں تعصب زیادہ ہے۔

علی رضا، پاکستان: مجھے بی بی سی بہت پسند ہے اور میں بی بی سی کو نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں۔

نسرین، وینکوئیر، کینیڈا: دوہزار چار میں میری پاکستان اور ہندوستان کے عوام سے گزاریش ہے کہ لڑنے کے بجائے دوستی کا ہاتھ بڑھاکر اپنی مظلوم عوام کو سکھ کا سانس لینے دیں۔

برہان الدین خان، پاکستان: انشاء اللہ نیا سال سبھی لوگوں کے لئے اور مسلمانوں کے لئے پرامن سال ہوگا۔

عمر فاروق، پاکستان: میری دعاء ہے کہ نیا سال تمام لوگوں کے لئے خوشیاں لے کر آئے اور خدا بش، بلیئر اور شیرون کے دلوں میں محبت پیدا کرے۔ آمین!

ثاقب علی، پاکستان: سن دوہزار تین ہم مسلمانوں کے لئے زیادہ اچھا نہیں تھا، اس سال کے اندر مسلماوں کا خون بہت بہا ہے لیکن ہم نئے سال میں پوری کوشش کریں گے کہ آپس میں خوشیاں بانٹیں۔

اکریمے جونی، جیک آباد: ہم انسان ہر سال لالچ، حرص، لڑاکو وغیرہ، ہر طرح سے اپنی عادات اور اطوار میں گرتے جارہے ہیں۔

عثمان ملک، راولپنڈی: ہم نئے سال کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

سہیل شیخ، کوئٹہ: مجموعی طور پر سن دوہزار تین تبدیلیوں کا سال رہا۔ اور یہ تبدیلیاں مسلمانوں کے لئے کچھ اچھی نہیں رہیں۔ تاہم خدا وند کریں سے یہ دعاء ہے کہ دوہزار چار سب لوگوں کے لئے امن و آشتی کا گہوارہ بنے اور یہ جو نام نہاد تہذیب کی جنگ شروع ہوئی ہے یہ باہمی اعتماد میں بدل جائے۔

شفاقت، مظفرآباد: کشمیری اس سال آزادی کی امید کررہے ہیں، اور امن کی بھی۔

علی اعجاز، بہاول نگر: میں امید کرتا ہوں کہ اس سال میرا پاکستان ترقی کرے۔

عمیر احمد، ضلع خوشاب، پاکستان: مسلمان پوری دنیا میں مظالم کا شکار ہیں۔ ان کے مسائل صدی گزر گئے حل نہیں ہوئے۔

نجف علی، کویت: سال رفتہ اچھا رہا اور امید ہے کہ نیا سال بھی تمام لوگوں کے لئے اچھا رہے گا۔

نشاط کھوسو، نواب شاہ، پاکستان: نئے سال میں اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

احمر، لاہور: ہر وہ شخص جو جمہوریت سے محبت کرتا ہے اسے میں نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں۔ ان لوگوں کو بھی میری مبارکباد جو آمریت کے خلاف لڑرہے ہیں۔

یاسر ممتاز، رینالا خرد، پاکستان: جیسے سن دوہزار تین میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا ویسے ہی اس سال بھی ہوگا۔

شیراز احمد، دیر، پاکستان: نیا سال تو آگیا لیکن ہم نے سن دوہزار تین میں کیا کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ لیکن اب ہم اس بات کا عہد کریں کہ اپنے لئے، اپنے ملک کے لئے اور باقی دنیا کے لئے جو بہتر ہو وہ کریں گے۔

محمد نعیم، پشاور: ہم نئے سال میں جنگ نہیں چاہتے۔

علی رضا علوی، اسلام آباد: سن دوہزار تین غم اور خوشیوں کا امتزاج دے کر گزر گیا۔ میرے امن و آتشی اور محبتوں کے خواب امریکی بمباری میں لہولہان ہوگئے اور امریکی ڈیزی کٹر اور کلسٹر بموں کی نذر ہوگئے۔ آج ان خوابوں کی کرچیوں سے میرے ہاتھ لہولہان ہیں۔ نیا سال نئی امیدیں لیکر آگیا، خدا کرے کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے۔ فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیل اور امریکی دہشت گردی سے نجات ملے اور ٹونی بلیئر امریکی غلامی کے بجائے خودداری سے سوچ سکیں، اور جنرل مشرف بھی۔

سید طارق مسعود کاظمی، میانوالی، پاکستان: کاش مجھے اس سال حج کی سعادت نصیب ہوجائے۔

انجینیئر ہمایوں ارشد، کراچی: ہم عہد کرتے ہیں کہ دنیا میں اور پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

سعید احمد چشتی، پاک پٹن: سال رفتہ میرے لئے بہت کامیاب رہا اور میں اپنے ذاتی مقاصد میں کامیاب رہا، لیکن باقی مسلم امہ اور پاکستان کے لئے یہ سال مایوس کن رہا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ نیا سال بھی سال رفتہ کے جیسا ہی ہوگا۔ میں نئے سال پر امن اور خوشی کے لئے دعاء کرتا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ مسلمان ماضی سے سبق سیکھیں گے اور مسلمانوں کی عزت کے لئے کام کریں گے۔

شازیہ حماد، دیر، پاکستان: اس سال ایکٹ لوکل، تھِنک گلوبل۔ نیا سال دنیا میں امن و امان اور خوشیاں لائے گا۔

یاسر نقوی، انگلینڈ: میری دعاء ہے کہ یہ سال تمام بنی نو انسان کے لئے خوشیوں کا پیغام لیکر آئے۔

عقیل احمد تالپور، حیدرآباد، پاکستان: جو امیدیں دوہزار تین کے لئے کی تھیں وہ تو پوری نہیں ہوسکیں لیکن اب دوہزارچار کے لئے امید ہے کہ یہ امن لائے گا اور جنگ ختم ہوگی۔ آمین! میں عہد کرتا ہوں کہ جو میرے بس میں ہوگا میں اپنے ملک کے لئے کروں گا۔

رحاب حسین، ممبئی: خدا کرے نیا سال عالمی امن کا پیغام لیکر آئے اور اب مزید جنگ کی گنجائش کہیں نہ ہو۔

حافظ عبدالسعید، لندن: تمام لوگوں کو نیا سال مبارک ہو۔ ہمیں سال رفتہ کے حالات کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے اور نئے سال میں کامیابی کی کوشش کرنی ہے۔ مجھے امید ہے کہ نیا سال تمام انسانوں کے لئے کامیاب ثابت ہو اور مسلمانوں کے لئے خصوصی طور پر۔ اللہ ہمیں ایسا کرنے کی توفیق عطا کرے۔

سردار، کراچی: ہم سب کشمیری چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک تقسیم نہ ہو۔

شاکر محمد، حیدرآباد، انڈیا: اللہ ہر جگہ امن و امان رکھے۔ آمین! ہم اس سال اپنے عظیم مذہب پر عمل پیرا ہوں۔

طارق زمان، بنوں، پاکستان: سال رفتہ میرے لئے تعلیم کا آخری سال تھا۔ میں نے گزشتہ سولہ برسوں میں جو تعلیم حاصل کی ہے ان پر اس سال عمل کروں گا۔

منیر ملک، لاہور: سن دوہزار چار تمام انسانوں کے لئے امن کا سال ہو۔

کوثر نعیم، دوبئی: کاش نئے سال میں کوئی جادو کی چھڑی گھمے اور سب ملکوں میں جنگ ختم ہو جائے، صرف اور صرف امن کا بول بالا ہو۔

محمد عامر خان، کراچی: نیا سال نئی امیدیں، اس پرتشدد دور میں کیا خواہش ہوگی سوائے اس کے کہ دنیا میں ہر طرف امن اور سلامتی ہو۔

عقیل احمد، حیدرآباد، انڈیا: خوش آمدید دوہزارچار! مجھے امید ہے کہ پوریا دنیا کے لئے یہ خوشی کا سال ہوگا۔

نصار اللہ شاہ، پاکستان: ہم نئے سال میں غریبوں کی مدد کی امید کریں گے۔

مفیض الرحمان، نئی دہلی: میں خدا سے دعاء گو ہوں کہ یہ سال پوری دنیا کے لئے سلامتی کا پیغام لیکر آئے، اور ترقی میں اضافہ ہو۔ نئے سال میں بش، بلیئر اور اسامہ جیسے لوگ پیدا نہ ہوں۔

سید طارق گیلانی، کشمیر، پاکستان: دوہزار تین بھی گزشتہ سالوں کی طرح غلامی کا سال تھا جو کہ گزر گیا لیکن انڈوپاک کی سوچ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ پھر بھی ہم امید رکھتے ہیں کہ نئے سال میں دونوں ممالک دانش مندی کا ثبوت دیں گے اور کشمیر سے اپنی فوجیں نکال کر کشمیر کو آزاد کردیں گے۔

علی کِنگ، راولپنڈی: میری کوئی شادی کروادے، میری عمر اسُی سال ہے۔

عبدالوحید، ہری پور، پاکستان: ماضی میں میں نے اپنا وقت ضائع کیا لیکن میں نے اب فیصلہ کیا ہے کہ نئے سال میں خود کو بدلوں گا۔

علی ساجد رِضوی، لاس انجلیس، امریکہ: اپنا کردار بہت بہتر بنانا ہے کیونکہ ہم یہاں پر اسلام کے نمائندے ہیں اور اپنے کردار سے ہی لوگوں کو اسلام کی صحیح تصویر دکھا سکتے ہیں۔

محمد ادریس، گلِگٹ، پاکستان: ہم نیا سال کیسے منائیں، چاروں طرف عراقیوں، افغانیوں اور ایرانیوں کی لاشیں نظر آرہی ہیں۔

منیر احمد سکھانی، راجن پور، پاکستان: مجھے لگتا ہے کہ یہ سال میری زندگی میں مثبت تبدیلیاں لائے گا۔ میں اس سال شادی کرنیوالا ہوں۔

سکندر سید، کراچی: مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے کیا عہد کیا تھا۔ سال رفتہ میرے لئے بڑا بھاری گزرا جس میں کامیابی اور عزت کے لئے مجھے کافی کوشش کرنی پڑی۔

زاہد خان، الخبر، سعودی عرب: تمام مسلمانوں سے میری درخواست ہے کہ وہ اس موقع پر دو رکات نماز پڑھ کر سالِ نو کا آغاز کریں اور دعاء کریں کہ یہ سال پاکستان اور تمام مسلمانوں کے لئے خوشیاں لےکر آئے۔

پیربخش بلوچی، ڈیرہ غازی خان: ہم نئے سال میں پوری دنیا کے لئے امن چاہیں گے۔

محمد یومان، میرپورخاص، پاکستان: یہ سال مسلم دنیا پر بہت بھاری گزرا۔ اور ذاتی طور پر مجھ پر بھی بھاری رہا۔ اس سال میری محبت مجھ سے جدا ہوگئی لیکن اب نئے سال میں میں نئی امیدیں لگا رہا ہوں۔

ضیاءالرحمان صدیقی، پشاور: میرے خیال میں نیا سال سن دوہزار تین سے بھی خطرناک ثابت ہوگا، اور صرف امریکہ کی وجہ سے۔ سال رفتہ میں امریکہ کو کافی حوصلہ ملا۔

طلحہ مجید، لاہور: نیا سال سامنے ہے اور میں جانتا ہوں کہ سب کے پاس کوئی نہ کوئی پلان ہے۔ میں انسانیت کے لئے ایک پیغام دینا چاہوں گا کہ ہم ماضی کی غلطیوں کو بھلادیں۔ نئے سال میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ نرم رویے سے پیش آئیں۔

محمد علی پنوار، خیرپور: یقینی طور پر سن دوہزار تین جنگ اور تباہی کا سال تھا لیکن نئے سال میں میں سِگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوشش کروں گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد