| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ جواب دے: جنرل مشرف
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے پہلی مرتبہ لندن میں واقع پاکستان ہائی کمیشن میں برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کی طرف سے ایک تعمیراتی کمپنی کے ذریعے جاسوسی کے آلات نصب کرانے کے قضیہ پر بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی بدستور خاموشی سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں تناؤ آ رہا ہے۔ ان کا یہ بیان برطانوی دفترِ خارجہ کے ایک وزیر مائیک اوبرائن سے بات چیت کے بعد سامنے آیا۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ انٹیلیجنس کے معاملات کے متعلق کوئی بیان نہیں دیتے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ معاملے کا جلد حل ہی مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کے لیئے بہتر ہو گا۔ اسلام آباد یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ کیا جاسوسی کے آلات نصب کرنے کا حکم وزیرِ داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ کی طرف سے آیا تھا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ برطانوی حکومت سے وضحات طلب کرنے کے علاوہ سفارت خانے کے حکام اپنے طور پر بھی ان خبروں کی تحقیق کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کی ایک خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ برطانوی خفیہ ادارے نے ایک تعمیراتی کمپنی کے ذریعے تقریباً دو سال قبل ایک ایشیائی ملک کے سفارت خانے میں جاسوسی کے آلات نصب کرائے تھے۔ تاہم شروع میں اس خبر میں ملک کی نشاندھی نہیں کی گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||