| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے گوالے اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی
بھارت کے کاروباری دارالحکومت ممبئی سے دو سو ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بارامتی کا علاقہ دودھ اور شہد کی پیداوار کے لئے مشہور ہورہا ہے۔ مگر دودھ اور شہد کے پھلتے پھولتے کاروبار کا سہرا جدید ٹیکنالوجی کے سر ہے۔ اس علاقے میں حال ہی میں کمپیوٹر سے چلنے والے خودکار مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں دودھ جمع کیا جاتا ہے۔ توقع ہے کہ جلد ہی بھارت دودھ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ ان مراکز میں ڈائنامکس کمپنی کے کمپیوٹر سے چلنے والے بڑے بڑے پلانٹس نصب ہیں۔ یہ ادارہ دودھ پیدا کرنے والی معروف بین الاقوامی کمپنیوں مثلاً نیسلے اور بریٹانیہ کے لئے بھی پلانٹس فراہم کرتا ہے۔ صرف چند ہی برس پہلے بارامتی میں صورتحال اتنی اچھی نہیں تھی۔ اگر دودھ بیچا بھی جاتا تھا تو یہ مقامی سطح تک محدود تھا۔ علاقے کے تقریباً ایک لاکھ گوالوں کو، جن میں سے بیشتر ان پڑھ تھے، مویشیوں کا دودھ بیچنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی تھی کیونکہ گرمی کی حدت جلد ہی دودھ کو خراب کردیتی تھی۔ روزانہ دودھ بیچنے کی یہ مشقت وہ اس بے یقینی کے ساتھ شروع کرتے تھے کہ دن کے اختتام تک انہیں کوئی خریدار مل بھی سکے گا یا نہیں۔ لیکن اب جدید ٹیکنالوجی نے ان محنت کش افراد کے دن پھیر دیے ہیں اور بارامتی کا علاقہ ترقی کے ایک خاموش انقلاب سے دوچار ہونے والا ہے۔ بلاشبہ بھارت میں افرادی قوت کی کمی نہیں ہے اور مزدوروں کو بہت کم اجرت ادا کی جاتی ہے۔ مزدوری پیشہ افراد جدید علوم سے آشنا بھی نہیں ہیں لیکن بارامتی کے گوالوں نے خودکار مراکز کے قیام کا خیر مقدم کیا ہے اور وہ اس سے بھرپور فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ ان مراکز میں دودھ جمع کرنے اور اسے ٹھنڈا رکھنے کا خودکار انتظام ہے۔ ایک مقامی گوالے اجیت کیت نے بتایا کہ چند برس پہلے ان کے پاس صرف تین گائیں تھیں لیکن اب وہ ساٹھ گائیوں کے مالک ہیں۔ پہلے انہیں اپنے ہاتھوں سے دودھ دوہنا پڑتا تھا لیکن اب یہ کام کرنے کے لئے ان کے پاس مشینیں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام نے گوالوں کی زندگی بدل دی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||