BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 December, 2003, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان برطانیہ ’جاسوسی‘ تنازعہ
پاکستان برطانیہ ’جاسوسی‘ تنازعہ
پاکستان برطانیہ ’جاسوسی‘ تنازعہ

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے لندن میں واقع پاکستان ہائی کمیشن میں برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کی طرف سے ایک تعمیراتی کمپنی کے ذریعے جاسوسی کے آلات نصب کرانے کے قضیہ پر پہلی مرتبہ بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی بدستور خاموشی سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں تناؤ آ رہا ہے۔ اور معاملے کا جلد حل ہی دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر بنائے گا جبکہ برطانوی دفترِ خارجہ کے ایک وزیر مائیک اوبرائن کا کہنا ہے کہ یہ ایک معمولی واقعہ تھا اوراس سے تعلقات پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

کیا برطانیہ کی خاموشی اقرارِ جرم ہے؟ پاکستان کو اس واقعے کی روشنی میں کیا حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہئے؟ کیا اس تنازعے سے پاکستان برطانیہ تعلقات میں درحقیقت کوئی تبدیلی آئے گی؟ یا جلد ہی اسے بھلا دیا جائے گا؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


فدا ایم ذاہد، کراچی: ایک مبینہ طور پر ’تہذیب یافتہ ملک‘ کی یہ مجرمانہ کارروائی ہے۔

ابو محسن میاں، سرگودھا: ایک طاقتور ملک کی جانب سے بیوقوفی کی کارروائی ہے۔ ایک کمزور ملک کیا کرسکتا ہے؟

طاہر فاروق آرائین، میروہ گورچانی، پاکستان: برطانیہ نے جاسوسی کے آلات لگائے تھے اور یہ بات پاکستان کو دو سال بعد پتہ چلا ہے۔ اب برطانیہ سے پوچھ رہے ہیں کہ آلات لگائے تھے یا نہیں!

جاسوسی کی ضرورت نہیں ہے

 برطانیہ کو جاسوسی کرنے کی کیا ضرورت ہے، وہ ہمارے غیر آئینی صدر سے براہ راست ہی پوچھ لیا کرے۔

سید فاروق علی

سید فاروق علی، کینیڈا: برطانیہ کو جاسوسی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ ہمارے غیر آئینی صدر سے براہ راست ہی پوچھ لیا کرے کیونکہ صدر صاحب امریکی مطالبات پڑھے بغیر ہی قبول کر لیتے ہیں۔ کسی پاکستانی کی جرات نہیں کہ وہ برطانیہ یا امریکہ کی جاسوسی کرے لیکن امریکہ اور برطانیہ کو کسی بھی جگہ گھس جانے کی کھلی چھٹی ہے۔

جمالی لالا، پشاور: اس واقعہ سے ان خفیہ برطانوی کارروائیوں کی کلی کھل گئی ہے جو طویل عرصے سے جاری ہیں۔

انور خان بلندی، ملتان: یہ کوئی نیا جرم نہیں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم ہی اندھیرے میں رہے ہیں۔ اب ہماری آنکھیں کھُل جانی چاہئیں۔

عامر خان، پاکستان: بلاشبہ یہ برطانیہ کی طرف سے اقرار جرم ہے لیکن برطانیہ بخوبی واقف ہے کہ پاکستان اس پر دباؤ نہیں ڈال سکتا اور اسی لئے وہ اس معاملے کو زیادہ اہمیت بھی نہیں دے رہا۔ میں پاکستانی سربراہاں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا اب تو آنکھیں کھولئے، آپ کب تک انگریزوں سے ڈرتے رہیں گے؟

اللہ ہی حافظ ہے

 پاکستان نے برطانیہ کا کِیا بگاڑ لینا ہے۔ بے عزتی کا بدلہ صرف خوددار ملک ہی لیتے ہیں۔

صالح محمد

صالح محمد، راولپنڈی: دیکھیں جی پاکستان نے گریٹ برٹن کا کیا بگاڑ لینا ہے؟ یہ کام خوددار ملکوں کا ہے جو اپنی بے عزتی پر نہ صرف احتجاج کرتے ہیں بلکہ بدلہ بھی لیتے ہیں۔ پاکستان کی فوج اپنے ’بوس‘ کے سامنے دم نہیں مار سکتی لیکن اپنے ملک کے عوام پر حکومت کرنا جانتی ہے۔ پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے۔

اظہر بٹ، متحدہ عرب امارت: یہ برطانیہ کا اقرارِ جرم ہے۔ لیکن پاکستان کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔ البتہ پاکستان کو یہ معاملہ انکوائری کے لیے ضرور پیش کرنا چاہئے۔ برطانیہ کو اپنے کئے کی معذرت کرنا چاہئے۔

صدر مشرف سا نہ دیکھا۔۔۔

صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے تمام پاکستانیوں کی عزت کو خاک میں ملا دیا ہے۔

نور اسلم خٹک

نور اسلم خٹک، پاکستان: میں نے آج تک صدر جنرل پرویز مشرف جیسا شخص نہیں دیکھا جنہوں نے تمام پاکستانیوں کی عزت کو خاک میں ملا دیا ہے۔ جنرل مشرف سے برطانیہ کے ضمن میں غیرت کی توقع کرنا پتھر کو جونک لگانے کے مترادف ہے۔

خبردار رہیں

 عین ممکن ہے کہ برطانیہ میں موجود دیگر ممالک کے سفارتخانوں میں بھی ایسی ہی کارروائیاں کی گئی ہوں۔

نسیم رضا

نسیم رضا، اسلام آباد: جی ہاں یہ اقرارِ جرم ہے۔ برطانیہ سفارتی جرم کا مرتکب ہے۔ پاکستان کو یہ معاملہ اقوام متحدہ، دولت مشترکہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے سامنے پیش کرنے کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی اس صورت حال سے خبردار کر دینا چاہئے کیونکہ عین ممکن ہے کہ برطانیہ میں موجود ان ممالک کے سفارتخانوں میں بھی ایسی ہی کارروائیاں کی گئی ہوں۔

لیاقت علی، فیصل آباد: پاکستان کو اس غیر سفارتی برطانوی رویے کی پوچھ گچھ کرنے کا حق حاصل ہے اور اسے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔

دولت مشترکہ کی ناپسندیدہ شخصیت

 جس ملک کا صدر اپنے حکم نامے سے منتخب اسمبلی کے آگے کھڑے ہونے کی جرات نہیں کر سکتا وہ بھلا کسی دوسرے ملک کی حکومت سے جواب کیسے طلب کر سکتا ہے۔۔۔

گلاب عرف گلو بادشاہ

گلاب عرف گلو بادشاہ، ضلع چار سدہ: جس ملک کا صدر اپنے حکم نامے سے منتخب اسمبلی کے آگے کھڑے ہونے کی جرات نہیں کر سکتا وہ بھلا کسی دوسرے ملک کی حکومت سے جواب کیسے طلب کر سکتا ہے۔۔۔اور وہ بھی صدر جنرل پرویز مشرف جو دولت مشترکہ کی سب سے ناپسندیدہ شخصیت ہیں۔

مکروہ سفارتی قدم

 برطانیہ کی طرف سے اختیار کی گئی سرد مہری کی وجہ سے اسلام آباد اگر کوئی قدم اٹھاتا ہے تو وہ پاکستانی قوم کی حمایت سے پوری طرح آراستہ ہو گا۔

چوہدری اہتشام فیصل

چوہدری اہتشام فیصل، شارجہ: برطانوی وزیر کا اس واقعہ کو ’معمولی‘ قرار دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ برطانیہ اس قسم کی سرگرمیاں دیگر ممالک کے سفارتخانوں میں بھی کرتا آیا ہے۔ برطانیہ کی طرف سے اختیار کی گئی سرد مہری کی وجہ سے اسلام آباد اگر کوئی قدم اٹھاتا ہے تو وہ پاکستانی قوم کی حمایت سے پوری طرح آراستہ ہو گا۔ سفارتی حوالے سے یہ ایک مکروہ قدم تھا۔ اس لیے لندن کو خاموشی کے بجائے کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی یا کم از کم معذرت ہی کر لینی چاہئے۔

ہم سب ایک ہیں

 اگر برطانیہ نے جاسوسی کی ہے تو ہم کون سے نیک لوگ ہیں؟

سلیم کھٹانہ

سلیم کھٹانہ، اسلام آباد: اگر برطانیہ نے جاسوسی کی ہے تو ہم کون سے نیک لوگ ہیں؟ اسلام آباد کے ڈپلومیٹک اینکلیو میں خفیہ اداروں کی ایک فوج موجود ہے۔ لیکن بہرحال برطانیہ کو پاکستان سے معذرت کرنی چاہئے۔

یہ آبرو ریزی ہی تو ہے

 اگر برطانیہ تمام معاملے کی وضاحت نہیں کرتا اور برطانوی وزیر اعظم معذرت نہیں کرتے تو پاکستان کو برطانیہ سے تمام سفارتی تعلقات ختم کر لینے چاہئیں۔

عرفان قیوم

عرفان قیوم، امریکہ: اگر برطانیہ تمام معاملے کی وضاحت نہیں کرتا اور برطانوی وزیر اعظم معذرت نہیں کرتے تو پاکستان کو برطانیہ سے تمام سفارتی تعلقات ختم کر لینے چاہئیں۔ اس برطانوی کارروائی کو آبرو ریزی کے واقعہ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان نے نرمی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسے ایک زیادتی کے لیے تیار رہنا چاہئے۔

علی غیور، کوئٹہ: میرے خیال میں ہر ملک کے خفیہ ادارے دوسرے ممالک کے سفارتخانوں میں جاسوسی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پاکستانی حکومت بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہے لیکن وہ آئندہ ایسی کسی بھی کارروائی سے بچنے کے لیے ہی اس معاملے کو ہوا دے رہی ہے۔

اکرم رامے، ٹورانٹو: برطانوی حکومت اور وزیراعظم ٹونی بلیئر کو اس نازک معاملے کی وضاحت کرنی چاہئے۔

اعجاز چغتائی: پاکستان کو اپنے تمام خارجی معاملات کے سلسلے میں برطانیہ اور امریکہ سمیت دیگر ممالک خصوصاً بھارت سے متعلق ٹھوس موقف اپنانا چاہئے۔

سعید طاہر، برطانیہ: پاکستان کو اس پر سخت موقف اختیار کرنا چاہئے یہ اس کی عزت کا سوال ہے۔ اگر کوئی ملک یہ سمجھتا کہ چونکہ وہ بہت امیر ہے وہ بین الاقوامی قوانین کا پاس کئے بغیر کسی بھی غریب ملک کے سفارتی حقوق پامال کر سکتا ہے تو ہمیں ایسے دوست کی ضرورت نہیں ہے۔

لنکا گھر کا بھیدی ہی ڈھاتا ہے

 پوری برطانوی قوم کے لئے انتہائی شرمناک اور اخلاقی پستی کی بات ہے کہ وہ ایک اتحادی اور دوست کی جاسوسی کر رہے ہیں۔ ایک اور غور طلب بات یہ ہے کہ ان آلات کی تنصیب میں کوئی پاکستانی تو شامل نہیں جو سفارت خانے میں آستین کا سانپ بن کے بیٹھا

عنایت اللہ شاہ، نیویارک، امریکہ

عنایت اللہ شاہ، نیویارک، امریکہ: صدر مشرف کا یہ بیان کہ برطانیہ جواب دے صرف ایک پالیسی پیان ہے۔ اگر پاکستان کو اہمیت دی جاتی اور اس حکومت میں جرات ہوتی تو یہ واقعہ پاک برطانیہ تاریخ کا سب سے اہم واقعہ ہوتا لیکن پاکستانی حکومت میں اتنی اخلاقی جرات ہی نہیں کہ وہ احتجاج کرسکے اور صدر مشرف سے تو اس کی توقع کرنا ہی فضول ہے۔ اس کے ساتھ یہ برطانوی حکومت بلکہ پوری برطانوی قوم کے لئے انتہائی شرمناک اور اخلاقی پستی کی بات ہے کہ وہ ایک اتحادی اور دوست کی جاسوسی کر رہے ہیں۔ ایک اور غور طلب بات یہ ہے کہ ان آلات کی تنصیب میں کوئی پاکستانی تو شامل نہیں جو سفارت خانے میں آستین کا سانپ بن کے بیٹھا ہو کہ لنکا ہمیشہ گھر کا بھیدی ہی ڈھاتا ہے۔

یاسر نقوی، برطانیہ: یہ برطانیہ کا بہت غلط اقدام تھا، اسے فوراً معافی مانگنی چاہئے ورنہ پاکستان کو بھی سوچنا چاہئے۔ آخر ہر ملک کے ہائی کمشن کی کوئی عزت ہوتی ہے۔

پھرتے ہیں میر خوار

 پاکستان کی جاسوسی اچھی بات نہیں، برطانیہ معذرت کرے لیکن وہ پاکستان کو کسی کھاتے میں نہیں لکھتے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خواہ مخواہ کے بھائی بنے پھرتے ہیں۔

علی رضا علوی، پاکستان

علی رضا علوی، اسلام آباد، پاکستان: یوں تو ہر ملک سفارت خانوں کی آڑ میں جاسوسی کرتا ہے اور اس کی جاسوسی بھی کی جاتی ہے اور یہ جنیوا شنیوا معاہدے ڈرامہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی جاسوسی اچھی بات نہیں، برطانیہ معذرت کرے لیکن وہ پاکستان کو کسی کھاتے میں نہیں لکھتے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خواہ مخواہ کے بھائی بنے پھرتے ہیں۔

فرحان یونس خان، کراچی، پاکستان: جلد ہی یہ واقعہ بھی بھلا دیا جائے گا، ویسے بھی اب تو ہم لوگوں کو عادی ہو جانا چاہئے۔

حسیب خان، ملتان، پاکستان: ان کو تو چھوڑیئے، ہمیں شرم کیوں نہیں آتی۔ یہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے اگر ہم اس کا کچھ نہیں کر سکتے تو بات اٹھا کر اپنی پگڑی اچھالنا تو بند کر ہی سکتے ہیں۔ پرویز مشرف اپنے فوجی ہونے اور سیدھی بات کرنے کا ڈھنڈورا تو ہر وقت پیٹتے ہیں لیکن زور صرف اپنے عوام کو ہی دکھاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد