| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیٹ بِنا چین کہاں
میں نے پوچھا نام کیا ہے۔ اس نے کہا:’لیڈی ڈریکولا اِن لو_2002‘ میں: لیکن یہ تو تمہار آئی ڈی ہے؟ اس نے: بس آئی ڈی ہی ہے میری۔ میں نے کہا یہاں کیوں ہو؟ اس نے کہا بس ایسے ہی وقت گزارنے کے لئے ’جسٹ فار فن یو نو‘۔ میں: نہیں پھر بھی کوئی خاص وجہ تو ہوگی، جیسے میں اس وقت تین چیٹ رومز میں بیک وقت موجود ہوں، جہاں کوئی’دلچسپ‘ بات چیت شروع ہو جائے وہیں رہوں گا ؟ جہاں کوئی مل گیا، ہاں لیکن میں زیادہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ اس نے: میں بھی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ میں: تو پھر بتاؤ بتاؤں؟ سچی؟ ہاں، ہاں! لیڈی ڈریکولا: میرے منگیتر نے مجھے آج صبح ای میل کے ذریعے چھوڑ دینے کا فیصلہ سنایا۔ اس نےکہا اسکا بوائےفرینڈ واپس آگیا ہے، دو برس بعد ایک چیٹ روم میں ملاقات ہوگئی۔۔۔، اب میں پھر سے سِنگل ہوں، سوچا یہاں شاید کوئی ڈیٹ مل جائے، ’جسٹ ٹو کِل دی پین، یو نو‘۔ میں: میں سمجھ سکتا ہوں، بڑی تکلیف دہ بات ہے، کوئی اس طرح ای میل پر ساتھ چھوڑ دے تو ۔۔۔ (میرے ذہن میں کچھ اور بھی تھا۔) تاہم اس صورت حال میں بھی فوری پیغام رسانی کے کئی فوائد ہیں۔ مثلاً، اگر تمہارا منگیتر تمہارے منہہ پر کہہ دیتا کہ وہ رشتہ توڑ رہا ہے تو شاید تمہیں کہیں زیادہ ٹھیس لگتی، یو نو۔۔۔ یا پھر اگر تمہاری ملاقات اس سے کرواتا کہ جو تمہاری جگہ لے رہا ہے۔ لیڈی ڈریکولا: ارے نہیں نہیں، کوئی ٹھیس ویس نہیں، نہ ایسے اور نہ ویسے، بس تھوڑی سی حیرت، ’اِٹس کُول، سب چلتا ہے یہاں۔‘ میں: یہاں کہاں؟ اس نے:یہاں دنیا میں انٹرنیٹ پر۔
اس نے کہا: تمہیں کسی ایکسکیوز کی ضرورت نہیں ہونی چاہئیے۔ بہر حال، خیال تو ٹھیک ہے لیکن اتنی جلد میں ’ریئل ٹائم‘ نہیں ہو سکتی، اور پھر۔۔۔ میں: اور پھر؟ اس نے: اگر میں کہوں کہ میں وہ نہیں ہوں جو میں اس وقت ہوں، یا پھر جو میں نے اب تک بتایا ہے وہ بس ایسے ہی ٹائم پاس ہے۔۔۔ میں: hmmm ۔۔۔ کوئی بڑی بات نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے، تم نے جو اپنی عمر بتائی ہے تم اس سے دس پندرہ برس زیادہ کی ہو سکتی ہو، یا پھر تم نے جو تصویر اپنے پروفائل پر رکھی ہے وہ کسی ماڈل کی ہے جبکہ تم خود زیادہ ’سیکسی‘ نہیں ہو، شاید بد صورت بھی ہو (نو اوفینس مینٹ)، یا پھر یہ کہ تم ایک عمر رسیدہ، ذہنی بیمار قسم کی عورت، یا پھر مرد، ہو، جو اپنی شبینہ زندگی میں نو عمر لڑکوں، یا لڑکیوں، کی تلاش میں انٹرنیٹ کے بے نام دریچوں کی سیر کو نکلی/ نکلا ہے۔ مجھے اسکا کوئی غم نہیں، میں چیٹ کی دنیا کا پرانا باسی ہوں، یہاں کی گلیوں اور راہ گیروں اور انکے نقابوں سے بخوبی واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں تم کیا کہہ رہی ہو، میں خود بھی۔۔۔ اس نے کہا: او ریئلی۔۔۔؟ میں: جی۔۔۔ ساتھ میں ایک سمائلی (: لیڈی ڈریکولا: تم اس طرح کی بول چال سے اپنے آپ کو آزاد خیال اور دلیر ثابت کر نا چاہتے ہو؟ میں: اور تم اس طرح کے سوالات اٹھا کر ایک عام سی گفتگو کو ’ایپِک‘ بنانے کی کوشش کررہی ہو؟ لیڈی: جی نہیں، آپ کچھ زیادہ پر امید ہو رہے، ایسا بالکل نہیں۔ میں نے: میں بھی کچھ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کررہا، میں بھی یہاں تفریح کے لئے آتا ہوں، ’ٹائم پاس، یو نو۔‘ اس نے: بہر حال، میں نہیں سمجھتی یہاں سب کچھ جاننا ممکن ہے، اور نہ ہی ضروری، اس وقت میں ایک آئی ڈی ہوں اور تم بھی، اگر ہماری گفتگو دلچسپ ثابت ہوتی ہے تو ہم اس ملاقات کو ریئل ٹائم میں ’ایکسٹینڈ‘ کر سکتے ہیں۔ اور اس میں بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں، سب کرتے ہیں۔ میں نے: بالکل صحیح، لیکن تمہار اصل نام؟ اس نے کہا: اگر میں یہ کہوں کہ میرا اصل نام لیزا ہے یا مریم ہے، کیا تم میرے بارے میں کسی نئے زاویے سے سوچوگے؟ میں: ہاں، نام سے چہرہ آنکھوں کے سامنے آ سکتا ہے اور مجھے اس احساس سے نجات ملے گی کہ میں ایک آئی ڈی سے بات کر رہا ہوں۔ لیڈی: واقعی؟ میرا تو خیال ہے کہ تمہیں میری جِنس سے مطلب ہے، اگر میں یقین دلادوں کہ میں واقعی ایک حسین اور سیکسی عورت ہوں اور آج شام کو کراس روڈز کلب میں ملوں گی تو تم یہ نام اور آئی ڈی کی بحث کو ری سائکل بِن میں پھینک دوگے، اور رہا سوال چہرہ آنکھوں کےسامنے آنے کا، تو تم نے پروفائل پر میری اصلی۔نقلی تصویر تو دیکھ ہی لی ہے۔ میں: اُف! شاید تم درست کہہ رہی ہو، لیکن تمہارا نام؟ اچھا یہ تو بتا دو کہ تم ہوکہاں سے؟کرتی کیا ہو؟ کچھ تو۔۔۔ لیڈی: اُف! میں بنگلور سے ہوں، اکیلی رہتی ہوں، گھر میں ایک بِلی اور دو کمپیوٹر ہیں۔ میں ایک آئی ٹی فرم میں منیجر ہوں۔ واؤ!، میرا چھوٹا بھائی بھی بنگلور میں رہتا ہے، وہ ایک ای۔کامرس کمپنی میں ملازم ہے۔ وہ: کیا نام ہے تمہارے بھائی کا؟ میں: اوہ نو۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: مرزا وحید، بی بی سی اردو ڈاٹ کام |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |