| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وردی کے بغیر مشرف؟
پاکستان کے صدر پرویز مشرف بالآخر سال دو ہزار چار کے اختتام تک فوجی عہدہ چھوڑنے پر رضامند ہو گئے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جنرل مشرف کو بطور صدر تیس دن کے اندر پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا۔ قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے اختیارات اگرچہ صدر کے پاس رہیں گے تاہم ایسا کرنے کی صورت میں انہیں پندرہ دن کے اندر سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجنا ہوگا اور اس کا فیصلہ تیس دن کے اندر کیا جائے گا جو حتمی اور نافذالعمل ہوگا۔ تاہم اے آر ڈی کے اتحاد میں شامل حزبِ اختلاف کی دوسری جماعتوں نے کہا ہے کہ وہ ایل ایف او کی اسمبلی اور اسمبلی سے باہر مخالفت جاری رکھیں گی اور جب بھی بن پڑا انیس سو ننانوے کے آئین کو بحال کروائیں گی۔ کیا اس حالیہ معاہدے سے پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہوگی؟ کیا اس کے نتیجے میں پاکستان کی سیاست میں فوج کا اثرورسوخ کم کرنے میں مدد ملے گی؟ کیا ہمیشہ کی طرح اس دفعہ پھر مذہبی جماعتوں نے ہی ایک فوجی صدر کا ساتھ دے کر ان کی حکمرانی کے عرصے میں اضافہ کر دیا ہے؟ آپ کا ردِعمل؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
احمد عبدالرحیم، واٹرلو، کینیڈا: ایم ایم اے نے خاصی پیش رفت کی ہے۔ تاہم دجال کی سازشیں جاری ہیں۔ کشمیر جاچکا، جوہری ہتھیار جلد ہی جانے والے ہیں، پنجاب کی فوج گوادر پورٹ (بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں سمیت) اور کالا باغ تعمیر کر کے دم لی گی اور اس کے بعد وہ آخری سیٹی بجا دے گی جس کا مطلب پاکستان کے ٹکڑے ہیں۔ پنجاب کی فوج غریب پنجابی مسلمانوں کے کندھے استعمال کرتے ہوئے اپنے لئے بلوچستان کی زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضہ کرلینا چاہتی ہے۔ کمال شاہ، اسلام آباد، پاکستان: علماء کے شر سے مشرف کو بچنا چاہئے جو مفادات کی سازش کر رہے ہیں۔ عوام کے حقوق پر مجال ہے کسی نے آواز اٹھائی ہو۔ اقبال احمد، اسلام آباد، پاکستان: مشرف کو وردی نہیں اتارنی چاہئے۔ مولویوں کے منہ میں اقتدار کی بہتی رال اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ جو برا ہے وردی کا خوف اس کو اتنا ہی زیادہ ہے۔
ڈاکٹر افضال ملک، راولپنڈی، پاکستان: مشرف دورِ جدید کے خمینی ہیں جنہوں نے برائی کی جڑوں کو ملک میں پھیلنے سے سختی سے روکا۔ ان کے اقدامات پندرہ کروڑ عوام کے دل کی آواز ہیں اور ہم ملک کی بہتری کے لئے کئے گئے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ رہی بات ملاؤں کی تو کبھی، ڈیزل کبھی پرمٹ، کبھی سینڈوچ پر بک جاتے ہیں۔ ان کے دعوے کہاں گئے کہ ایل ایف او پر بات نہیں کریں گے۔ اگر وہ عوام سے مخلص ہوتے تو مہنگائی کے خلاف بولتے۔ میاں، برطانیہ: میں انہیں باکل پسند نہیں کرتا، وردی یا بغیر وردی، وہ دونوں صورتوں میں آمر ہیں۔ اعجاز بلوچ، پاکستان: دراصل دائیں بازو کا اتحاد ہمیشہ فوج کے ساتھ رہا ہے۔ نورا کشتی عوام اور امریکہ کو دھوکہ دینے کا حربہ ہے۔ جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کی لڑائی ابھی اے آر ڈی اور قوم پرست جماعتوں کو لڑنا ہوگی۔ طاہر فاروق ارائیں، پاکستان: وردی اتارنے کے بعد مجلس صدارتی عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر دے گی پھر جو دوسرا وردی والا ہوگا لوگ اس کی طرف دیکھیں گے۔ بہتر ہوگا اگر صدر صاحب وردی نہ اتاریں۔ سلیم اعوان، ٹورانٹو: اگر متحدہ مجلس عمل اور صدر مشرف ملک سے مخلص ہیں تو حالیہ پیش رفت ایک اچھا قدم ہے۔ مسعود اعوان، لاہور: ایم ایم اے نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی قیادت بہت ہی ذہین اور سمجھدار لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ بہت صبر آزما جدوجہد کے بعد کامیابی آخر ایم ایم اے اور جمہوریت کی ہوئی۔ جاسمین بلوچ، کراچی: میرے خیال میں جنرل صاحب کا فیصلہ پاکستان کے حق میں بہتر نہیں ہے اور جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے تو اس نے عوام کو دیا ہی کیا ہے۔ صدر مشرف نے جن مشکل حالات میں ملک کی بگ ڈور سنبھالی وہ قابلِ داد ہے۔ میں نہیں سمجھتی کہ ملک کی فلاح مشرف صاحب کے وردی اتارنے میں ہے۔
غلام حیدر، نیویارک: مذہبی انتہا پسند پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں اور ملک کو طالبان نما صورت حال سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ میری اقوام متحدہ سے گزارش ہے کہ وہ مشرف حکومت کی مدد کرے تاکہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ مسعود خان، کیلیفورنیا: میری دانست میں پاکستان میں سیاست کارگر ثابت نہیں ہو گی کیونکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے پانی اور تیل کا ملاپ۔ نصیر عباسی، اسلام آباد: بلاشبہ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے جو پاکستان میں سیاسی استحکام کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ماجد شاہ، کراچی: حکومت کے حوالے سے یہ ایک مثبت قدم ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ متحدہ مجلس عمل اب کیا حکمت عملی اپناتی ہے۔
نعیم اختر، کراچی: میرے خیال میں جنرل پرویز مشرف کو وردی نہیں اتارنی چاہئے کیونکہ ان سے پہلے سیاستدان ملک کو لوٹتے رہے ہیں۔ یہ لوگ اب اس ملک کو اور کتنا لوٹیں گے؟ اگر صدر مشرف وردی اتار دیتے ہیں تو ان لٹیروں کو ڈنڈا کون دکھائے گا؟ سعید احمد چشتی، پاک پتن: صدر جنرل پرویز مشرف نے ایل ایف او پر سمجھوتہ کر کے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ملک کی پارلیمان اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ محمد نشاط، نواب شاہ: میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان میں کبھی جمہوریت آئی ہو کیونکہ یہاں صرف انتقام پرست لوگ ہی حکومت میں رہے ہیں۔ اس لئے جنرل پرویز مشرف وردی میں ہوں یا نہ ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
معظم رضا تبسم، اسلام آباد: یہ سممجھوتہ پاکستان کو توڑنے کی نئی بنیاد ہے کیونکہ اس سے پاکستان میں ہمیشہ کے لئے فوجی حکومت کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور عوام سے رہے سہے جمہوری حقوق بھی چھین لئے گئے ہیں۔ سردار خان، دبئی: پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ کا وہ دن سیاہ ترین تھا جب مذہبی رہنماوں نے ایک فوجی آمر کے آگے جھک کر منتخب اسمبلی تحلیل کرنے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ سب لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ عدالتیں فوجی آمروں کے زیر اثر رہی ہیں۔ سید عمران، سیالکوٹ: ہم صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ہیں۔ اللہ انہیں ہر مصیبت سے دور رکھے۔
ماجد، کراچی: ہمارے پاس کوئی ایسا رہنما نہیں جو ملک کو مسائل سے چھٹکارا دلانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس لئے میرے خیال میں صدر مشرف ہی اس صورت حال میں سب سے زیادہ اہل شخصیت ہیں۔ انہیں اس وقت تک وردی پہنے رکھنی چاہئے جب تک ملک کی سماجی اور اقتصادی حالت بہتر نہیں ہوتی۔ قیصر بٹ، لاہور: ایک طرف تو مجلس والے اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف جناب صدر کی وردی اتارنے کے درپے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں دونوں عہدے تاحیات اپنے پاس رکھنے چاہئیں اور مولوی حضرات کا زور ہمیشہ کے لئے توڑ دینا چاہئے چاہے اس کے لئے مارشل لاء ہی کیوں نہ لگانا پڑے۔ عبید ہدایت، پاکستان: صدر جنرل پرویز مشرف کو پاکستان کی یکجہتی کی خاطر ہمیشہ اپنے فوجی عہدے پر برقرار رہنا چاہئے۔ رابعہ نذیر، ناروے: صدر جنرل پرویز مشرف وردی کے بغیر ایک خواب ہیں۔ ملک مسرور، پاکستان: میرے خیال میں صدر مشرف نے اچھا فیصلہ کیا ہے جس سے جمہوریت قدرے مضبوط ہو گی۔
ابوالحسن علی، لاہور: یہ بہت اچھا ہوا ہے۔ اس سے پاکستان میں استحکام آئے گا اور جمہوریت کو اپنے قدم جمانے کا موقع ملے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے میں صدر جنرل پرویز مشرف کی وسعت نظر اور وسعت قلبی کی تعریف کرنی پڑے گی۔ محمد شفیق، شیخوپورہ: ملکی آئین کی پامالی اور حکومت کی برطرفی میں ملوث بعض جرنیلوں کے خلاف جب تک قانونی کارروائی نہیں ہوتی اور جب تک وہ ختم نہیں ہو جاتے اس وقت تک ملکی استحکام اور جمہوریت کا فروغ ایک خواب ہی رہے گا۔ عاصم عبداللہ خان، میانوالی: اصل میں ایل ایف او کی بجائے پاکستان کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاستدان صحیح ہوتے تو فوج کبھی بھی نہ آتی۔ یہ لوگ خود ہی دعوت دیتے ہیں اور پھر خود ہی قابض کہتے ہیں۔ ایم یاسر مغل، راولپنڈی: صدر جنرل پرویز مشرف پاکستان کی تاریخ میں سب سے بہتر صدر ہیں۔ وہ انتہائی ذہین ہیں۔ پاکستان کا کوئی دشمن صدر مشرف کا دشمن ہے کیونکہ جنرل مشرف وردی میں سب سے بہتر ہیں۔
عمران خان مینگل، بلوچستان: پاکستان کے عوام کا خواب ہے کہ صدر مشرف وردی کے بغیر لوگوں کے سامنے آئیں کیونکہ یوں وہ کسی فلم کے ہیرو لگتے ہیں۔ ویسے بھی میری رائے میں صدر مشرف کو ایک وقت میں ایک ہی ٹوپی پہننی چاہئے نہ کہ دو یا تین۔ ابو محسن میاں، سرگودھا، پاکستان: یہ حقیقت ہے کہ مشرف منتخب صدر نہیں ہیں۔ خود مشرف کو بھی معلوم ہے کہ ریفرنڈم بوگس تھا۔ وہ فوج کے سربراہ ہیں، صدر نہیں۔ انہیں یہ حق ہی کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ صدر اور فوج کے سربراہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ عبید ہدایت، پاکستان: پاکستان کی سالمیت کے لئے جنرل مشرف کواپنا فوجی عہدہ ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے۔ وہ میرے ہیرو ہیں اور میرے ملک کے ستارے ہیں۔
عمران خان مینگل، بلوچستان، پاکستان: یہ پاکستان کے لوگوں کا خواب ہے کہ پرویز مشرف ان کے سامنے بغیر وردی کے آئیں گے کیوں کہ وردی کے بغیر وہ کسی فلمی ستارے کی طرح سمارٹ لگتے ہیں۔ سو جنابِ صدر، وقت ضائع نہ کیجئے اور ابھی یو نیفارم سے چھٹکارا حاصل کریں۔ میرا پیغام ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی ہیٹ پہنیں، یہی آپ کے مفاد میں ہے۔ نعمان احمد، راولپنڈی، پاکستان: ملکی سیاست میں یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام آسکتا ہے لیکن مشرف صاحب کے وردی اتارنے والے وعدے پر اعتبار کرنا دور اندیشی نہیں ہے کیونکہ کوئی ہوش مند اپنے ہاتھ تو کاٹ نہیں سکتا۔ اس معاہدے سے ان لوگوں کے خدشات اور مفروضوں کو تقویت ملی ہے جو ایم ایم اے کو فوجی ایجنسیوں کی تخلیق گردانتے ہیں۔ ایم ایم اے اپنے بہت سے ان مطالبات سے دستبردار ہوئی ہے جن کے نام پر اس نے ووٹ حاصل کئے تھے۔ ایس مفکر، بہاولپور، پاکستان: میں اس نئی پیش رفت کو ملکی مفاد کے لیے اچھا سمجھتا ہوں لیکن ایک بات یہ ہے کہ ان ملا حضرات نے کون سا ایسا تیر مار لیا ہے۔ بات تو وہیں کی وہیں ہے۔ ویسے بھی جو مولوی لاکھوں افغانیوں کا قتل کرکے صلح کر سکتے ہیں، ان کے لئے ایل ایف او کیا چیز ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ایم ایم اے عوامی بہبود کے لئے کیا کرتی ہے۔
محمد ہارون، نیو یارک، کینیڈا: یہ تو پہلے دن سے ہی واضح تھا کہ ایم ایم اے صدر مشرف کی ’بی ٹیم‘ ہے تاکہ وہ پی پی پی اور مسلم لیگ کا ووٹ بینک تقسیم کر سکیں۔ یہ دنوں اب مل کر ’چھپن چھپائی‘ کھیل رہے ہیں۔ ایک شرمناک نقطہ یہ ہے کہ اگر اسمبلیاں توڑ دی جاتی ہیں تو صدر سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجیں گے جس کا فیصلہ تیس دن کے اندر کیا جائے گا۔ یہ کیسا مذاق ہے، ہر وزیرِ اعظم سپریم کورٹ کے پاس جا چکا ہے لیکن کیا ہوا؟ کیا ہمیں وہ فیصلے یاد نہیں جن کے بارے میں ہر چیف جسٹس کہتا آیا ہے کہ ’تاریخی فیلصلہ دیں گے۔‘ ناصر مہمند، پشاور، پاکستان: میں صدر مشرف سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ کسی کی شکست نہیں بلکہ پاکستان اور قوم کی فتح ہے۔ بالآخر ایم ایم اے اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے ہوگیا۔ لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر نے رولنگ دی تھی کہ ایل ایف او اصل آئین کا حصہ ہے۔ اب وہ کس منہ سے بہاں بیٹھیں گے اور اسی حزبِ اختلاف کا سامنا کریں گے جنہوں نے ایک دفعہ ان کی اس رولنگ کے خلاف ووٹ دیا؟ شاہد نذیر، سیالکوٹ، پاکستان: یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے کیونکہ پہلی دفعہ ہم نے مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کا حل نکالا ہے۔ اس میں خاص طور پر ایم ایم اے مبارک باد کی مستحق ہے انہوں نے اپنی بالغ نظری کا ثبوت دیا اور دوسری جماعتوں کے برعکس اپنے ذاتی مفاد کو پسِ پشت رکھتے ہوئے صرف قانون کی بالا دستی کے لیے جدوجہد کی۔ اس سے ان کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ احسن علی بوہری، ٹھٹھہ، پاکستان: جمہوریت زندہ باد حسن اعظم، لاہور، پاکستان: میری رائے یہ ہے کہ مشرف کو وردی نہیں اتارنی چاہئے۔ دنیا تو پاگل ہے جو جی میں آئے کہہ دیتی ہے۔ اگر صدر نے وردی اتار دی تو پاکستان برباد ہو جائے گا۔
اشرف محمود، لاہور، پاکستان: خود ساختہ صدر کا وردی اتارنا جمہوریت کے کنویں سے آمریت کا مردہ نکالنے کے مترادف ہے۔ یاد رکھیں کہ جمہوریت کے چشمے کو آمریت کی علاظت سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لئے ابھی جمہوری قوتوں کو ستر ڈول پانی اور نکالنا ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا محض وردی اتارنے سے آمریت کا آسیب غائب ہو جائے گا یا سفید کپڑوں میں ملبوس ایک نادیدہ مخلوق جمہوری نظام کا گھیراؤ کئے رکھے گی۔ ابھی وہ وقت نزدیک نظر نہیں آتا جب جمہوری نظام آمریت کی آلائشوں سے پاک فضا میں سانس لے گا اور جمہوری طاقتیں توانا ہوں گی۔ صائمہ، پاکستان: صدر کو وردی نہیں اتارنی چاہئے کیوں کہ ہمیں ایسے ہی بندے کی ضرورت ہے۔ کامران مرتضیٰ، جھنگ، پاکستان: ایم ایم اے تو بنی ہی مشرف کو تحفظ دینے کے لئے تھی۔ ایم ایم اے تھا ہی ملا ملٹری اتحادآ اس سے نہ فوج کا اثر کم ہوگا نہ جمہوریت بحال ہوگی۔ ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ اس ملک میں سب مولویوں سمیت ایجینسیوں سے پیسہ کھاتے ہیں۔ ایم ایم اے نے تو اپنی عوام سے دھوکہ کیا۔ انہوں نے اپنے مفادات کی خاطر ایک ایسے شخص کو بچایا جس کی مخالفت کی بنیاد پر انہوں نے عوام سے ووٹ لیا تھا۔ یہ دین یا اسلام کے نہیں صرف ’پیٹ‘ کے حامی ہیں۔
سید شبیر حسین شاہ، مانسہرہ، پاکستان: پاکستان کے دشمن یعنی بدعنوان لوگ نہیں چاہتے کہ مشرف امن سے کام کریں۔ انہیں ملک کے اندر سے خطرات کا سامنا ہے اور یہ بدعنوان لوگ انہیں گھیرے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ سیاستدان اور بیوروکریٹس ہیں۔ صدر صاحب کو ان لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ محمد طاہر، سعودی عرب: یہ ایک اہم فیصلہ ہے اور اس سے جمہوریت مستحکم ہوگی۔ میں صدر مشرف کو اس فیصلے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ سید شاہ، شکاگو، امریکہ: یہ ایک اچھا قدم ہے اور امید ہے کہ صدر اپنے وعدے کا پاس کریں گے۔ یہ جمہوریت کی طرف اہم قدم ہے۔
عبداللہ علیم، ناگویا، جاپان: یہ معاہدہ ایم ایم اے کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مولویوں نے مذاکرات کے ذریعے اپنی بات کو منوا لیا اور اسی ماحول میں جہاں پی پی پی اور مسلم لیگ نواز والے ذاتی مظالبات کے علاوہ کوئی حقیقی مطالبہ ہی نہیں کرتے۔ ایم ایم اے نے شروع دن سے ایک اصولی موقف اپنایا ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد اسے منوا لیا۔ اس کے ذریعے کسی انقلاب کی توقع تو خیر نہیں ہے لیکن کسی حد تک جمہوریت صحیح ٹریک پر آ جائے گی۔ نذیر حسین، کراچی، پاکستان: صدر مشرف کے وردی اتارنے کے بعد بھی جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ملکی سیاست میں فوج کا اثرو رسوخ کم ہوگا۔ تاہم اس وقت صدر مشرف کے لئے پاکستان کا سربراہ رہنا ضروری ہے کیونکہ ان کی وجہ سے پاکستان اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مستحکم ہوا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو عالمی سازشوں سے کیسے بچایا اور اس کا دفاع کیسے مضبوط کیا جائے۔ اس کے لئے اگر مذہبی جماعتیں فوجی صدر کا ساتھ دیتی ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ محمد رشید، کینیڈا: یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین دن ہے۔ جمہوریت ختم ہو گئی ہے۔ ایم ایم اے کے لوگ صرف غدار ہیں اور صرف مشرف اور فوج کے ایجنٹ ہیں۔ جمہوری قوتوں پر اب یہ عظیم ذمہ داری عائد ہوگئی ہے کہ وہ فوج اور ایم ایم اے کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ عمران شاہد، بریڈفورڈ، انگلینڈ: مجلس کی قیادت مبارک باد کی مستحق ہے جنہوں نے اپنے اتحاد اور زبردست تحریک چلاکر مشرف کو وردی اتارنے پر مجبور کیا۔ اب پاکستان میں جمہوریت کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوگا۔ لیکن اس سے مجلس پر مزید ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کہ وہ آئندہ بھی حکومت کو دیگر قومی معاملات جیسے کہ کشمیر اور ایٹمی پالیسی وغیرہ میں قومی مفاد کے خلاف کوئی فیصلہ نہ کرنے دیں۔ لجبر خان، کینیڈا: ملا اور فوج کبھی بھی ایک دوسرے سے نہیں لڑے۔ ان کا مقصد ہمیشہ مل کر پاکستان اور خطے سے جمہوری امن پسند طاقتوں کو نکال باہر کرنا رہا ہے۔ فواد محمود، کراچی، پاکستان: یہ ایم ایم اے کی جیت ہے کہ وہ جو کہتے تھے کہ ملا رجعت پسند ہیں اور انہیں سیاست میں نہیں آنا چاہئے، اب اپنی تنگ نظری پر شرمندہ ہوں گے۔ یہ پی پی پی اور مسلم لیگ کے لئے بھی شرم کی بات ہے۔ قاضی صاحب اور ایم ایم، بہت خوب عمران محمود، نیوزی لینڈ: میرے خیال میں یہ ضروری نہیں تھا کیونکہ پاکستان پرویز مشرف کی حکمرانی میں بہت اچھا جا رہا ہے اور ایسی صورتِ حال میں علماء حضرات کو دخل اندازی کا کوئی حق نہیں۔
جعفر بدینی، نوشکی، پاکستان: مشرف بغیر وردی کے بہت اچھے لگتے ہیں۔ دسمبر دو ہزار چار تک عوام انتظار نہیں کر سکتی اس لئے انہیں یہ کام آج ہی کر لینا چاہئے۔ جس دن وہ وردی اتاریں گے، پاکستان ترقی کرے گا۔ نعمان رضا، کراچی، پاکستان: انہیں یہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ ان کا آرمی چیف کے عہدے پر رہنا ملک کے استحکام کے لئے ضروری ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کو صرف طاقت کی بات سمجھ آتی ہے۔ فیصل تقی، کراچی، پاکستان: صدر کا فوجی یونیفارم میں تقریر کنے سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کا جعلی اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ دن قبل کوئٹہ میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ دائیں بازو کی طرف سے مظاہروں اور ہڑتال کی دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں ہیں لیکن اس کے دو تین دن کے اندر ہی وہ ان کے سامنے چھک گئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ مظاہروں کے خوف سے نہیں کیا لیکن ان الفاظ کی ادائیگی کے لئے یونیفارم کا انتخاب بذاتِ خود یہ بتاتا ہے کہ وہ اب فوجی کے طور پر ایک مضبوط صدر نہیں ہوسکتے۔ ان الفاظ کو لکھتے ہوئے میں نے خبروں میں سنا ہے کہ ان پر ایک اور خود کش حملہ ہوا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ انہیں اب ایک امریکی ٹاؤٹ کے طور پر اپنا انجام صاف نظر آرہا ہے۔ اختر نواز لاہور، پاکستان: نظام ِ مصطفیٰ کا مطالبہ کرنے والے یہ ملا فوج کے ٹاؤٹ ہیں۔ قاضی اور فضل کو ایک ایسے آدمی کے ساتھ جاکر بیٹھنے سے شرم آنی چاہئے جس نے افغانستان کو روسیوں سے بھی زیادہ تباہ کیا ہے۔ یہ ملا پاکستان اور پیغمبر کے بدترین دشمن ہیں۔ عمران جلالی، سعودی عرب: صدر مشرف کے اس اقدام سے جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں گی اور اقتدار کے توازن میں چیک اینڈ بیلنس آئے گا۔ پاکستان کی سیاست میں پہلی بار ہمارے سیاست دانوں نے ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دی۔
محمد طاہر جمیل، سعودی عرب: دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ وہی ہوگا جو منظورِ خدا ہوگا یا مشرف چاہیں گے۔ عبدالرزاق راجہ، دوبئی: یہ پوری پاکستانی قوم کے لئے ایک برا دن ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان کے ان پڑھ عوام ابھی تک اچھے اور برے میں تمیز نہیں کر سکتے۔ وہ ابھی تک ان سیاستدانوں کی حمایت کر رہے ہیں جنہوں نے ملک توڑا۔ مشرف ایک سچے پاکستانی ہیں جنہوں نے ملک کو وقار اور اقتصادی استحکام دیا۔ براہِ مہربانی اپنے ملک کو بچایئے۔ سیاست دان غیر ملکی ایجینٹ ہیں جس کی واضح مثال بے نظیر ہے جس نے بھارت میں جا کر بیانات دیئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||