| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان: جوہری پروگرام
حکومتِ پاکستان نے مغربی ذرائع کی رپورٹوں پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ بعض پاکستانی سائنسدانوں نے ذاتی لالچ میں کسی ملک کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی ہو۔ بعض سائنسدانوں سے پوچھ گچھ بھی کی گئی ہے۔ پاکستان پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے ایٹمی منصوبے سے ایران کے جوہری پروگرام کو فائدہ پہنچا ہے۔ بغص ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان نے ماضی میں شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام میں مدد کی۔ مغربی حکومتیں اس بات کا خدشہ ظاہر کرتی رہی ہیں کہ غریب ملکوں میں ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہیں۔ آپ کے خیال میں کیا پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں کی پوچھ گچھ کی جانی چاہئے تھی؟ کیا پاکستان کا جوہری منصوبہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں؟ کیا پاکستان لِبیا کی طرح اپنا جوہری پروگرام ترک کردے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
شیروز خان، اسلام آباد، پاکستان: مجھے اس صورتِ حال پر ایک لطیفہ یاد آتا ہے۔ ’ایک دفعہ ایک صاحب کے گھر پر ڈاکہ پڑ گیا۔ ان کے دوستوں نے پوچھا کہ ہمیں معلوم ہے تمہارے پاس ایک پستول ہے، اسے کیا کیا۔ان صاحب نے کہا کہ میں نے اسے ایسی جگہ پر چھپا رکھا تھا کہ انہیں ملا ہی نہیں۔‘ پاکستان بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال میں گرفتار ہے۔ حکمرانوں نے ملک کے تحفظ کے لئے ایٹم بم بنایا اور اب اسے کسی ’محفوظ مقام‘ پر چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حبیب الحق، مردان، پاکستان: نہیں اس لئے کہ پاکستان کے غریب لوگوں نے اس کے لئے اپنا پیٹ کاٹا ہے۔ غلام حسین انجم، کینیڈا: یہ اچھی بات نہیں ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے۔ اگر غربت ہی محفوظ ہاتھوں کا معیار ہے تو بھارت بھی کوئی امیر ملک نہیں۔ اگر تمام برطانیہ، فرانس اور امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک اپنے جوہری پروگرام ترک کرنے کو تیار ہیں تو پاکستان بھی یہ سوچنے کو تیار ہوگا۔ اگر امریکہ اسرائیل کو جوہری توانائی منتقل کر سکتا ہے تو ایک غریب ملک کا دوسرے غریب کو یہ ٹیکنالوجی کیوں مہیا نہیں کر سکتا۔ اصغر اشرف: مسلمان ممالک کے علاوہ دوسرے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ محمد نشاط، نواب شاہ، پاکستان: صرف جوہری پروگرام ہی کی کیا بات کرتے ہیں جناب، ہم تو حکم کے غلام ہیں، اگر آقاؤں کا حکم ہوا تو سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ اظہر علی، بھٹ، پاکستان: پاکستان ایک کمزور ملک ہے اسے وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں رکھنے چاہئیں۔ وہ یہ ہتھیار سندھیوں کے خلاف استعمال کر سکتا ہے کیونکہ اس ہتھیار پر مکمل طور پر پنجابیوں کا کنٹرول ہے۔ وہ اس ہتھیار کو مغربی ممالک کو بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
محمد کاشف، بریڈ فورڈ، برطانیہ: اگر کوئی ٹیکنالوجی منتقل ہوئی بھی ہے تو پاکستان نے کوئی جرم نہیں کیا کیونکہ ہم نے کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کئے جس کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔ رہا سوال سائنسدانوں سے پوچھ گچھ کرنے کا تو پاکستان کے پاس اس سے بڑے مسئلے مسائل موجود ہیں۔ پاکستان جن ممالک کے گن گنتا ہے وہاں اس کے سفارت خانے کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ جب بھارت اور روس کھلے عام کہتے ہیں کہ وہ ایران سے جوہری تعاون جاری رکھیں گے تو پاکستان کو کیا مصیبت ہے کہ قوم کے ہیروز کو یوں خطرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ دا پاکستان کی حکومت کو پاکستان کے عوام کی طرح غیرت مند بنائے۔ اسداللہ، ہانگ کانگ: اگر دوسرے ممالک جوہری قوت حاصل کر سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں۔ کئی عشروں سے ہم بہت سا سرمایہ صرف کر رہے ہیں، اب ہمیں اس سے فوائد حاصل کرنے چاہئیں جیسے کی بجلی کی پیداوار جو ہم دوسرے ممالک کو فروخت کر سکیں۔ اسد حسن، اسلام آباد، پاکستان: بنیادی مسئلہ ایٹمی پروگرام نہیں ملک اور امہ کی بقا کا ہے۔ اگر کوئی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ایٹمی پروگرام ترک کرنے ہی میں بقا ہے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہئے لیکن قیادت کو عوام کی حمایت حاصل ہونی چاہئے۔ محمد ارشد، آزاد کشمیر، کشمیر: پاکستان کو ایٹم بم بنانے میں اور ترقی کرنی چاہیے۔ نوید احمد، کراچی، پاکستان: پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھارت کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر دونوں ممالک خطے میں ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طور پر رہنے کے لئے تیار ہیں تو پاکستان اپنا جوہری پروگرام ترک کر سکتا ہے۔ اس لئے میری رائے میں سب سے پہلے دونوں ممالک کو کشمیر کا مسیلہ حل کرنا ہوگا اور دنیا کو یہ بات معلوم ہے۔ فرحان مہدی، چکوال، پاکستان: پاکستان کے لئے اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنا اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی کا گڑھا کھودنے کے مترادف ہے۔ شیراز حان، ٹوکیو، جاپان: کبھی نہیں جب تک امریکہ خود اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کرتا۔ محمد کاشف، بریڈ فورڈ، برطانیہ: اگر کوئی ٹیکنالوجی منتقل ہوئی بھی ہے تو پاکستان نے کوئی جرم نہیں کیا کیونکہ ہم نے کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کئے جس کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔ رہا سوال سائنسدانوں سے پوچھ گچھ کرنے کا تو پاکستان کے پاس اس سے بڑے مسئلے مسائل موجود ہیں۔ پاکستان جن ممالک کے گن گنتا ہے وہاں اس کے سفارت خانے کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ جب بھارت اور روس کھلے عام کہتے ہیں کہ وہ ایران سے جوہری تعاون جاری رکھیں گے تو پاکستان کو کیا مصیبت ہے کہ قوم کے ہیروز کو یوں خطرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ دا پاکستان کی حکومت کو پاکستان کے عوام کی طرح غیرت مند بنائے۔
ضیاب عباسی، سعودی عرب: پاکستان نے جوہری طاقت بننے کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔ اس ایجاد نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔ ہمیں جوہری پروگرام کو ہر قیمت پر جاری رکھنا چاہئے بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ پھیلانا چاہئے کیونکہ موجودہ حالات میں یہی ہماری ضرورت ہے۔ ہمیں بھی بھارت کی طرح ڈاکٹر قدیر کو اپنا صدر بنانا چاہئے۔ یاسر ممتاز، رینالہ خورد، پاکستان: پاکستان جو کچھ کر رہا ہے وہ غلط ہے۔ اسے اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کرنا چاہئے۔ اگرتمام ممالک ایسا ہی کریں تو پھر پاکستان بھی جوہری پروگرام ترک کر سکتا ہے۔ ارشد مغل، کویت: ہرگز نہیں، پاکستان کو جوہری پروگرام کبھی ترک نہیں کرنا چاہئے کہ یہی اس کے وجود کی ضمانت ہے۔ پاکستانی سائنسدان ہمارا سرمایہ ہیں اس لئے ہمیں ان کا تحفظ کرنا ہے اور ہر پروپیگنڈے کے خلاف اپنے وطن کا دفاع بھی کرنا چاہئے۔ میر ابدالی، شارجہ: پاکستان کو اپنا ایٹمی منصوبہ ترک نہیں کرنا چاہئے۔ عبدالحسن علی، لاہور: اگر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہوکر بھی یہی صلہ ملنا تھا کہ اس کے سائنس دانوں سے پوچھ گچھ کی جائے گی، تو پھر غریب ملک ہونے کے باوجود اسے اپنے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ محمد موسیٰ شاکر، شیفِلڈ: پاکستان کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنا ایٹمی منصوبہ جاری رکھے۔ محمد حسن، کراچی: سوال پہلے پوری دنیا سے کیا جائے کہ کیا آپ اپنے جوہری منصوبے ترک کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ مسئلہ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے۔ طاقتور ممالک بھی اپنے جوہری منصوبے بند کریں۔ ابوبکر عثمان، جھنگ: پاکستان کو اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار نہیں ہونا چاہئے۔
محمد اسحٰق، لِبیا: جوہری پروگرام بالکل ترک نہیں کرنا چاہئے۔ میں آپ سب سے پوچھتا ہوں کہ سب لوگ تعلیم اس لئے حاصل کرتے ہیں کہ وہ روزی کماسکیں؟ نہیں۔ جس طرح تعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے اسی طرح ملک کا ایٹمی پروگرام بھی اس کی ترقی میں اضافہ کرتا ہے، اور ساتھ ہی ملک کے لوگوں کے دلوں میں دشمن کا خوف، قبضے کا خوف، ختم ہوجاتا ہے۔ نعمان خان، سیالکوٹ: پاکستان جوہری پروگرام جاری رکھے۔ وقار احمد، نوشہرہ، پاکستان: پاکستان کو اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھنا چاہئے کیونکہ اس نے بہت مشکل سے یہ حاصل کیا ہے۔ یہ صرف ہمارے تحفظ کے لئے ہے۔ اگر ہم اس کا خاتمہ کردیں تو انڈیا پاکستان پر حملہ کردے گا۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ سلمان خالد، لاہور: میرا خیال ہے کہ ابھی تک پاکستان اپنے ایٹم بم کی وجہ سے محفوظ ہے، ورنہ کب کا امریکہ نے اس پر بھی حملہ کردیا ہوتا۔ اور یہ امریکی دباؤ ہے کہ پاکستان ایٹمی پروگرام بند کرے۔ غلام نبی، ممیان، پاکستان: پاکستانی سائنس دانوں سے پوچھ گچھ نہیں کی جانی چاہئے تھی۔ ندیم قریشی، شنگھائی، چین: پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں سے پوچھ گچھ کی ضرورت پڑے تو ایسا صرف حکومتِ پاکستان ہی کرے، ایف بی آئی یا سی آئی کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔ اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکہ سے زیادہ محفوظ ہے۔ حسین نقی، لاہور: پاکستان اپنا فنڈ تعلیم، صحت عامہ اور رہائش جیسے سوشل سیکٹرز کے لئے استعمال کرے، نہ کہ ایٹمی پروگرام پر۔ نعیم الرحمان، دوبئی: پاکستان اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھے، ورنہ مسلم ملک ہونے کی وجہ سے اس پر زیادہ دباؤ بڑھ جائے گا۔ علی شاکر، دوحہ، قطر: پاکستان ایک غریب ملک ہے جہاں بیشتر آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے۔ پاکستان کو چاہئے کے ایٹمی پروگرام ترک کردے۔ پاکستان جتنا سرمایہ ایٹمی پروگرام پر خرچ کرتا ہے اگر یہ سرمایہ اقتصادی ترقی کے لئے صرف کیا جائے تو پاکستان میں بےروز گاری کا خاتمہ ہوگا۔ بہت سارے ملک ہیں جو بغیر ایٹمی پروگرام کے آج ترقیوں کو چھو رہے ہیں۔ پاکستان ایک چھوٹا ملک ہے، اسے اپنے دائرے میں رہ کر قدم اٹھانا چاہئے۔ عمر عبداللہ: پاکستان کو اپنا ایٹمی منصوبہ جاری رکھنا چاہئے۔ محمد نجیب اشتیاق، ابوظہبی: پاکستان کو اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھنا چاہئے کیونکہ ہمارے اطراف میں ایٹمی طاقتیں موجود ہیں۔ یہ ہماری یہکجہتی کے لئے ضروری ہے۔ ظہیر احمد، پشاور: اگر ہمارے ایٹم بم ہے تو ہم ہیں، ورنہ کچھ بھی نہیں۔
نامعلوم: میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور اس وجہ سے ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان ملک میں خواندگی بڑھانے کے لئے کوئی کام نہیں کررہا ہے۔ گاؤوں میں لوگوں کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں ہے، بجلی نہیں ہے۔ پاکستان کو چاہئے کو لوگوں کی زندگی کی سطح بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ حامد اقبال، پاکستان: یہ امریکی دباؤ ہے کہ پاکستان اپنا جوہری پروگرام ترک کردے۔ محمد عابد بھٹی، حیدرآباد، سندھ: عالمی ایٹومِک کمیشن کے چارٹر کے مطابق ہر ملک کا حق ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لئے اپنا جوہری پروگرام چلائے۔ اور پاکستان کا جوہری پروگرام صرف اور صرف اپنی بقا کے لئے ہے نہ کہ کسی کو ڈرانے کے لئے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے۔ اگر جوہری پروگرام پر پابندی لگانی ہے تو سب سے پہلے ان ممالک پر لگانی چاہئے جو خود ایٹمی طاقت ہیں۔ محمد کاشف، کینیڈا: بالکل نہیں، یہ سراسر موت ہے۔ طارق حبیب، دوبئی: پاکستان ایک نہایت ذمہ دار ملک ہے اور اس کا ٹریک ریکارڈ بھی بہت واضح رہا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام نہ صرف اس کی قومی سلامتی کا ایک اہم ذریعہ ہے بلکہ اس کے روزبروز بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ جہاں تک ایران کو مدد کرنے کا سوال ہے، یہ سوال تو انڈیا سے بھی پوچھنا چاہئے جو اس کا کھلم کھلا اقرار کرتا رہا ہے۔ یاسر نقوی، برطانیہ: اگر پاکستان اپنا جوہری پروگرام ترک کرتا ہے تو یہ اپنے آپ پر کلہاڑی مارنے کے برابر ہوگا۔ عدنان: جب تک انڈیا اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک نہیں کررہا ہے، پاکستان کو ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔ ہم لوگ معاشی طور پر ایسے ہی کمزور ہیں اور اب دفاعی لحاظ سے کمزور ہوگئے تو پاکستان کا اللہ حافظ۔
عمر مختار، لاہور: کبھی نہیں۔ ایٹمی پاکستان ہمارے تحفظ کی ضمانت ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جارحانہ نہیں بلکہ دفاع کے لئے ہے۔ اور پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے۔ اگر سارے ایٹمی ممالک اپنا پروگرام ختم کردیں تو اس صورت میں ہمیں بھی ایسا کرنا چاہئے۔ ویسے بھی عراق کا جو حشر ہوا اور اس پر جس طرح جنگ مسلط کی گئی اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنا جوہری پروگرام ختم نہیں کرنا چاہئے۔ نامعلوم: اگر امریکہ، برطانیہ، روس، اسرائیل اور انڈیا سمیت تمام ممالک اپنا جوہری پروگرام ترک کرتے ہیں تو پاکستان کو بھی اپنا جوہری پروگرام ترک کرنا چاہئے۔ واجد نسیم، مریدکے، پاکستان: پاکستان کو اپنا نیوکلیئر پروگرام رول بیک نہیں کرنا چاہئے۔ اسی وجہ سے پاکستان وجود میں ہے۔ پاکستانی سائنس دانوں کی پوچھ گچھ نہیں کرنی چاہئے تھی۔ اعجاز عوان، کراچی: پاکستانی سائنسدانوں سے پوچھ گچھ کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ان پر شک کرنا فضول کی بات ہے۔ پاکستان کا جوہری منصوبہ برائے بقا ہے۔ لہذا پاکستان کو اپنا پروگرام بند نہیں کرنا چاہئے۔ اگر برطانیہ اور امریکہ اپنا جوہری پروگرام بند کرتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ عابد عزیز، ملتان: ہم اس مسئلے پر مفاہمت نہیں کرسکتے۔ ہمیں جوہری پروگرام ترک نہیں کرنا چاہئے۔ علی رضا اودھو، حیدرآباد، پاکستان: ہمیں کسی کے دباؤ میں آکر جوہری پروگرام ترک نہیں کرنا چاہئے اور ہم ہر کسی کو جواب دینے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نوید عوان، کوپین ہاگن، ڈنمارک: پاکستان کا جوہری پروگرام اس کے وجود سے جڑا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے برصغیر میں امن و امان برقرار ہے۔ جو لوگ ایٹمی ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے بارے میں بات کرتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ کون ان ہتھیاروں کو پرامن مقاصد کے لئے بنا رہا ہے؟ یہ پوری مہم مسلم ممالک کے خلاف ہے۔ طیبہ چودھری، ٹورانٹو: ہمارا نیوکلیئر پروگرام محفوظ اور ذمہ دار ہاتھوں میں ہے، اور پاکستان کو کبھی بھی اپنا جوہری منصوبہ ترک نہیں کرنا چاہئے۔ یہ ہماری قوم کے لئے سلامتی کی علامت ہے۔ ہمیں اپنے سائنسدانوں پر فخر ہے کہ وہ کبھی بھی اس حساس انفارمیشن کا افشاء نہیں کریں گے۔
ظہیر قریشی، میلان، اٹلی: ذاتی مفاد کی خاطر نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا ٹرانسفر ایک سنگین جرم ہے اور کوئی بھی شخص قانون سے اوپر نہیں ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے سائنسدان ہمارے لئے اثاثہ ہیں اس لئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو چاہئے کہ حالات اپنے ہاتھوں میں لیں۔ ہمیں فوج سے زیاد ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر اعتماد ہے۔ فضل الدین، پاکستان: پاکستان ایک آزاد اور جمہوری ملک ہے اور ایٹمی پروگرام ہمارے دفاع کی ضمانت ہے۔ محمد قاسم، پشاور: پاکستان کا جوہری پروگرام کسی ایک فرد یا ادارے کا نہیں ہے، بلکہ پوری پاکستانی قوم کا ہے۔ پاکستان دنیا کا ایک ذمہ دار ملک ہے اور ہمیں اپنی فوج پر اعتماد ہے کہ پرگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ امریکہ جو بہانے تلاش کررہا ہے وہ بہت غلط ہے۔ پاکستان کو اگر کمزور کیا گیا تو پوری دنیا میں امریکہ کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ صدر مشرف صاحب کو کہنا چاہوں گا کہ اگر جوہری پروگرام ترک کیا گیا تو پورا ملک مخالف ہوجائے گا۔ بیگم انیس، دوبئی: پاکستان کو اپنا جوہری پروگرام کبھی بھی ترک نہیں کرنا چاہئے۔ وسیم خان، اسلام آباد: ہمارا جوہری منصوبہ اپنے دفاع کے لئے اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ ہم اپنے ایٹمی پروگرام کا استعمال کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف نہیں کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم جوہری منصوبہ جاری رکھنا چاہیں گے تاکہ کسی دشمن نے حملہ کیا تو اس کا جواب دیا جاسکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||