BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 September, 2003, 13:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آزادی چھن جائے گی‘

اگرچہ ڈیجیٹل رائٹس مینیجمنٹ لوگوں کے اہم ڈیٹا کی بہتر حفاظت کے نام پر بیچا جا رہا ہے تاہم نیٹ کے تجزیہ نگار خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس سے لوگوں کے حقوق چھن جائیں گے۔

نیٹ کے تجزیہ نگار بل تھامپسن کا کہنا ہے کہ ’ میری بیٹی کے پاس ایپل کا ’آئی بک‘ لیپ ٹاپ ہے جو کہ میرے لیپ ٹاپ سے کہیں بہتر ہے اور وہ اسے بہت پسند ہے۔ وہ اس کے ذریعے آن لائن جاتی ہے، سکول پراجیکٹس کی تحقیق کرسکتی ہے اور اگر اسے کسی ایسے پی سی کمپیوٹر پر یا اس سے ڈوکیومینٹس منتقل کرنے کی ضرورت ہو جن پر صرف ونڈوز ہی کام کرتی ہیں تو وہ یہ بھی آسانی سے کر سکتی ہے۔ جو کچھ بھی وہ اپنے میک آئی بک پر لکھتی ہے وہ کسی بھی پی سی پر حتیّ کہ لنکس کے سٹار آفس پر بھی چل سکتا ہے اور اس میں ردو بدل کی جا سکتی ہے‘۔

تاہم ہو سکتا ہے کہ اب وہ زیادہ دیر یہ نہ کر سکے۔ کیونکہ مائکرو سافٹ اس سال اکتوبر میں آفس دو ہزار تین کا جو ورژن متعارف کرا رہا ہے اس میں ’ڈیجیٹل رائٹس مینیجمنٹ‘ کا ایک ایسا نظام موجود ہے جو ہر ڈاکیومینٹ کو تالا لگا دیتا ہے اور صرف وہی اس تک پہنچ سکتے ہیں جن کے پاس اس کی اجازت ہو گی۔

اس کے نتیجے میں جلد ہی ایک ایسی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے کہ جب تک سب کے پاس مائیکروسافٹ کے پروگرام نہ ہوں وہ آپس میں فائلز اور ڈیٹا منتقل نہیں کر پائیں گے۔ یوں زیادہ سے زیادہ لوگ مائیکروسافٹ کا طریقہ کار اپنانے پر مجبور ہوں گے۔

کہا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ سے مائیکروسافٹ کو منڈی میں ورڈ پروسیسر، سپریڈشیٹس اور پریزینٹیشن سافٹ ویئر میں سب سے زیادہ گاہک ملیں گے اور لوگوں کی انٹرنیٹ کے ذریعے ایک دوسرے کو ڈیٹا بھیجنے کی آزادی بھی جاتی رہے گی۔

یہ نیا پروگرام پرانے فائل فارمیٹس کو قبول نہیں کرے گا کیونکہ نئے فائل فارمیٹس میں ایسے فیچرز شامل ہوں گے جو کاپی رائٹس یا جملہ حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔

امریکی ڈیجیٹل میلینئم کاپی رائٹ کے قانون کے تحت ایسے نئے پروگرام بنانا غیر قانونی ہے جو ان فیچرز کو ناکارہ بناسکیں یا ان میں ردوبدل کر سکیں۔ اس قانون کے تحت مائیکروسافٹ کی اجازت کے بغیر ان نئے پروگراموں میں کوئی بھی پرانی فائل کھولنا ممکن نہ ہوسکے گا۔

بل تھامپسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ نیٹ اور کمپیوٹر پر تحفظ کے حق میں ہیں لیکن کمپنیوں کے منافع اور جمہوری حقوق کے درمیان توازن قائم رہنا ضروری ہے۔

امریکی حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جس سے مائیکروسافٹ کو روکا جاسکے اس لئے یہ یورپی یونین پیر منحصر ہے کہ وہ کیا قدم اٹھاتی ہے کیونکہ یورپ میں کمپنیوں اور خریداروں کے حقوق کے درمیان ایک محتاط توزن قائم رکھنے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد