| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی، ذاتی لالچ؟
پاکستان نے کہاہےکہ انہیں ایسےاشارے ملے ہیں کہ ہوسکتا ہے کسی سائنسداں نے ذاتی خواہشات یا لالچ کے تحت ایران کو جوہری ٹیکنالوجی یا معلومات فراہم کی ہوںـ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے منگل کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ اگر کوئی پاکستانی سائنسدان کسی ملک کو ذاتی مفاد یا لالچ کی خاطر ایٹمی معلومات اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نےکہا کہ انٹرنیشل اٹامک انرجی کمیشن اور ایران سمیت بعض ممالک نے کچھ سائنسدانوں کے متعلق شبہ ظاہر کرتے ہوئے جو معلومات فراہم کی ہے اس کی بنا پر تحقیقات ہورہی ہےـ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت بعض سائنسدانوں سے اس ضمن میں پوچھ گچھ ہورہی ہے۔ تاہم ڈاکٹر قدیر خان سے روایتی تفتیش نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے ان اطلاعات کی تردید کہ ان تحقیقات میں پاکستانی حکام کے علاوہ کوئی غیرملکی شامل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان دنیا کا ذمہ دار ملک ہے: ’ہم نے نہ پہلے کسی کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی نہ آئندہ کریں گے۔ پاکستان تمام عالمی تقاضے پورے کرے گا۔ پاکستان کا کنٹرول اور کمانڈ سسٹم بہت زیادہ محفوظ ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے عالمی برادری کو چارسو فیصد یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان نے کسی کو جوہری ٹیکنالوجی دی اور نہ دےگا۔ ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ بعض سائنسدانوں سے جو پوچھ گچھ ہورہی ہے اس سے جوہری پروگرام کو کوئی خِطرہ نہیں کیونکہ پاکستان نے جب شدید مشکلات کے باوجود بھی یہ صلاحیت حاصل کی تو اسکی حفاظت بھی کرسکتا ہے۔ ایک سوال پر مسعود خان نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ جب پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ (این پی ٹی) اور سی ٹی بی ٹی جیسے معاہدوں پر دستخط نہیں کئے تو پھر ٹیکنالوجی کی کسی کو منتقلی کیوں نہیں کرتا تو مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کا اپنا قانون ہے جس کے مطابق کسی کو ٹیکنالوجی منتقل نہیں کی جاسکتی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انٹرنیشل اٹامک انرجی کمیشن نے جن سائنسدانوں پر شبہ ظاہر کیا ہے کیا ان میں ڈاکٹر قدیر خان بھی شامل ہیں تو ترجمان نے کہا کہ وہ اس موقعہ پر تفصیلات میں نہیں جائیں گے کیونکہ ابھی تحقیقات ہورہی ہے۔ ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سائنسدانوں کی نگرانی پر مامور سکیورٹی اہلکاروں سے تفتیش کا سوال فی الحال قبل از وقت ہے کیونکہ وہ ایک ذمہ دار قومی ادارہ سے منسلک ہیں۔ جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ ایران اور لیبیا کے جوہری تعاون کی بھارت تو کھلم کھلا بات کررہا ہے کیا ان سے بھی پوچھا جارہا ہے تو مسعود خان نے کہا کہ اگر ایران کو جوہری صلاحیت کا حصول سرکشی تھا تو انہوں نے سوال کیا کہ باقی ممالک سے کیوں نہیں پوچھا جارہا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||