| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے محروم؟
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دس سے بارہ دسمبر کو اقوام متحدہ کے زیراہتمام ایک کانفرنس میں عالمی رہنما اور ماہرین اس موضوع پر مشورہ کررہے ہیں کہ دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی کیسے ممکن بنائی جائے۔ افریقہ کے بعض شہروں میں خواتین موبائل فون کے ذریعے بازار میں اشیاء کی قیمتیں معلوم کررہی ہیں، بنگلہ دیش میں طلباء انٹرنیٹ پر سائنسی مضامین پڑھ رہے ہیں، پاکستان کے شہروں میں بنیادی تعلیم ہو نہ ہو، کمپیوٹر کے تربیتی ادارے بڑی تعداد میں قائم کیے جارہے ہیں، وغیرہ۔ ایک طرف جہاں ترقی یافتہ ملکوں میں کمپیوٹر، موبائل فون، پی ڈی اے اور انٹرنیٹ جیسی جدیدترین ٹیکنالوجی لوگوں کی زندگی کا حصہ بن گئی ہے، وہیں دوسری طرف لاکھوں گاؤں اور قصبے ایسے ہیں جہاں بجلی اور ٹیلیفون تک مہیا نہیں ہیں۔ آج بھی اربوں لوگ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے محروم ہیں۔ ڈیجیٹل ڈیوائیڈ یعنی ٹیکنالوجی کے اس خلاء کو کیسے پورا کیا جاسکتا ہے؟ کیا آپ بھی ٹیکنالیوجی کے اس انقلاب کو کامیاب بنانے کیلئے کچھ کررہے ہیں؟ آپ کے گاؤں اور قصبوں کے لوگ ٹیکنالوجی کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے آپ کی زندگی کو کیسے متاثر کیا ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
فضل الرحمان جسوال، لِبیا: اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو بہت متاثر کیا ہے، میری سنئے، میں اس وقت لِبیا کے ایک شہر میں بیٹھا یہ سطور لکھ رہا ہوں جبکہ میرے سے نزدیک آبادی دوسو کلومیٹر سے بھی دور ہے۔ یہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ رسیور سے ممکن ہے۔ جبکہ گھر بات کرنے کے لئے سیٹلائٹ فون ہے، لیکن دوسری طرف شاید ہمارے ملک میں اور دنیا کے بہت سے علاقوں میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ضرورت ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی ہے، اگر سب ملک، بین الاقوامی تجارتی ادارے اور تعلیم یافتہ لوگ اس کے لئے کوشش کریں تو یہ ممکن ہے۔ ورنہ بہت وقت لگ جائے گا اور ہم اکیسویں صدی میں بھی قطار میں لگ کر بِل جمع کرواتے رہیں گے۔ محمد شفیق، کشمیر، پاکستان: ہاں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہمارا ذاتی فائدہ ہے۔ میں انیس سو نناوے میں اسلام آباد آیا۔ اس وقت حکومت نے مجھ جیسے بیروزگاروں کو کمپیوٹر کی تعلیم سے ہمکنار کرایا۔ میں اب ایک کامیاب شہری بن گیا ہوں۔ اور ایک اچھی کمپنی میں ملازم ہوں۔
رانا اعزاز، صادق آباد، پاکستان: ہمارے ہاں یہ بات عام ہورہی ہے کہ پاکستان میں جگہ جگہ کمپیوٹر مراکز کھل گئے ہیں اور یہ کہ ان میں سے اکثر ادارے غیرمعیاری ہوتے ہیں۔ لیکن ان اداروں کا بھی ایک فائدہ ہے۔ وہ یہ کہ یہ ادارے ایک رجحان پیدا کررہے ہیں اور لوگوں کا رجحان کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کی طرف لاتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو کمپیوٹر کی الف ب تو سیکھا دیتے ہیں۔ میں پاکستان کے ایک چھوٹے شہر سے تعلق رکھتا ہوں لیکن آج ہمارے چھوٹے سے شہر کے بارے میں دو ویب سائٹ ہیں جو اس شہر کے نام کے ساتھ منصوب ہیں۔ اس کے علاوہ میرا ایک مشورہ یہ ہے کہ پاکستان کے تمام اسکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔ انڈیا میں رکشہ والے اور گوالے انٹرنیٹ اور موبائل فون استعمال کررہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بھی آئی ٹی کلچر کو فروغ دیا جائے۔ عاطف مرزا، میلبورن آسٹریلیا: اب وقت آگیا ہے ترقی پزیر ملکوں کے لوگوں کے لئے یہ فیصلہ کرنے کا کہ وہ اپنا بجٹ فوج پر زیادہ صرف کرنا چاہتے ہیں یا ٹیکنالوجی پر۔ فیصلہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر غریب اسی طرح سوتے رہے تو بہت دیر ہوجائے گی۔ آبادی کا صحیح استعمال جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ غریب ملکوں کو بہت آگے لے جاسکتی ہے۔ حکومتوں کو زیادہ سے زیادہ فنڈ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے مہیا کرنا چاہئے۔ عمیر ثانی، کراچی: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہے۔ حالات اسی وقت بہتر ہوں گے جب ہم لوگوں کو علاقائی زبانوں میں کمپیوٹر کا استعمال متعارف کرائیں۔ تکنیکی طور پر اب یہ ممکن ہورہا ہے کہ پاکستان میں ادارے زراعت اور دوسرے شعبوں کے لئے سافٹ ویئر تیار کررہے ہیں۔
علی رضا علوی، اسلام آباد: عید کے موقع پر مجھے اپنے آبائی گاؤں جانے کا اتفاق ہوا جہاں ابھی ابھی بجلی اور فون کی سہولت آئی ہے۔ میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر کمپیوٹر دیکھ کر حیران رہ گیا: آپ کے گاؤں میں کمپیوٹر؟ کہنے لگا کہ جی ہاں، بھئی جان اب ہمارا گاؤں کافی ترقی کر گیا ہے۔ یہاں عورتیں پاوڈر (ہیروئن) بیچتی ہیں، شراب پیتی ہیں اور اس کمائی سے نوجوانوں نے کمپیوٹر لینا شروع کردیا ہے۔ کئی گھروں میں کمپیوٹر ہیں۔ دو تین گھر تو انٹرنیٹ بھی استعمال کررہے ہیں۔ ایک بار مولوی صاحب نے شراب نوشی کے خلاف بات کی تو گاؤں کی عورتوں اور مردوں نے انہیں علیحدہ علیحدہ سمجھایا اور اب مولوی صاحب ایسی کوئی بات نہیں کرتے۔ ہمارا گاؤں اس جدید دور میں کافی ترقی کرگیا ہے۔ گاؤں میں کئی لوگوں کے پاس موبائل فون ہیں لیکن پی ڈی اے کس بلا کا نام ہے، کوئی نہیں جانتا۔ محمد ثاقب احمد، شیخ پورہ، بہار: جب دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کو صاف ہوا، پانی اور دو وقت کی روٹی نصیب نہیں، سر چھپانے کے لئے سایہ اور تن ڈھکنے کیلئے کپڑہ میسر نہیں اور بہتوں کو تو دو گز کی زمین نہیں ہے تو ’ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے محرومیت‘ پر ایک نئ بحث چھیڑ دینا کیا ان کے زخموں پر نمک پاشی نہیں ہے؟ نور جٹک، جعفرآباد پاکستان: میرا تعلق ایک گاؤں سے ہے۔ لیکن اس دور میں بھی میرے گاؤں کے تعلیم یافتہ لوگ بھی انٹرنیٹ کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔ ان کے پاس ٹیلیفون بھی نہیں ہے۔ صلاح الدین نظامی، ٹنڈو سومرو، پاکستان: ہائے، انٹرنیٹ کا کیا کہنا! یہ گزشتہ صدی کے آخری سال کے آخری ماہ کی بات ہے، جب ہمارے گاؤں ٹنڈو سومرو کے لوگوں نے انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کردیا تھا لیکن سب وائی ٹو کے کے خوف سے سہمے ہوئے تھے۔ لیکن جب ہمارے کمپیوٹروں کو وائی ٹو کے کی وجہ سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی تو ہم نے بھی کمپیوٹر لے لیا۔ اور پھر روزانہ شب کو ساڑھے دس بجنے کا انتظار کرنا معمول بن گیا کیونکہ اس وقت سے پی ٹی سی ایل کا ٹیلیفون لائن ایک چوتھائی قیمت پر دستیاب تھا۔
شاہنواز نصیر، کوپن ہیگن، ڈنمارک: یہ انیس سو چورانوے کی بات ہے کہ میں کسی کام کے سلسلے میں پی ٹی سی ایل کے ایکسچینج میں گیا۔ جن صاحب سے ملنا تھا وہ کہیں نکلے ہوئے تھے اور ان کے پی اے نے انتظار کرنے کو کہا۔ وہاں ایک کمپیوٹر پڑا تھا جس کی الف بے بھی مجھے معلوم نہ تھی۔ مجھے اور تو کچھ نظر نہ آیا میں نے وہاں پڑے ہوئے ماؤز کو ہلادیا، ایک کے بعد ایک ونڈوز کھلنی شروع ہو گئیں اور مجھے پی اے صاحب سے ڈانٹ پڑ گئی۔ اب چلتا ہوں انیس سو ننانوے میں جب میں ایک کمپیوٹرز کی دکان کا حصے دار بن گیا اور خود کمپیوٹرز جوڑ کر بناتا اور بیچتا تھا۔ اس کے بعد میں یہاں ڈنمارک آیا تو یہاں بھی بہت عرصہ تک ایک کمپیوٹر کی دکان پر کام کیا۔سوچتا ہوں تو یہ حاثاتی مگر اتنی بڑی تبدیلی مجھے بھی حیران کر دیتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی آپ پر غیر محسوس طور پر خود بخود اثرات ڈالتی ہے اور آپ کی ضرورت بن جاتی ہے۔ صرف اس کا آپ کی دسترس میں ہونا ضروری ہے اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ آپ اس کے غلام بن چکے۔ لیکن اس کا فروغ آپ کی دسترس میں آنے سے ہی ہے جو حکومت کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی حقیقتاً زندگی کا حصہ بن چکی ہے خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں جہاں بینک سے بس کے ٹکٹ تک آن لائن خریدے جا رہے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں ترقی پذیر ممالک میں اولین ترجیح بنیادی تعلیم کو دینی چاہئے۔ اس کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک اور کثیر القومی کمپنیوں کو مدد کرنا ہوگی تاکہ غریب ممالک میں لوگ اس ٹیکنالوجی کو سیکھیں اور اپنے ہی ملک میں استعمال کریں۔ ہمیں قطرے قطرے سے ہی دریا بنانا ہوگا۔
عثمان خان، لندن، برطانیہ: ٹیکنالوجی کا اقتصادی ترقی سے تعلق ہے۔ غربت میں کمی اور اقتصادی ترقی سے اس خلا کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ میں نے جب تین سال قبل اپنا شہر چھوڑا تھا تو موبائل یا انٹرنیٹ کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی لیکن اب وہاں بھی بہت حد تک تبدیلی آگئی ہے۔ اگر چار سال پہلے یہ تبدیلی آجاتی تو مجھے اپنا شہر نہ چھوڑنا پڑتا۔ لوگ اس ٹیکنالوجی کا استعمال سب سے زیادہ رابطے اور معلومات کے لئے کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ وہ تارکینِ وطن پاکستانی ہیں جو اپنے گھرانوں اور دوستوں سے رابطے میں رہنا چاہتے ہیں جو انہیں جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال پر مجبور کر رہا ہے۔ محمد علی پنہور، خیرپور، پاکستان: آسان ترین طریقہ اس کی ضرورت پیدا کرنے کا ہے یعنی اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کرنے سے لوگوں میں اس کی ضرورت پیدا ہوگی۔ تاہم اسے کم قیمت ہونا ہوگا کیونکہ ہمارے زیادہ تر لوگ غریب ہیں۔
خرم شہزاد، فرینکفرٹ، جرمنی: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اس وقت زندگی کا اتنا اہم جزو بن چکی ہے کہ کئی مرتبہ اس سے آراستہ اشیاء کے بغیر ایک قدم چلنا مشکل ہوجاتا ہے اس لئے اس کی افادیت اور اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔ ہرچند ہمارے تمام بڑے شہر اب اس کے بغیر اپاہج ہوجاتے ہیں لیکن دور دراز علاقے ابھی تک اس کی رسائی میں نہیں آئے۔ اگرچہ سابق وفاقی وزیر اور موجودہ مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے سبب کچھ ترقی ہوئی ہے لیکن ابھی بھی اس دوڑ میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ صرف چند سو تربیت گاہیں اور چند طلباء وطالبات کو وظائف دے کر سب کے ساتھ قدم ملا کر چلنا دیوانے کا خواب لگتا ہے۔ بھارت نے اب گاؤں گاؤں اس کو پھیلانا شروع کر دیا ہے۔ معلوم نہیں پاکستان کب خوابِ غفلت سے بیدار ہوکر آنے والی نسلوں کےلئے اس ٹیکنالوجی کے راستے کھولے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||