| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ پر کنٹرول کس کا؟
حال ہی میں ہم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے صفحے پر ایک ووٹِنگ کرائی تھی جس میں ہم نے آپ سے پوچھا تھا کہ انٹرنیٹ پر کس کا کنٹرول ہونا چاہئے: حکومتوں کا یا نجی کمپنیوں کا؟ بیشتر قارئین نے کہا کہ انٹرنیٹ پر نجی اداروں کا ہی کنٹرول ہونا چاہئے۔ گیارہ سے چودہ دسمبر کے دوران جاری اس ووٹِنگ میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ایک ہزار چھ سو آٹھ قارئین نے حصہ لیا تھا۔ صرف چار سو پچاسی ووٹروں کا خیال تھا کہ انٹرنیٹ پر حکومتوں کا کنٹرول ہونا چاہئے، جبکہ ایک ہزار چھیاسٹھ ووٹروں کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر کنٹرول نجی کمپنیوں کا ہی ہونا چاہئے۔ باقی ووٹروں کا جواب تھا: ہمیں معلوم نہیں۔ آپ کی نظر میں انٹرنیٹ پر نجی کمپنیوں کا ہی کنٹرول کیوں ہونا چاہئے؟ انٹرنیٹ پر حکومتوں کا کنٹرول کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ اگر آپ انٹرنیٹ پر حکومتوں کے کنٹرول کے حق میں ہیں تو کیوں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں خالد اقبال، سوات، پاکستان: چونکہ دنیا بھر میں نج کاری ہو رہی ہے اس لئے انٹرنیٹ کے لئے نجی سیکٹر حکومت سے کہیں بہتر ہے۔ سردارخان، دوبئی: اگر انٹرنیٹ کا کنٹرول ریاست یا حکومت کے ہاتھ میں ہوا تو اس طرح کے تمام آماد ذرائع سے ملنے والی معلومات اور خبروں کی سائٹس پر پابندی کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ ندیم قریشی، چین: انٹرنیٹ پر نجی سیکٹر کا کنٹرول اس لئے ہونا چاہئے کیونکہ دنیا کے ہر علاقے میں حکومتیں ہر سیکٹر کو خود ہی نجی سیکٹر میں منتقل کررہی ہیں۔ ایسے دور میں انٹرنیٹ کو حکومتوں کے کنٹرول میں دینے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ذوالفقار رفیق، کینیڈا: حکومتیں انٹرنیٹ کو اپنے پروپیگنڈا کے لئے استعمال کرنا شروع کردیں گی۔ حذیفہ چودھری، ملتان: میں سمجھتا ہوں کہ انٹرنیٹ پر نجی سیکٹر کا کنٹرول ہونا چاہئے۔ کم سے کم پاکستان میں تو حکومت عوام کے مسائل سلجھانے میں ناکام رہی ہے۔ اگر انٹرنیٹ پر بھی حکومت کا کنٹرول ہوگیا تو امید کی کرن ختم ہوجائے گی۔ رضوان غفار، سعودی عرب: انٹرنیٹ پر کنٹرول حکومت کا ہی ہونا چاہئے۔ کیونکہ کمپنیاں اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی، ویسے ہی اتنے غیرضروری ای۔میل آتے رہتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر نجی کمپنیوں کا کنٹرول ہوجائے تو ہمارا ای۔میل ان کے اشتہای ای۔میل سے بھر جائے گا۔ عطاء الحئی، لاہور: اب جب نجی کمپنیوں نے انٹرنیٹ کو کامیاب بنادیا ہے تو حکومتیں کنٹرول کرنا چاہتی ہیں۔ اگر حکومتیں انٹرنیٹ کے ذریعے دستیاب ہماری آزادی کا خاتمہ کردیں تو بہت بڑا نقصان ہوگا۔ انواراللہ خان، فاٹا، پاکستان: انٹرنیٹ پر نجی کمپنیوں کا ہی کنٹرول ہونا چاہئے۔ محمد فدا، ٹورانٹو: ہاں! انٹرنیٹ پر توجہ کی ضرورت ہے۔ بالخصوص آج کل مجھے انٹرنیٹ پر اشتہاروں سے کافی پریشانی ہورہی ہے۔ ای۔میل کرتے وقت یا کچھ لکھتے وقت یہ اشتہار اچانک اسکرین پر آجاتے ہیں، بعض نے تو خود کو میرے کمپیوٹر کے اسکرین پر چسپاں کردیا ہے۔ حکومتیں ہی قانون کے ذریعے اس طرح کے اشتہار جاری کرنے والے نجی اداروں کو کنٹرول کرسکتی ہیں۔ عاصمہ رشید، بہاول نگر، پاکستان: یہ حکومت کا نہیں ہونا چاہئے، یہ صحیح سے حکومت ہی چلالیں تو کافی ہے۔
سعید احمد چشتی، پاک پٹن، پاکستان: انٹرنیٹ پر نجی کمپنیوں کا ہی اختیار ہو لیکن نجی کمپنیوں پر کوئی نگران ادارہ بھی نظر رکھے تاکہ غلط کام کرنے والوں کو پکڑا جاسکے۔ انٹرنیٹ کی ترقی اور نشونما حکومتی اداروں کے بس کا روگ نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ لگے بندھے کام کرتے ہیں، جبکہ نجی ادارے حدود کراس کرجاتے ہیں۔ غزنفر عباس، اسلام آباد: انٹرنیٹ پر حکومتوں کا سو فیصد کنٹرول ہونا چاہئے کیونکہ اس سے سیکیورٹی، معاشرتی اور تحفظ کے مسائل جڑے ہوئے ہیں۔ محمد اکرم رامے، کینیڈا: چند سال قبل کسی کو بھی انٹرنیٹ کے بارے میں نہیں معلوم تھا۔ اب اس کی وجہ سے پوری دنیا ہی تبدیل ہورہی ہے، اس نے دنیا کو ایک بین الاقوامی گاؤں میں تبدیل کردیا ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی علاقے میں ہوں، آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے علاقے میں کیا ہورہا ہے۔ میرے خیال میں انٹرنیٹ پر حکومت کا کنٹرول نہیں ہونا چاہئے، اس پر نجی اداروں کا کنٹرول ہونا چاہئے۔ نجی اداروں کو ایمانداری کے ساتھ انٹرنیٹ کے نظام کو چلانا ہوگا۔ علی خان، ناظم آباد، کراچی: پاکستان میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی ضرورت ہے اور ’نادرا‘ اطمینان بخش کام نہیں کررہا ہے۔ صالح محمد، راولپنڈی: انٹرنیٹ پر کسی نہ کسی کا کنٹرول تو ہونا ضروری ہے۔ اور میرے خیال میں حکومتیں ہی اسے بہترین طریقہ سے چلاسکتی ہیں۔ انٹرنیٹ اب زندگی کا حصہ بنتا جارہا ہے اس لئے اس کا کنٹرول بھی ضروری ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے کوئی شخص کسی ملک کے وسائل کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لئے انٹرنیٹ پر حکومتوں کا کنٹرول ہونا چاہئے۔ رضوان شہزاد، فیصل آباد: انٹرنیٹ پر انٹرنیٹ کا استعمال کرنیوالوں کا ہی کنٹرول ہونا چاہئے۔
محمد علی پنہور، میرپور، پاکستان: انٹرنیٹ اس سکڑتی ہوئی دنیا کے کونے کونے تک پہنچ چکا ہے اس لئے اقوامِ متحدہ کو کوئی ایسا ادارہ قائم کرنا چاہئے جس کی نگرانی میں اسے دنیا بھر میں چلایا جاسکے اور جس پر تمام متفق ہوں۔ شاہنواز نصیر، کوپن ہیگن، ڈنمارک: نجی اداروں کو کنٹرول ہونا ٹھیک بات ہے لیکن اس پر کسی حد تک نگرانی بھی ضروری ہے کیوں کہ نجی اداروں کا اولیں مقصد منافع کمانا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اسے مہنگا بنا کر عام آدمی کی پہنچ سے باہر بھی کر سکتے ہیں اس لئے سرکاری اداروں کا شریک ہونا بھی ضروری ہے تاکہ وہ اس کی قیمتیں زیادہ نہ ہونے پائیں لیکن اسے مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں بھی نہیں ہونا چاہئے جیسے کہ پی ٹی سی ایل کی مثال ہے۔ خلیل اخون، بہاول نگر، پاکستان: انٹرنیٹ پر آزاد نجی اداروں کا کنٹرول ہونا چاہئے۔ حکومت کے کنٹرول سے آزادی سلب ہوتی ہے۔ نہ بھی ہو تو بھی صارفین کے ذہن میں خوف رہے گا کہ حکومت کے خلاف کچھ نہ ہو جائے۔ صلاح الدین، جرمنی: حکومت کے کنٹرول میں کوئی کام بھی ہوتا ہے؟ اگر انٹرنیٹ پر حکومت کا کنٹرول ہوجائے تو لِبرٹی یعنی آزادی تباہ ہوجائے گی۔ رشید پہلوان، گوالمنڈی، لاہور: انٹرنیٹ نے نسل اور عالمی ہم آہنگی کو اجاگر کیا ہے۔ اس پر کسی ایک فرد، ادارے یا حکومت کا کنٹرول نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے بجائے ایک ایسا ادارہ ہونا چاہئے جو بالکل غیرجانبدار ہو اور زندگی کے ہرشعبے، کاروبار اور علاقے، رنگ و نسل اور مذاہب کے افراد پر مشتمل ہو۔ اس ادارے کے ارکان خالص جمہوری بنیادوں پر منتخب شدہ ہوں۔ وہ صرف اس کی نگرانی کریں، وقت ضرورت غیراخلاقی اور تخریبی مواد اور محرکات کی روک تھام کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||