| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر: استصواب رائےکامطالبہ
صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ امن کی خاطر وہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کے پاکستان کے دیرینہ مطالبہ سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں اور یہ کہ پاکستان امن کے راستے پر آگے آدھی مسافت طے کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان کشمیر پر استصواب رائے سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ اگرچہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے حق میں ہیں تاہم اب وہ انہیں ایک طرف رکھ کر ’لچکدار اور جرآت مندانہ‘ اقدامات کے لئے تیار ہیں۔ بعد میں حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ جنرل مشرف کے بیان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ استصواب رائے کا مطالبہ ترک کیا جارہا ہے۔ حکومت کا ردعمل پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں: کیا آپ کشمیر پر استصواب رائے کے مطالبے سے دستبردار ہونے کی جنرل مشرف کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں عماد حیدر علی، پاکستان: میں صدر پرویز مشرف کے ہر فیصلے کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ اور دعاء کرتا ہوں کہ ان کی حکومت اپنی مدت پورا کرے۔
کبیر احمد، کشمیر، پاکستان: اقوام متحدہ کی قراردادیں بہت پہلے ہی فرسودہ ہوچکی ہیں۔ اس لئے کہ پاکستان نے بھی ہمیشہ ان قراردادوں کی حمایت کی ہے جن میں کشمیری قوم کے حق خودمختاری کو ختم کردیا گیا ہے۔ جبکہ کشمیری کسی ایسی قرارداد یا فیصلے کو نہیں مانتے جس میں ان کے حق آزادی کو محدود کردیا گیا ہو۔ کشمیری صرف خودمختاری کشمیر کے حصول کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ کشمیری کسی الحاق یا تقسیم کو نہ تو مانتے ہیں نہ ہی کسی بھی ایسے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔ کشمیریوں کے نزدیک مسئلہ کشمیر کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے، وہ ہے مکمل متحدہ خودمختار کشمیر۔ مشتاق احمد، ہانگ کانگ: میرے خیال میں صدر صاحب کوی کوئی ایسی بات نہیں کرنے چاہئے جس سے کشمیری عوام کو دکھ پہنچے۔ اس سے تو اچھا نواز شریف تھے۔ کل تک صدر صاحب عوام کو یہ کہہ کر بیوقوف بناتے رہے کہ نواز شریف پاکستان کو بیچتے تھے لیکن آج کیا ہورہا ہے؟ جب بھی امریکہ کہتا ہے صدر صاحب تسلیم کرلیتے ہیں۔ نوشین تبسم، کراچی: ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی اور صدر نہیں۔ نعمان رشید، کوپین ہاگین، ڈنمارک: میں سمجھتا ہوں کہ یہ جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ یہ بہت ہی اچھا فیصلہ ہے، جب تک انڈیا اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مانتا ہے اور کشمیر میں الیکشن منعقد ہوتے ہیں، پرامن طریقے سے اور بین الاقوامی نگرانوں کی موجودگی میں۔ عمران مرزا، کویت: یہ وہ سلسلہ ہے جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ میں اپنے صدر کی تجویز کی سو فیصد ہمایت کرتا ہوں۔ رابعہ نظیر، ناروے: ہاں! کیونکہ جو لوگ شہید ہوگئے وہ تو ہوگئے مگر جو لوگ زندہ ہیں ان کو تو سکون کی زندگی گزارنے کا حق ہے۔ اسد تحیم، میرپور ماتھیلو، پاکستان: مشرف صاحب پاکستان کے سپریم کمانڈر اور طاقتور رہنما ہیں۔ اگر یہ بیان کسی سندھی لیڈر نے دیے ہوتے تو وہ اس وقت جیل کے اندر اور اس کے اوپر غداری کا مقدمہ بن جاتا۔ خلیل اخون، بہاول نگر: اگرچہ اقوام متحدہ کی کشمیر کے بارے میں قراردادیں موجود ہیں مگر کیا اقوام متحدہ ان پر عمل کروا سکا ہے؟ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ جہاں بھی فلاح کا معاملہ ہوگا وہاں اقوام متحدہ خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔ اسفند آصفی، چکوال: اگر میں صدر کے بیان کو مثبت نقطۂ نظر سے دیکھوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر مشرف کا یہ بیان پاکستان کے حق میں بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ میں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ مجھے اس بات پر یقین ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں۔ صلاح الدین ایوبی، ورجینیا: یہ تمام مسلمان پاکستانیوں کے لئے انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کیونکہ آج صدر مشرف کشمیر سے متعلق پاکستان کے چھپن سالہ موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور کل وہ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے نام پر کشمیر کو بھی ہاتھ سے جانے دیں گے اور یہ ثابت کر دیں گے کہ وہ مسلمان مخالف قوتوں کے وفادار ہیں۔ جہاں عالم خان، پاکستان: میں صدر جنرل پرویز مشرف کی تجویز سے متفق نہیں کیونکہ یہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انتہائی گھٹیا موقف ہے۔
معین الدین حمید، سکاربورو: سابق وزیراعظم نواز شریف سے غیر آئینی طور پر اقتدار چھیننے کے بعد سے اب تک صدر جنرل پرویز مشرف نےکوئی بھی فیصلہ سمجھداری کی بنا پر نہیں کیا۔ البتہ کشمیر کے معاملے پر انہوں نے جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ کیونکہ کشمیر کے باعث اب تک دو جنگیں ہو چکی ہیں جن کا پاکستان کو کوئی فائدہ بھی نہیں ہوا۔ پاکستان اور بھارت کو امریکہ اور کینیڈا کی طرح رہنا چاہئے۔ یوسف خان، منگورہ: میرے خیال میں یہ صدر مشرف کا نہیں بلکہ صدر بش اور وزیراعظم واجپئی کا موقف ہے۔ میرے خیال میں اس طرح بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کو شکست دینے کو سب سے بڑا موقع مل جائے گا۔ نعیم اختر، کراچی: صدر جنرل پرویز مشرف ملک کی خاطر جو فیصلہ کریں گے اچھا ہی ہو گا کیونکہ ایک جنرل ملک کے لئے اچھا فیصلہ ہی کرے گا۔ میں اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتا ہوںگ بیسٹ آف لک۔۔۔ ذیشان اجمل، ملتان: صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ میر جعفر اور میر صادق جیسے لوگ ہی ان کے آیڈئل ہیں۔ محمد اکرام جمیل، جاپان: امریکہ انہی کاموں کے لئے تو جنرل مشرف کو آگے لایا تھا۔ پاکستانی عوام یکطرفہ فیصلہ قبول نہیں کریں گے۔ طاہر فاروق، پاکستان: امریکہ اس وقت پوری دنیا پر اپنی دھاک بیٹھا چکا ہے اس لئے اب وہی ہو گا جو امریکہ چاہے گا۔ عاطف سرور، پتوکی: ہمارے ملک کے صدر صاحب کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ کشمیر کے متعلق فیصلہ کریں۔ خواجہ حامد علی صوفی، باغ جموں کشمیر: ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ صدر مشرف اور پاکستان کے سربراہان کیا کر رہے ہیں۔ مشرف صاحب نے پہلے تو یہ کہا کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اس وقت تک کسی دوسرے معاملے پر بات چیت نہیں ہو گی لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے بس اور ایئر سروس کے علاوہ تجارتی تعلقات بھی استوار کر لئے جبکہ مسئلہ کشمیر وہیں کا وہیں ہے۔ کشمیر سے متعلق صدر کا حالیہ موقف قابلِ مذمت ہے۔ نوید، اسلام آباد، پاکستان: نہیں، ہرگز نہیں، جنرل صاحب کو اس طرح کی پیش کش کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ منصور ملک، کشمیر: جی ہاں عبدالعلیم، ساہیوال، پاکستان: لگتا ہے یہ بات کہتے ہوئے مشرف نے ان اسی ہزار کشمیری شہداء کے بارے میں نہیں سوچا۔ بھارت اس کا مثبت جواب نہیں دے گا۔ ثاقب محی الدین، اٹلانٹا، امریکہ: اب وقت آگیا ہے کہ ہم لوگ جاہلانہ فیصلے کرنے چھوڑیں اور دیکھیں کہ انسانیت کی فلاح کس میں ہے اور مذہب کیا کہتا ہے۔ ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام کا تعلق زمینی حدود سے کبھی نہیں رہا۔ کشمیر چاہے ہندوستان کا حصہ بنے، پاکستان کا یا علیحدہ مملک، اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزادی مذہب ملنی چاہئے اور زمین کے نام پر قتلِ عام بند ہونا چاہئے۔ زبیر راجہ، مظفرآباد، آزاد کشمیر: میرا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے یہ ایک اچھا قدم ہے۔ اسی طرح کے فیصلوں سے ہی مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ مختار احمد خان، کویت: مشرف صاحب ملکی کی بہتری کے لئے اچھے اقدامات کر رہے ہیں اور ہمیں ان کی حمایت کرنی چاہئے۔
عتیق زمان، ٹیکساس، امریکہ: یہ انتہائی جرات مندانہ اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے جو پرویز مشرف نے بھارت کے ستھ تعلقات مستحکم کرنے کے لیے کیا ہے۔ اعوامِ متحدہ کی قراردادیں پہلے ہی اپنے معنی کھو چکی ہیں اور کوئی ملک انہیں کبھی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہوا۔ اس کی سب سے بڑی مثال اسرائیل اور امریکہ ہیں۔ بہت سے لوگ مشرف کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں لیکن انہیں احساس ہونا چاہئے کہ ہمیں اس پچاس سال پرانے مسئلے کے حل کی طرف بڑھنا چاہئے جو کبھی حل نہیں ہو سکا۔ غلام مجتبیٰ، ٹیکسلا، پاکستان: صدر مشرف کا یہ دانشمندانہ اور جراتمندانہ فیصلہ ہے۔ اس سے حقیقت پسندانہ موقف پاکستانی حکومتوں نے گزشتہ چون برسوں میں کبھی نہیں کیا۔ اگر کشمیر مسئلہ حل ہوجائے تو جنوبی ایشیا اور دونوں ممالک کے بہتر ہوگا۔ سید فیصل، امریکہ: بہت اچھا! بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ فوج اس مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اس سے ان کی روزی روٹی چلتی ہے۔ اب جبکہ فوج اس مسئلے کا حل تلاش کررہی ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟ عامر وسیم، جرمنی: اس سے بری بات جنرل مشرف نہیں کہہ سکتے تھے۔ وہ جب اقتدار میں آئے تھے مجھے امید تھی کہ وہ کشمیر پالیسی پر اور سختی سے کام کریں گے۔ محمد حامد رشید، اوساکا، جاپان: بظاہر جنرل مشرف کی تجویز حقیقت پسندانہ لگتی ہے لیکن حتمی فیصلے سے پہلے ہندوستان کے ردعمل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پچاس برسوں کے بعد اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا جائے۔ فضل الرحمان جسوال، جرمنی: مشرف صاحب اقوام متحدہ کی قراردادوں سے دستربردار ہونے کی بات نہیں کہہ رہے ہیں، وہ صرف لچک کا مظاہرہ کرنے کی بات کہہ رہے ہیں جو کہ درست بات ہے۔ اکمل رامے، پاکستان: میرے خیال میں یہ فیصلہ بالکل ٹھیک ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کی ترقی ہوگی۔ ظہیر قریشی، میلان، اٹلی: جنرل مشرف جانتے ہیں کہ ماضی میں پھنسے رہنے سے کشمیر مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ چونکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں نے اس مسئلے کے حل میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے، تو ان کی ضرورت کیا ہے؟ صدر مشرف نے ایک حقیقت پسندانہ موقف کا ثبوت دیا ہے۔ کاشف نور، کراچی: میں صدر مشرف کے ساتھ ہوں کیونکہ ہم دونوں پڑوسی ایٹمی طاقت بھی ہیں جو کہ ایک خطرہ ہے۔ جنوبی ایشیا کے غریب لوگوں کے مفاد میں دونوں ملک لچک سے پیش آئیں۔ یوسف ملک، کویت: انہوں نے بہت صحیح فیصلہ کیا ہے کیونکہ کشمیری لوگ پاکستان کو پسند نہیں کرتے۔
سلمان، راولپنڈی: مشرف صاحب کی افغان پالیسی اور روشن خیالی میں یہ ممکن ہے کہ کشمیر مسئلے کا فیصلہ بھی اب امریکہ کے کہنے کے مطابق کرلیا جائے۔ مشرف صاحب کی بات سے پاکستانی قوم کا متفق ہونا یہ نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ محمد ثاقب احمد، بہار، انڈیا: مشرف صاحب کے حالیہ بیان سے میں بالکل متفق نہیں ہوں۔ وہ کون ہوتے ہیں فیصلہ کرنیوالے؟ ناظم سید، امریکہ: اقوام متحدہ کی قراردادیں عملی طور پر ناکام تھیں۔ اس لئے میں جنرل مشرف کے بیان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ہوں۔ پاکستان اور انڈیا میں عوام اور رہنما اس مسئلے کا حل دوطرفہ بات چیت کے ذریعے چاہتے ہیں لیکن کوئی مثبت راستہ تجویز نہیں کرتے۔ عوام کو چاہئے کہ وہ ایک عملی تجویز پیش کریں۔ اختر نواز، لاہور: ان کا بیان فلموں کا ڈائلاگ لگتا ہے۔ شجاع الدین، سیالکوٹ کینٹ: نہیں، ہم صدر مشرف کے فیصلے سے اتفاق نہیں رکھتے، کشمیر کا مسئلہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہی حل ہوسکتا ہے۔ زاہد بحری، دوبئی: اگر پچپن سال سے اس مسئلہ کا حل نہیں ہوسکا ہے تو اب صرف دس سے پندرہ فیص لوگ جنرل مشرف کی مخالفت کیوں کررہے ہیں؟ پاکستان کو پرویز مشرف پر فخر ہے، اور ملک سے باہر رہنے والے پاکستانی بھی ان پر فخر کرتے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو انہیں کی طرح سوچنا چاہئے تاکہ اس مسئلہ کا حل نکل سکے۔ محمد ذیشان، ملتان: ان فضول خیالات کا اظہار ایک فوجی آمر ہی کرسکتا ہے۔ ساجد علی بہرانی، کراچی: آخر کار فوج کو بھی سمجھ میں آہی گیا کہ اگر وہ کشمیر پر اپنے موقف میں لچک نہیں دکھائیں گے تو ملک کے مسائل میں اضافہ ہی ہوگا۔ ابھی پاکستان کو اقتصادی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اور صدر مشرف کا یہ اقدام صحیح ہے۔ عثمان صادق، ملتان: کشمیر پاکستان کے پندرہ کروڑ لوگوں کا مسئلہ ہے۔ جنرل مشرف کون ہوتے ہیں فیصلہ کرنے والے؟ یاسر ممتاز، رینالہ خرد، پاکستان: صدر صاحب یہ فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں؟
ڈاکٹر عارف چودھری، اسٹاک ہوم، سویڈین: یہ پاکستان کا موقف ہے۔ میں ایک کشمیری ہوں، میرے لئے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان صرف انہی قراردادوں مانتا رہا ہے جس میں صرف دو راستے ہیں۔ لیکن دنیا اور اب پاکستان نے یہ محسوس کرلیا ہے کہ ایک خودمختار کشمیر ہی واحد راستہ ہے۔ عطاءاللہ طاہر، اونٹاریو: یہ ایک اچھا فیصلہ ہے جو کہ بہت دیر بعد کیا گیا ہے۔ محمد موسیٰ شاکر، شیفِلڈ، انگلینڈ: میں پرویز مشرف کی رائے کے ساتھ متفق نہیں ہوں کیونکہ یہ پاکستان پچھلے پچپن سال کی قربانیوں کی بےقدری ہے۔ خرم جہانگیر، فیصل آباد: میرے خیال میں یہ صحیح فیصلہ ہے۔ عبداللہ، پشاور: یہ پرویز مشرف کا سب سے غیردانشمندانہ قدم ہے، مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے کیونکہ ہمارا دشمن بہت چالاک ہے، اس سے معاملہ نہیں ہوسکتا، اس کی نرم بات کا جواب یہ نہیں ہے۔ بلال مرزا، سوئٹزرلینڈ: ایسا بالکل نہیں ہونا چاہئے۔ ندیم اللہ خان، کراچی: میں جنرل پرویز مشرف کے فیصلے کی حمایت کرتا ہوں کیونکہ پاکستان میں شدت پسند غلط کررہے ہیں۔ عمران میر، جنوبی افریقہ: ایسے حکمرانوں سے ایسی ہی توقع کی جاسکتی ہے۔ نفیس خان، کینیڈا: بالکل درست فیصلہ ہے، میں صدر صاحب کے فیصلے کی حمایت کرتا ہوں۔ سلمان خان، کراچی: سیاسی بیان ہے، اور کچھ نہیں۔ انور احمد، پشاور: پاکستانی قیادت کو معلوم تھا کہ کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل نہیں ہوسکتا۔ بینظر بھٹو اور نواز شریف نے اسے پہلے ہی سمجھ لیا تھا۔ جنرل مشرف صحیح سمت میں سوچ رہے ہیں۔ عمران بٹ، ٹورانٹو: جنرل صاحب نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان ہجرت کرنے کے باوجود ابھی بھی وہ دلی طور پر ہندوستانی ہی ہیں۔ خالد خان، کشمیر، پاکستان: میں جنرل پرویز مشرف کے حق میں نہوں ہوں۔ ناظم شیخ، ملتان: مجھے یقین نہیں آتا۔ امین شریف، ڈنمارک: پاکستان اور انڈیا کی سلامتی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ایک قدم آگے جائیں اور انڈیا کو بھی ایک قدم آگے آنے کا موقع دیں۔ طارق نسیم، کینیڈا: یہ جرات مندانہ اقدام نہیں ہے۔ محمد اکرم رامے، ٹورانٹو، کینیڈا: جنرل پرویز مشرف سو فیصد صحیح ہیں۔ یہ دونوں ملکوں کی معیشتوں کے لئے بہتر ہوگا اور جنگ کے خدشات نہیں رہیں گے، معصوم لوگوں کا قتل نہیں ہوگا۔
کالا خان، گوادر، بلوچستان: صدر مشرف کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کشمیری عوام کی خواہیش کے خلاف کوئی رائے دیں۔ اگر پاکستان استصواب رائے سے دستبردار ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان نے کشمیر پر انڈیا کا حق تسلیم کرلیا۔ سید خالد حسین، حیدرآباد، پاکستان: جی ہاں بالکل، میں صدر مشرف کی تجویز کی حمایت کرتا ہوں کیونکہ کشمیر کا مسئلہ لچکدار رویے سے ہی حل ہوسکتا ہے۔ صدر مشرف صاحب کی یہ پیشکش تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھی جائے گی۔ عبدالخان، میریلینڈ، امریکہ: بہت اچھی بات ہے۔ شاہد امین، بہاولپور: جناب صدر صاحب، آپ نے ہمیں مایوس کردیا ہے۔ آپ کو اس بیان کے ساتھ کوئی فارمولا بھی پیش کرنا چاہئے تھا جس کے ذریعے کشمیر آزاد ہوگا۔ جاوید خان، اونٹاریو، کینیڈا: جنرل مشرف صحیح سمت میں سوچ رہے ہیں۔ خطے میں قیام امن کی خاطر ہمیں اس طرح کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ امجد خان، قبرص: میں جنرل مشرف کی اس پیش کش کی مذمت کرتا ہوں کیونکہ یہ کشمیریوں کے ساتھ بغاوت ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ عاصم محمود مرزا، گجرات، پاکستان: انڈیا ناقابل اعتماد ملک ہے، اس کو ایسی ڈھیل بالکل نہیں دینی چاہئے جس سے وہ ناجائز فائدہ اٹھا جائے۔ اس سے پہلے وزیراعظم ظفراللہ خان جمالی نے لائن آف کنٹرول پر فائربندی شروع کی جس کا جواب انڈیا نے بار لگاکر دیا۔ توصیف رحمان، شارجہ: پاکستانی صدر نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ہندوستان سے دوستی کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں اور اب ہندوستان کو اس کا مثبت جواب دینا ہے۔ امید ہے کہ ہندوستان اس نادر موقع کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔ محمد یوسف کیانی، سائتاما کین، جاپان: میرے خیال میں جنرل پرویز مشرف کا یہ فیصلہ بہت صحیح ہے، بہت دوررس نتائج ہوں گے اور دونوں ملکوں کے عوام کی قسمت بدلی ہے۔۔۔ صلاح الدین لنگا، جرمنی: میں اور میری اوقات کیا۔ فیصلہ تو پہلے ہی ہوچکا ہے۔ اب رائے دینے سے کیا فرق پڑتا ہے؟
علی رضا علوی، اسلام آباد: کشمیر کے باعث ہماری تین نسلیں بھوکی مرگئیں اور جرنیل ارب پتی ہوگئے۔ شکر ہے کہ اب پرویز مشرف، اپنے امریکہ کے کہنے پر ہی صحیح، کچھ کرنے کو تیار ہوگئے ہیں۔ لیکن ڈر لگتا ہے کہ یہاں عملی طور پر کچھ کرنے کے بجائے صرف میڈیا کے لئے بیانات دیے جاتے ہیں لیکن پھر جھڑپیں اور تشدد ہوجاتے ہیں اور بات وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ اگر فوج کم ہوگی تو دفاعی بجٹ کم ہوگا، اور انشاء اللہ غربت کم ہوگی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انڈیا بھی تو ایمانداری کا مظاہرہ کرے۔ ظفر شیخ، نیویارک، امریکہ: کشمیر کے مسئلہ پر جنرل پرویز مشرف انڈیا کے مفاد میں کام کررہے ہیں اور کشمیر میں مسلمانوں کو دبانے کے لئے غیرمسلموں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ عمر فاروق رانا، لاہور: جنرل مشرف بالکل صحیح کررہے ہیں۔ وہ ایک ذہین اور سمجھ دار رہنما ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کو اپنی ضد سے ہٹنا پڑے گا اور کوئی درمیانی راستہ نکالنا ہوگا۔ ورنہ نقصان تو بےچارے کشمیریوں کا ہی ہورہا ہے، ان کا بھلا اب اسی میں ہے کہ اب کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہئے۔ ابرار احمد، بالٹی مور، امریکہ: اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے کشمیریوں کے پیدائشی حق پر جنرل پرویز مشرف فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ ان کشمیری خاندانوں کی حالت دیکھیں جو کشمیر میں کئی دہائیوں سے لائن آف کنٹرول کی وجہ سے تقسیم ہوگئے ہیں۔ کشمیر ان لوگوں کا ہے، غیرتقسیم شدہ، برصغیر میں امن کی خاطر ان کا حق ملنا چاہئے۔ یہ ایک المیہ ہی ہے کہ ایک ایسے وقت جب امریکہ کی سابِق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ کشمیریوں کے لئے حقِ استصواب رائے کی حمایت کرنے لگی ہیں تو حکومتِ پاکستان اس مطالبے سے دستبردار ہورہی ہے۔ یعقوب خان، ٹانگے والا، پاکستان: شہیدوں کے ساتھ غداری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||