BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 December, 2003, 10:06 GMT 15:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مطالبہ ترک نہیں کیا: پاکستان
سرحدوں پر باڑ کے متعلق دہلی بدستور اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے
ہندوستان کا ردِ عمل محتاط ہے

پاکستان میں سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ صدر مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے استصوابِ رائے کا مطالبہ بالکل ترک کرنے کی بات نہیں کی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید نے کہا کہ صدر مشرف نے استصوابِ رائے کے مطالبے کو چھوڑنے کی بات نہیں کی بلکہ انہوں نے کہا کہ وہ اس کے متبادل طریقے کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں۔

شیخ رشید نے یہ دوہرایا کہ پاکستان کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر کھلے دل سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔

دوسری طرف پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ صدر مشرف کے انٹرویو کو اصلی سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر کے بیان کے مطابق مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیئے اور اگر پاکستان اور بھارت اسے حل کرنا چاہتے ہیں تو دونوں کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

ترجمان کے مطابق صدر مشرف نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کو اپنے موقف سے ہٹ کر کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزیدکہا کہ صدر کا مطلب یہ تھا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں ہوا، ان کا یہ مقصد ہر گز نہیں تھا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر اپنا مطالبہ ترک کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد