| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
موبائل فون سے لیس رکشے
بھارت میں موبائل فونز کی ایک مقامی کمپنی نے راجستھان میں سائیکل رکشہ چلانے والوں کو موبائل فونز فراہم کئے ہیں تاکہ غریب رکشہ ڈرائیور اپنے کاروبار کو بہتر طور پر چلاسکیں اور اپنی آمدنی بھی بڑھاسکیں۔ راجستھان کی موبائل فون کمپنی شایام ٹیلی کام نے تقریباً دو ہزار افراد کو سائیکل رکشہ سمیت یہ سہولت فراہم کی ہےآ ان افراد میں سے بیشتر یا تو انتہائی غریب ہیں یا پھر کسی معذوری کا شکار ہیں۔ ان ڈرائیوروں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ ریاستی دارالحکومت جئے پور اور نواحی علاقوں میں رکشہ چلاتے وقت موبائل فون اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ شایام ٹیلی کام کا بنیادی خیال یہ تھا کہ اس طرح سے چلتے پھرتے عوامی کال سنٹر قائم کئے جاسکتے ہیں۔ ان رکشوں میں موبائل فون کے علاوہ بلنگ مشین، بیٹری اور پرنٹر بھی نصب کئے گئے ہیں تاکہ رکشہ والے گاہکوں سے باآسانی کال کی قیمت وصول کرسکیں۔ گاہک چاہیں تو تحریری پیغام یا ٹیکسٹ میسج کی سہولت بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ان کی مزدوری میں اس نئی پیش رفت سے ان کی آمدنی میں واضح طور پر اضافہ ہوا ہے۔ ٹیلی کام ادارے کے صدر سنیل ووہرا کا کہنا ہے کہ اب یہ ڈرائیور اس قابل ہوگئے ہیں کہ وہ پانچ افراد کے خاندان کو معاشی طور پر سہارا دے سکتے ہیں۔ سنیل ووہرا خاتوں رکشہ ڈرائیوروں کے بارے میں کہتی ہیں ’ ہم چاہتے ہیں کہ یہ عورتیں خود کفیل ہوجائیں اور یہ کام کرنے میں فخر محسوس کریں اور یہ جان سکیں کہ خود کفیل ہونے میں کتنا لطف ہے‘۔ ہر فون کال کا بیس فیصد ان ڈرائیوروں کے حصے میں آتا ہے اور اس طرح یہ افراد اب اوسطاً چھ ہزار سے نو ہزار روپے ماہوار کما لیتے ہیں۔ ابتدائی طور پر جب یہ آلات رکشہ میں نصب کئے جاتے ہیں تو رکشہ کی لاگت سمیت کمپنی ڈرائیوروں سے اس کا کوئی معاوضہ وصول نہیں کرتی۔ ادارے کے مطابق یہ لاگت تقریباً پچھتر ہزار روپے ہے۔ ووہرا کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ نہایت کامیاب ثابت ہوا ہے اور لوگ موبائل فونز کا کافی استعمال کررہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||