| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’راز افشا نہیں ہوسکتے، مگر۔۔۔‘
پاکستان کے ایک سابق انٹلیجنس سربراہ حمید گل نے کہا ہے کہ ایک اعلیٰ معیار اور سخت حفاظتی انتظامات کے ہوتے پاکستانی جوہری تنصیبات سے راز افشا ہونے کے بہت کم امکانات ہیں۔ تاہم دوسری طرف ایک اعلیٰ سائنسدان کا ماننا ہے کہ ایران نے مبینہ طور پر جن پاکستانیوں کے نام دئے ہیں وہ ملک کی جوہری انتظامیہ کے اہم افراد تھے اور یہ پتا لگانا اہم ہے کہ کیا یہ ان لوگوں کی طرف سے ایک ذاتی فعل تھا کہ انہیں حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ حمید گل نے نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستانی تنصیبات کی سکیورٹی بہت اعلیٰ معیار کی ہے اور اب تک کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ جوہری تنصیبات میں کام کرنے والے لوگوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انکی کافی ’سکریننگ‘ ہوتی ہے، ’بہت چھان بین ہوتی ہے، ان کے پس منظر کی، انکے ذاتی روابط کے بارے میں، یہاں تک ان کی نفسیاتی کیفیات کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ کسی نہ کسی طرح، براہ راست یا بالواسطہ، نگرانی میں رہتے ہیں۔۔۔ ‘ اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایسا ممکن نہیں ہے کہ سائنسداں اپنے طور پر جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کریں انہوں نے کہا ایسا ممکن نہیں ہے اور ایسا صرف ایک سکیورٹی لیپس کی صورت میں ہو سکتا ہے۔
’انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت ہی حساس قسم کی انفارمیشن ہے اور یہ بہت ہی اہم ہے کہ لوگ اس طرح کے راز افشا نہ کریں، اور اگرہ وہ اپنے طور پر کسی طرح کا ذاتی ایجنڈہ چلا رہے ہوں تو یہ درست نہیں ہے۔‘ سائنسدانوں کے ممکنہ ذاتی ایجنڈے کی طرف نامور پاکستانی سائنسداں ڈاکٹر اے ایچ نیّر نے بھی اشارہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کچھ لوگوں کے نزدیک اس میں کوئی بری بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کسی اور کو منتقل کی جائے، کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ (جوہری ٹیکنالوجی) صرف پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ہے‘۔ ڈاکٹر نیّر کا خیال ہے کہ دوسری طرف ریاست کے لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں ہر شخص ضابطوں اور اصولوں کا پابند ہے، خواہ وہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس زاویے نظر کے لوگوں کا ماننا ہے کہ ’اگر کسی نے ریاستی اجازت کے بغیر کام کیا ہے تو اسے سزا ملنی چاہئیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اب یہ پتا لگانا اہم ہے کہ کیا یہ ان افراد کی طرف سے ذاتی فعل تھا کہ انہیں حکومت نے ایسا کرنے کے لئے کہا‘۔ حفاظتی انتظامات کے بارے میں حمید گل کا مزید کہنا تھا کہ ان تنصیبات کی اپنی اندرونی انٹیلیجنس بھی ہوتی ہے جس میں چنیدہ افراد ہوتے ہیں ، قابل اعتماد لوگ ہوتے ہیں۔۔۔ میرا تو خیال ہے کہ کافی اعلیٰ انتظام ہے۔‘ حمید گل کا کہنا تھا کہ جوہری تنصیبات سے وابستہ افراد ریّائرمنٹ کے بعد بھی نگرانی میں رہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||