BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2003, 15:25 GMT 20:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنرل مشرف کی بات پر اعتماد ہے‘
پاکستان کا نیوکلیئر میزائل
پاکستان کا موقف ہے کہ اسے بھارت کے مقابلے میں ایٹمی طاقت کی ضرورت ہے۔

امریکہ نے جنرل پرویز مشرف کی طرف سے جوہری عدم پھیلاؤ کے بارے میں کرائی جانے والی یقین دہانیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

وائٹ ہاوس کےپریس سیکرٹری اسکاٹ میکلینن نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان کس بھی ملک کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے کی ٹیکنالوجی منتقل نہیں کر رہا ہے۔

اس پریس بریفنگ میں میکلینن سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا پاکستان کے صدر کی طرف سے کرائی جانے والی یقین دہانیوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے یہ یقین دلایا ہے کہ ایسا نہیں ہو رہا اور پاکستان کسی ایسی کارروائی میں ملوث نہیں ہے۔

میکلینن نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ کئی امور پر جن میں دہشت گردی اور جوہری ہتھیاروں کا عدم پھلاؤ کے معاملات شامل ہیں تعاون جاری رکھے گا۔

دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے ترجمان مارک باؤچر نے کہا ہے کہ اکتوبر میں صدر مشرف نے وزیر خارجہ کولن پاول کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان کسی کو جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی فراہم نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے نیوکلیئر سائسندانوں کی حراست اور ان سے تفتیش کرنے کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے حال ہی میں پاکستان پر ایران ، شمالی کوریا اور لیبیا تک کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے بارے میں الزامات عائد کئے ہیں۔

پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی بیرون ملک منتقلی سے متعلق نامور سائنسدان ڈاکٹر قدیر سے بھی سوال پوچھے گئے ہیں۔

پاکستان میں حکام تفتیش کر رہے ہیں کہ کہیں اس کے ایٹمی سائنسدانوں نے حساس نیوکلیئر ٹیکنالوجی کسی بیرونی طاقت کو تو فروخت نہیں کر دی ہے۔

پاکستان ان خبروں کی ہمیشہ سے تردید کرتا رہا ہے کہ اس نے ایران اور شمالی کوریا جیسے ملکوں کی ان کے ایٹمی پروگراموں میں مدد کی ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے سوموار کے روز بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران اس امر کی تردید کی کہ ڈاکٹر قدیر پر کسی قسم کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا ڈاکٹر قدیر خان پاکستانی سائنسدانوں کے بارے میں ہونے والی تحقیقات کا حصہ ہیں، مسعود خان نے کہا کہ وہ پاکستان کے ایک معروف سائنسدان ہیں اس لئے وہ عام تفتیشی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔

تاہم انہوں نے بات کی تصدیق کی کہ ان سے پاکستانی سائنسدانوں سے ہونے والی تفتیش کے دوران سامنے آنے والے سوالات پوچھے گئے ہیں۔

اس سے پہلے پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اعتراف کیا کہ ہو سکتا ہے کہ بعض ایٹمی ماہرین اپنے طور پر اس طرح کی سرگرمیوں میں مصروف رہے ہوں۔

اس ماہ پاکستان کی جوہری تنصیبات میں کام کرنے والے کم سے کم دو سائنسدانوں سے اس سلسلے میں تفتیش کی گئی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا: ’ہو سکتا ہے کہ بعض افراد اپنے طور پر کچھ کر رہے ہوں۔ البتہ ہم اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘

اب تک ایک ایٹمی سائنسدان کو تفتیش کے بعد چھوڑا گیا ہے تاہم دوسرے سائنسدان محمد فاروق سے، جو خان ریسرچ لیبارٹری کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔ اس لیبارٹری میں یورینیم کو ایٹم بم میں استعمال کے قابل بنانے کی صلاحیت ہے۔

عبدالقدیر خان
عبدالقدیر خان کو قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔

ڈاکٹر فاروق پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بانی عبدالقدیر خان کے معاون رہے ہیں۔

پاکستان کا ہمیشہ سے یہ کہنا ہے کہ وہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو کسی دوسرے ملک کو دینے کی پالیسی پر کاربند نہیں ہے۔

تاہم دوسری طرف اس پر یہ الزامات بھی تسلسل سے لگتے رہے ہیں کہ اس نے ایٹمی معلومات ان ملکوں کو فراہم کی ہیں جنہیں امریکہ سرکش ریاستیں گردانتا ہے۔

اختتام ہفتہ پر امریکی اخباروں نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے رپورٹوں نے ان قیاس آرائیوں کو اور تقویت دی ہے کہ پاکستان نے یہ ٹیکنالوجی ایران اور شمالی کوریا کو فراہم کی ہے۔

اسلام آباد نے اس کی پرزور تردید کی ہے۔

پاکستانی ترجمان کا کہنا ہے کہ جس وقت پاکستان نے سن اٹھانوے میں ایٹمی دھماکے کئے تھے تو اسے اس معاملے کی حساسیت اور اپنی ذمہ داری کا ادراک تھا۔

ان کا کہنا تھا: ’حکومت پاکستان نے کبھی بھی حساس نیوکلیئر ٹیکنالوجی دوسرے ملکوں کو دینے کی منظوری نہیں دی ہے۔ ہمارا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انتہائی مضبوط ہے۔ صرف انفرادی طور پر لوگوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔‘

وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کہا کہ تحقیقات کا فیصلہ بین الاقوامی جوہری ادارے، آئی اے ای اے، کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد